Daily Mashriq

عوام کا غم کھانے والوں کا اصل چہرہ

تحریک انصاف حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے باوجود صوبائی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان تنخواہوں میں اضافہ کے معاملے پر یک زباں ہو گئے۔ سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی نے ارکان صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کیلئے کمیٹی بنانے کا اعلان کر دیا۔ گزشتہ روز متحدہ مجلس عمل کے مولانا لطف الرحمن نے تجویز دی کہ وزراء کو فرنیچر کی خریداری کیلئے مختص فنڈ میں 5لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا حکومت کو چاہئے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی ارکان کی بلوچستان اور دیگر اسمبلی کی طرح تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے۔ اپوزیشن کی جانب سے تنخواہوں میں اضافہ کی تجویز سامنے آنے کیساتھ ہی صوبائی وزیرقانون سلطان محمد خان نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ بیچارے ایم پی ایز سب سے زیادہ کام کرنے والے لوگ ہوتے ہیں، گلی کوچے کی پختگی اور ٹرانسفارمر سے لیکر فاتحہ خوانی اور اسمبلی میں شرکت کیلئے ایم پی ایز محنت اور لگن سے دلچسپی لیتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ایم پی ایز کو کاموں کی بدولت معاوضہ دیا جائے اور تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے۔ سپیکر نے حصہ لیتے ہوئے تائید کی کہ ایم پی ایز کی تنخواہوں میں اضافہ کیلئے کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جو وفاق اور دیگر تین صوبائی اسمبلی کے ایم پی ایز کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کا جائزہ لے سکے اور اس کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کے ایم پی ایز کی تنخواہوں اور مراعات میں مناسب اضافہ کیا جائے گا۔ متحدہ مجلس عمل کے ممبر صوبائی اسمبلی اور تحریک انصاف کے بدترین ناقد کے بھائی مولانا لطف الرحمن کی تجویز پر وزراء اور اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر صوبائی وزیرقانون کی بلا چوں وچراں تائید اور سپیکر کی جانب سے مطالبے پر مہر تصدیق ثبت کرنے میں ذرا تامل کا مظاہرہ نہ کرنا لقمہ بناتے وقت چھوٹی بڑی انگلیوں کے ایک برابر آنے کا عین مصداق ہے اس تجویز کی تائید میں تحریک انصاف کے ممبران نے ذرا بھی نہ سوچا کہ ایم ایم اے کے ایک قائد کے تحریک انصاف بارے خیالات کیا اور کیسے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ تحریک انصاف کے ممبران نے اپنے قائد عمران خان کی سادگی اور کفایت شعاری مہم کو بھی ذرا یاد نہ رکھا۔ صرف یہ نہیں بلکہ ان کو اس امر کا بھی احساس نہیں کہ وزیراعظم اور وزیرخزانہ کہاں کہاں سے اور کس کس طریقے سے اور کس قسم کی تنقید برداشت کرکے مہینے کا خرچ چلاتے ہیں اور اگلے ماہ کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ ہمارے غمخواران قوم نے یہ بھی نہ سوچا کہ عوام کس حالت میں ہیں اور مہنگائی اور یوٹیلٹی بلوں میں کمرتوڑ اضافے کے بعد وہ کس صورتحال سے دوچار ہیں۔ خیبر پختونخوا کا خزانہ اگر بھرا بھی ہوتا تب بھی اس طرح کے مطالبے کی حمایت نہیں کی جاسکتی یہاں تو صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ مقروض ہے۔ ترقیاتی کاموں کیلئے رقم کی فراہمی کی صورتحال بھی کوئی تسلی بخش نہیں، وفاق نے اگر حسب وعدہ بجلی کے خالص منافع کی رقم کے بقایاجات کی ادائیگی میں تاخیر کی تو صوبائی خزانے میں مالی سال کے اختتامی مہینوں میں شاید سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی بمشکل ادائیگی ہوسکے گی۔ مرکز میں حکمران قیادت کی سادگی وکفایت شعاری اور صوبے میں اسی حکمران جماعت کے وزیر قانون وسپیکر بلکہ پورے ایوان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پر گٹھ جوڑ اس بات کا مظہر ہے کہ جب مفادات کا سوال ہو تو بدترین مخالفین کی تجویز بھی دل کی بات لگتی ہے۔ ہماری دانست میں اور خود عمران خان کے ویژن کے مطابق گلی کوچوں کی پختگی اور ٹرانسفارمر کی تبدیلی ممبران اسمبلی کا کام نہیں بلکہ بلدیاتی نمائندوں کی ذمہ داری چھین لی گئی ہے اور یہ بلدیاتی نظام کو مفلوج کرنے کا حامل معاملہ ہے۔ فاتحہ خوانی ایک دینی ومعاشرتی فریضہ ہے جس کی ادائیگی احسن ہے لیکن سیاسی لوگوں کی فاتحہ خوانی اور جنازے میں شرکت بارے اگر بدگمانی اور بلاوجہ کی الزام تراشی کا ڈر نہ ہو تو یہ سلام روستائی بے غرض نیست کا عین مصداق ہے۔ سپیکر نے ایم پی ایز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیلئے کمیٹی تشکیل دیکر تکلف کا مظاہرہ کیا ہے اس کمیٹی کی سفارشات اور ان کی منظوری تکلف ہی ہوگا وگرنہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین متفقہ طور پر ٹھان چکے ہیں کہ عوام کی حالت اور مسائل جو بھی ہوں ان کی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ ہر حال میں ہونا چاہئے، اس موقع پر انہیں منکم رجل رشید کا سوال بھی بے موقع لگتا ہے۔ عوام کے غمخواروں اور تبدیلی کے مجاوروں، دین کے داعیوں اور قوم کا غم کھانے والوں سبھی کا چہرہ عوام کے سامنے ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ہمارے غمخواروں کو اس امر کا احساس ہوگا کہ وہ تنخواہوں میں اضافے اور مراعات کے اتنے مستحق نہیں کہ اس کے بغیر ان کی گزربسر ممکن نہ ہو۔ کمیٹی کے اراکین کو بھی اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ آیا ممبران اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ واقعی ناگزیر ہے یا پھر یہ ھل من مزید کی تکرار ہے۔ خاص طور پر تحریک انصاف کے قائدین اور نمائندوں کو اس امر کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ان سے عوام کی جو توقعات تھیں آیا وہ ان توقعات پر پورا اترنے کیلئے کوشاں ہیں؟۔

متعلقہ خبریں