مشرقیات

مشرقیات

حضرت نظام الدین اولیاؒ کے دوسرے استاد مولانا کمال الدین زاہدؒ تھے جن سے آپ نے علم حدیث حاصل کیا۔ مولانا کمال الدینؒ کا وصف امتیازی یہ تھا کہ آپ دنیوی علوم کے ساتھ مذہبی علوم میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ لیکن جس چیز نے آپ کو زیادہ محترم بنایا وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عشق تھا۔ اسی عشق کے زیر اثر مولانا کمال الدین زاہدؒ نے علم حدیث حاصل کیا اور دنیا سے بے نیاز ہوگئے۔ سلطان غیاث الدین بلبن نے آپ کے زہد و تقویٰ کے بارے میں سنا اور ملاقات کا شوق ظاہر کرتے ہوئے ایک خط تحریر کیا۔’’اگر آپ کسی دن دربار شاہی کو رونق بخشیں تو میں اسے اپنی سعادت سمجھوںگا‘‘۔دوسرے دن مولانا کمال الدین زاہدؒ دربار سلطانی میں اس طرح تشریف لائے جیسے وہ کسی فرمانروا کا محل نہیں کوئی عام گزر گاہ ہو۔ مولانا کے چہرے پر بے زاری کے آثار صاف نمایاں تھے مگر آپ نے سلطان کے احترام میں کوئی کمی نہیں کی۔غیاث الدین بلبن مولانا کے انداز گفتگو سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے اس مرد پرہیزگار کے بارے میں جیسا سنا تھا‘ ویسا ہی اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ کچھ دیر تک فرمانروائے ہند مولانا سے رسمی بات چیت کرتا رہا۔ پھر اس نے نیاز مندانہ لہجے میں اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ’’میں چاہتا ہوں کہ آپ ہماری امامت قبول فرمالیں‘‘’’اس سے آپ کو کیا حاصل ہوگا؟‘‘ مولانا کمال الدین زاہدؒ نے والی ہندوستان سے پوچھا۔’’آپ جیسے متقی انسان کی امامت کے طفیل ہماری نمازیں بھی قبول ہوجائیںگی‘‘۔سلطان غیاث الدین بلبن نے کہا۔امام ابوزرعہؒ مشہورجلیل القدرمحدث ہیں وہ تیسری صدی ہجری میں پہلے شام اور پھر مصر کے قاضی بھی رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے شافعی عالم ہیں جن کو قضاء کا منصب تفویض کیاگیا اور شام میں انہی کے ذریعہ شافعی مسلک کی نشر و اشاعت ہوئی۔وہ اتنے رقیق القلب تھے کہ ایک مرتبہ ان کے سامنے ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ فلاں شخص پر میری اتنی رقم واجب ہے ۔انہوںنے مدعا علیہ کو بلاکر پوچھا تو اس نے اقرار کرلیا۔ آپ نے مدعی کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے مدعا علیہ کو حکم دیا کہ ’’مدعی کی رقم ادا کردو‘‘ اس پر مدعا علیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ٗامام ابوزرعہؒنے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ ’’میں جھوٹ تو بول نہیں سکتا تھا اس لئے اقرار کیلئے مجبور تھا لیکن میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں قرض ادا کرسکوں لہٰذا آپ مجھے جیل بھیج دیجئے‘‘۔ امام ابوزرعہؒ نے یہ سن کر مدعی کو بلایا اور قرض کی رقم اپنے پاس سے اس کو ادا کی اور مدعا علیہ کو چھوڑ دیا۔اس واقعے کی شہرت ہوئی تو لوگوں نے یہ وتیرہ بنالیا کہ وہ اپنے خلاف قرض کا اقرار کرتے اور جب ادائیگی کا حکم سنتے تو اپنی مفلسی کا عذر پیش کرکے رو پڑتے اور قیدخانے میں جانے پر آمادگی ظاہر کردیتے لیکن یہ جاننے کے باوجود کہ بعض لوگ حیلہ کرنے لگے ہیں امام ابوزرعہؒ نے اپنا طریقہ نہیں بدلا اور آخر تک یہی معمول رہا کہ ایسی صورت میں رقم اپنی جیب سے ادا کرکے مدعا علیہ کو قید سے بچا لیتے تھے۔(رفع الاصر قضاۃ مصر ص119 وکتاب القضاہ للکندی ص 522)

اداریہ