Daily Mashriq

فضا نہیں ہے ابھی کھل کے بات کرنے کی

فضا نہیں ہے ابھی کھل کے بات کرنے کی

اس مرتبہ بلاتمہید قارئین کے برقی پیغامات سے آغاز کرتی ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ مسائل ومطالبات کھپ جائیں۔ وانا جو کبھی دہشتگردوں کا مرکز تھا اب وہاں سے شعور وآگہی میں اضافے کی کالیں آنے لگی ہیں۔ وانا سے حافظ پیرزادہ بھائی نے ٹیلی فون کرکے اس امر پر توجہ مبذول کرانے کا کہا ہے کہ وانا کے آس پاس اور سرحد کے اس پار ایسے ریڈیو سٹیشنز فعال ہیں جو ہمارے ملک‘ علاقے اور نظرئیے کیخلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیںجس سے سادہ لوح قبائلی بھائیوں کا متاثر ہونا فطری امر ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ تصویر کا حقیقی رخ دکھانے کا کوئی بندوبست نہیں۔ قومی بیانیہ اور قوم کی آواز بلند کرنے کے ذرائع پر توجہ دینا تو درکنار پہلے سے موجود موثر آوازوں اور شعور وآگہی پھیلانے والے ذرائع کا بھی گلہ گھونٹ دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ قبل ازیں ساؤتھ وزیرستان‘ نارتھ وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں 2004ء سے شعور وآگہی کے واحد سہل اور علاقے کے عوام تک رسائی وفہم ودانش کا ساماں کرنے کے ذرائع کے طور پر ریڈیو سٹیشنز کام کر رہے تھے جس سے علاقے کے عوام کو جہاں تفریح کی سہولیات میسر تھیں وہاں ان کے شعور وآگہی اور باخبر رہنے کا بخوبی اہتمام بھی تھا لیکن 2009ء میں وانا میں قائم ریڈیو سٹیشن کو اُڑا دیاگیا۔ رزمک میں مئی 2013ء تک متبادل انتظام کے بعد فنڈز کی کمی کی بناء پر اسے بھی بند کر دیا گیا۔ جمرود میں قائم ریڈیو کا بھی یہی حال ہوا اور اب ان علاقوں میں سرحد پار سے غیر ملکی پروپیگنڈے پر مبنی ریڈیو ہی سنی جاتی ہے ان علاقوں میں بجلی‘ انٹرنیٹ‘ سیلولر فونز کا تصور ہی نہیں، اخبارات ورسائل کا لوگوں نے صرف نام ہی سنا ہوتا ہے، بھائی حافظ پیرزادہ واقعی یہ نہایت اہم اور نازک مسائل ہیں، فاٹا سیکرٹریٹ میں جہاں جعلی اور کاغذی منصوبے بنا کر کروڑوں ہڑپ کئے جاتے ہیں اور گھوسٹ ملازمین کی بھرمار ہے، اس طرف توجہ کی فاٹا سیکرٹریٹ کے حکام سے تو توقع نہیں، گورنر خیبر پختونخوا اور علاقے کی سلامتی وتحفظ کیلئے کوشاں اداروں کو اس صورتحال پر فوری توجہ مبذول کرنیکی ضرورت ہے کیونکہ تین ریڈیو سٹیشنز کی بحالی پر کروڑوں کے مصارف تو آئینگے نہیں۔

اتفاق سے یہ دوسرا برقی پیغام بھی فاٹا ہی کے ایک نوجوان محمد خان آف باجوڑ ایجنسی کا ہے۔ یہ مسئلہ بھی پہلے مسئلے سے کچھ ملتا جلتا ہے وہ یوں کہ فاٹا میں موبائل نیٹ ٹوجی، تھری جی پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ بعض ایجنسیوں میں موبائل نیٹ ورک پر بھی سرے سے پابندی ہے گوکہ میرے مخاطب اسے قبائلی نوجوانوں اور قبائل سے امتیازی سلوک گردانتے ہیں۔ ان کو ایسا کرنے کا حق حاصل ہے لیکن میرے خیال میں ساری مجبوریاں قبائلی عوام ہی کی نہیں کچھ مجبوریاں حکومت وریاست کی بھی ہوتی ہیں۔ میری دعا ہے کہ حالات جلد سے جلد اتنے اچھے اور قابل اعتماد ہوجائیں کہ قبائلی علاقوں میں بندش پر مبنی کسی بھی اقدام کی ضرورت نہ پڑے۔ خیبر ایجنسی سے میرے ایک چھوٹے بھائی کا ایک غصے بھرا برقی پیغام ملا تھا جس میں ان کو فاٹا کے مسائل ومعاملات کالم میں شامل نہ کرنیکا شدید غصہ تھا۔ اُمید ہے ان دو پیغامات کے بعد ان کو اس بات کا احساس ہوگیا ہوگا کہ میں ایک ایسی پاکستانی ہوں جس کیلئے کراچی سے باجوڑ‘ بولان سے چترال تک سارے ہم وطن یکساں طور پرقابل احترام ہیں۔
بنوں سے فرسٹ ایئر کے طالب علم اشتیاق اظہر نے اس امر کی جانب توجہ دلائی ہے کہ پری میڈیکل درس کی کتابوں سمیت دیگر درسی کتب میں بے شمار غلطیاں ہیں، خراب چھپائی کے باعث کتابیں ٹھیک سے پڑھی بھی نہیں جاسکتیں، کتابوں میں بعض موضوعات کی سرے سے ضرورت نہیں اور نہ ہی اساتذہ یہ سبجیکٹ پڑھاتے ہیں، ان کے خیال میں یہ موضوعات انٹری ٹیسٹ میں طالبعلموں کو خواہ مخواہ مشکلات سے دوچار کرنے کیلئے شامل کی جاتی ہیں۔ برخوردار کا مسئلہ اور ان کی سوچ دونوں سامنے ہیں، ان سے اتفاق وعدم اتفاق کی ذمہ داری میں اساتذہ کرام اور ٹیکسٹ بک بورڈ والوں پر چھوڑتی ہوں۔ ان کے احساسات کو سمجھنے اور ان کی غلط فہمی دور کرنے کی بہرحال ضرورت ہے۔
ایک برقی پیغام یہ ملا ہے کہ کتابوں کی اہمیت کے بارے میں کوئی بات لکھ دی جائے۔ کتابوں اور کتب بینی پر تو روز ایک کالم ہونا چاہئے اور کتب بینی کے فروغ کیلئے تو قومی مہم کی ضرورت ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور اب کتابوں کی قدر وقیمت یہ رہ گئی ہے کہ فٹ پاتھوں پر نادر کتب ردی کے مول بکتی ہیں، میں اپنے نوجوانوں سے کہوں گی کہ بڑوں نے ناقدری کرکے کتابوں کو فٹ پاتھوں پر ڈال دیا۔ شیشے کے شوکیسوں کے سامنے فٹ پاتھ پر مشاہیر کے نادر کتب اور علمی مطبوعات دیکھ کر دل بہت دکھی ہوتا ہے۔ اگر میرے نوجوان چاہیں اور سمجھیں تو خرابی کی اس صورت میں ان کیلئے بہت زیادہ فائدہ اس طرح پوشیدہ ہے کہ وہ ہزاروں کی کتاب سو پچاس روپے میں لے کر پڑھ سکتے ہیں اور اس شدید ناقدری کو قدردانی میں بدل کر اپنی علمیت میں اضافہ اور شوق مطالعہ کی تسکین کرسکتے ہیں۔
فضا نہیں ہے ابھی کھل کے بات کرنے کی
بدل رہے ہیں زمانہ کو ہم اشاروں سے
میرے نوجوانو آؤ مجھ سے وعدہ کرو کہ آپ ان کتابوں کی ناقدری نہیں کرینگے، میں خود بھی کوشش کرتی رہتی ہوں کہ کتابوں سے اپنے عشق کو کمزور نہ پڑھنے دوں، سرکاری ملازمت، بچوں اور عزیزداری کے باوجود میں کتب ورسائل کے مطالعہ کیلئے وقت ضرور نکالتی ہوں آپ پہلے نصاب کی کتابیں پوری انہماک سے پڑھیں اور فارغ وقت مل جائے تو دین ومذہب اور لٹریچر کا مطالعہ کریں اور چھٹیوں میں ضرور ایسا کریں، صحت مند سرگرمیوں پر توجہ دیں تو صحت مند بھی رہیں گے اور خردمند بھی ہوں گے۔ میری دعائیں آپ کیساتھ۔

اداریہ