Daily Mashriq


مالدیپ بھارتی سازشوں کا نیا شکار

مالدیپ بھارتی سازشوں کا نیا شکار

مؤف سے اختلاف کرنیوالی حکومتوں کی تبدیلی امریکہ کا مرغوب مشغلہ رہا ہے۔ یہ الگ بات کہ کبھی تبدیلی کی کوشش کامیابی سے دوچار ہوتی رہی اور کبھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران ان سخت جان ملکوں میں شامل ہے جہاں حکومت کی تبدیلی کی امریکی خواہش دہائیوں سے پوری نہیں ہو رہی۔ ترکی بھی اب اس خواہش کی تکمیل کیلئے قطعی غیر موافق ملک بنتا جا رہا ہے، بالخصوص فوج کے ایک ٹولے کی طرف سے بغاوت کی کوشش کی ناکامی نے ترکی کو مزید سخت جان بنا دیا ہے۔ لیبیا اور عراق کے حکمران اور نظام اس حوالے سے خاصے مضبوط دکھائی دیتے رہے مگر براہ راست مداخلت سے ان ملکوں کو بھی آخرکار ڈھیر کر دیا اور امریکہ ان ملکوں میں اپنی پسند کا نظام اور افراد آگے لانے میں کامیاب ہوا۔ جب سے امریکہ اور بھارت کی سٹریٹجک پارٹنرشپ شروع ہوئی امریکہ نے بھارت کو جنوبی ایشیاء کی حد تک یہی کردار دینے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس سٹریٹجک پارٹنرشپ کا مطلب ہی دونوں جنوبی ایشیاء بلکہ اس کی حدود سے باہر بھارت کو پولیس مین کا رول دینا ہے چونکہ بھارت کو گھر میں ہی دو اہم ملکوں یعنی چین اور پاکستان سے مخاصمت کا سامنا ہے اسلئے وہ پوری طرح کامیاب نہیں ہو رہا اور یوں ایک کشیدگی اور سرد جنگ کا ماحول غالب آرہا ہے۔ بھارت اپنی متنازعہ حیثیت کے باجود علاقے کے ممالک میں اپنی لابیاں پیدا کر کے درحقیقت ان ملکوں میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ اس مہم جوئی کا تازہ شکار مالدیپ ہے۔ مالدیپ پانیوں میں گھرا جنوبی ایشیاء کا ایک چھوٹا سا مسلمان اکثریتی ملک ہے۔ یہ سارک تنظیم کا ایک فعال رکن بھی ہے۔ مالدیپ میں ان دنوں اچانک سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ صدر یامین نے اچانک مالدیپ کے چیف جسٹس عبداللہ سعید کو برطرف کرکے نظر بند کر دیا۔ جس کے بعد امریکہ، برطانیہ اور بھارت نے مالدیپ پر چیف جسٹس کی رہائی اور بحالی کا دبائو بڑھا دیا ہے۔ چیف جسٹس سابق صدر قیوم محمد نشید کے مقرر کردہ تھے جس کو بھارت اور امریکہ نواز سمجھا جاتا ہے اور2013ء کے انتخابات میں شکست کھا چکے ہیں۔ موجودہ صدر یامین علاقائی سیاست میں چین اور پاکستان کے قریب سمجھے جاتے ہیں، اسی لئے چیف جسٹس کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونیوالے بحران کے بعد صدر یامین نے اپنے خصوصی نمائندوں کو پاکستان، چین اور سعودی عرب کے دورے پر بھیجا ہے۔ امریکہ اور بھارت چیف جسٹس سے کوئی مہم جوئی کروا کر مالدیپ میں طاقت اور حالات کا پانسا پلٹنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے صدر یامین نے انہیں برطرف کر دیا۔ اس سے پہلے سری لنکا میں مہندہ راجا پکاسا کیخلاف ایسے ہی حالات پیدا کرکے انہیں اقتدار سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔ بھارت سر ی لنکا کے بعد مالدیپ کی مسند اقتدار پر ’’رجیم چینج‘‘ کے نام پر ’’اپنا بندہ‘‘ بٹھانا چاہتا ہے۔ بھارت کی ہمسایہ ملکوں میں اپنے بندے اوپر لانے کی یہ مہم جوئی جنوبی ایشیاء کے تمام ملکوں میں کسی نہ کسی انداز سے جاری ہے۔ ان کی قریب ترین سیاسی حریف خالدہ ضیاء کو نشان عبرت بنا ڈالا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مداخلت مختلف انداز میں جاری ہے۔ بھارت کی اس مہم جوئی کے ڈانڈے امریکہ کے عالمی اور علاقائی عزائم سے جا ملتے ہیں۔ بھارت اس خطے میں امریکہ کی سرپرستی میں چین کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ بھارت اگر خود کو ہر میدان میں مقابلہ کرنے کا اہل بھی نہ سمجھے پھر بھی امریکہ اس کے غبارے میں ہوا بھر رہا ہے۔ امریکہ اور بھارت ایسے جزیروں کی ایک زنجیر بنا رہے ہیں جنہیں وہ اپنے اڈوں کے طور پر استعمال کرنے کیساتھ ساتھ چین کے تجارتی قافلوں اور آبدوزوں پر نظر رکھنے کیلئے بھی استعمال کرے۔ اسی لئے امریکہ اور بھارت جنوبی ایشیاء کے تمام ملکوں میں اپنے پٹھو حکمران مسلط کرناچاہتا ہے۔ ایسے تابع مہمل حکمران جو امریکہ اور بھارت کے آگے روبوٹس کا کردار ادا کریں۔ اسی لئے جنوبی ایشیائی ملکوں میں سیاسی کشمکش کو ہوا بھی دی جا رہی اور بحران بھی کھڑے کئے جا رہے ہیں ۔ پاکستان کے موجودہ حالات کا تعلق بھی کہیں نہ کہیں اسی سوچ اور حکمت عملی سے ملتا ہے۔ افغانستان میں ہونیوالی ساری مارا ماری کے پیچھے بھی بھارت اور امریکہ کی یہی حکمت عملی ہے۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی جیسے من پسند کرداروں کو آگے بڑھا کرکشمکش کو ہوا دی گئی ہے۔ یہ کردار کسی مقبول سوچ کے ترجمان نہیں بلکہ بون کانفرنس میں جنم لینے والے ایک بند کمرہ اجلاس کا نتیجہ ہیں۔ بھارت کی خواہش کے آگے سب سے طاقتور ملک کے طور پر صرف پاکستان ہی کھڑا ہے۔ اس وقت پاکستان پورے جنوبی ایشیاء کے تحفظ اور اقتدار اعلیٰ کی جنگ لڑ رہا ہے۔ مہا بھارت اور اکھنڈ بھارت کے خواب یکطرفہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں اور پاکستان ان خوابوں کے آگے سپیڈ بریکر کے طور پر کام کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش، سری لنکا کے بعد مالدیپ کے سیاسی بحران کی ڈور کا سرا بھی دہلی سے برآمد ہونا انہی عزائم اور ارادوں کا عکاس ہے۔

متعلقہ خبریں