Daily Mashriq


نااہلی مدت کیس کی سماعت،سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

نااہلی مدت کیس کی سماعت،سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

ویب ڈیسک:سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیلئے 13درخواستوں پر سماعت کے دوران دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجربنچ نے کی،سپریم کورٹ کی جانب سے اٹارنی جنرل کو گزشتہ سماعت کے دوران غیر حاضری پر 20ہزار روپے جرمانہ کیا تھا۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف آج عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی دلائل دیں، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل میں کہا کہ 62 (ون) ایف پر نااہلی کی مدت کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، آرٹیکل 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا تاہم سوال یہ ہے کہ نااہلی کی مدت کا اختتام کیسے ہوگا، کیا نااہلی کا داغ غیر امین اور غیر ایماندار شخص کے بعد بھی رہے گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ جب آئین میں مدت کا تعین نہیں تو نااہلی تاحیات ہوگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو حل کرنا چاہیے، اس مقدمے میں سوال نااہلی کی مدت کا ہے، آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف میں مدت کا تعین نہیں کیا گیا، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ نااہلی کا داغ مجاز فورم یا مجاز عدالت ہی ختم کرسکتی ہے جب کہ نااہل کا داغ ختم ہوئے بغیر نااہلی تاحیات ہی رہے گی۔

 اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا، جو بعد میں سنایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں