اسرائیلی وزیر اعظم کیخلاف کرپشن الزامات میں گھیرا تنگ

اسرائیلی وزیر اعظم کیخلاف کرپشن الزامات میں گھیرا تنگ

ویب ڈیسک:اسرائیلی پولیس نے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو پر کرپشن کے 2 مقدمات میں فرد جرم عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے 2 مقدمات میں پولیس نے تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور اس حوالے سے رپورٹ اٹارنی جنرل کو ارسال کردی ہے  جس میں ان پر فرد جرم عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف رشوت لینے سمیت فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے جیسے جرائم کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جو فرد جرم کے لئے کافی ہیں۔پولیس رپورٹ پر اٹارنی جنرل کو کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار حاصل ہے جب کہ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کے خلاف سفارشات کا جائزہ لینا شروع کردیاہے۔وزیراعظم نیتن یاہو کو دو مختلف مقدمات کا سامنا ہے جس میں پہلے مقدمے میں سیاسی فوائد دے کر امیر تاجروں سے قیمتی تحائف لینے اور دوسرے مقدمے میں ایک اخبار کے ساتھ ان کی نمایاں اور مثبت کوریج کے لئے معاہدہ کرنا شامل ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقتدار میں رہنے کی کوشش کریں گے اور پولیس کی جانب سے فرد جرم کی سفارش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ادھر اپوزیشن نے وزیراعظم نیتن یاہو سے استعفے کا مطالبہ کردیاہے، لیبر پارٹی کے رہنما ایو گیبے کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی اتحادی جماعتوں کو پولیس کی سفارشات کے بعد وزیراعظم یا قانون کی بالادستی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔وزیر خزانہ موشی کہلون نے زور دیا ہے کہ پولیس پر حملے نہیں کرنے چاہییں اور نظام قانون کو کسی بھی دباؤ کے بغیر کام کرنا چاہیے، کولانو پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ کی جماعت وزیراعظم کی اتحادی ہونے کے ساتھ ساتھ شدید ناقد بھی ہے۔

دنیا