Daily Mashriq


انضمام کا سست رفتار عمل

انضمام کا سست رفتار عمل

قبائلی اضلاع کے صوبے میں انضمام کا عمل دو ملاؤں میں مرغی حرام والا معاملہ ہی نہیں بلکہ ملاؤں پر امام کا بھاری ہونا بھی کچھ کم مسئلہ نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کمیٹیوں کا قیام تو ہوتا ہے نیک خواہشات اور توقعات بھی رکھی جاتی ہیں لیکن معاملات جوں کے توں ہیں۔ اگرچہ اس امر کی واضح تردید ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس امر پر اصرار پایا جاتا ہے کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا کا ایک ہی دن تبادلہ بلاوجہ نہیں کم ازکم ان کا ایک ہی دن تبادلہ نہ ہوتا تو کم ازکم افواہ سازی کے کارخانوں کو تو ایندھن نہ ملتا یہ انہی افواہ ساز کارخانوں ہی کی تیار کردہ افواہ ہے کہ گورنر اور وزیراعلیٰ کے درمیان قبائلی اضلاع معاملات بارے ہم آہنگی نہیں جس کی گورنر نے وزیراعلیٰ ہر روز نہیں تو دوسرے دن ان کیساتھ گورنر ہاؤس میں ڈنر کرنے کو مکمل ہم آہنگی ہونے کا ثبوت گردانا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے درمیان اختلافات اور اختلاف رائے کسی اچنبھے کی بات نہیں ہمارے تئیں تو اس کی تردید کی بھی ضرورت نہیں تھی اس طرح سے تو افواہ سازی کے کارخانے کو مزید ایندھن مل سکتا ہے بہرحال صراحت کیساتھ تردید کے بعد اب اس امر کی کوئی گنجائش نہیں کہ دو بڑے گھروں کے درمیان اختلافات نہ ہونے بارے یقین نہ کیا جائے۔ ان معاملات سے قطع نظر قبائلی اضلاع کے معاملات بارے سست روی اور گھوم پھر کر اسی جگہ واپس آنے اور الجھی ہوئی ڈور کے نہ سلجھنے کا تاثر نہ تو منفی ہے اور نہ ہی بلا سبب بلکہ حقائق اس امر پر دال ہیں کہ تمام تر مساعی کے باوجود قبائلی عوام کی توقعات کے عین مطابق معاملات طے نہیں پا رہے ہیں جس کے باعث قبائلی عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قبائلی اضلاع بارے متفقہ لائحہ عمل وضع کرکے اس پر سختی سے عمل پیرا ہوا جائے تاکہ انضمام کے ثمرات جلد سے جلد عوام تک پہنچائے جاسکیں جس پر قبائلی عوام اطمینان کا اظہار کرکے حکومتی مساعی کی اصابت پر مہر تصدیق ثبت کریں۔

غیرمعیاری سیلنڈروں کیخلاف مہم کامیاب کیوں نہیں ہوئی

کرک میں ہونے والے افسوسناک حادثے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ میں غیرمعیاری گیس سیلنڈرز کے استعمال کیخلاف کارروائی کا عندیہ کافی نہیں اور نہ ہی اس قسم کی مہم شروع کرنے کے نمائشی اقدامات سے توقعات کی وابستگی درست ہے اس لئے کہ یہ پہلی بار نہیں جب اس قسم کی مہم کا اعلان کیا گیا ہے۔ قبل ازیں بھی ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اور ٹریفک پولیس دونوں باہمی تعاون سے یہ ڈرامہ بازی کرتے آئے ہیں ہر بار حادثے کے بعد اس قسم کے اقدامات کا اعلان سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اپنی ذمہ داریوں میں ناکامی اور غفلت پر پردہ ڈالا جا سکے۔ اگر گزشتہ راصلواۃ کے مصداق بھی دیکھا جائے تو ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی سابقہ کارکردگی کے پیش نظر اس مہم کو ابھی سے ناکامی سے دوچار اور دو دن کی چاندی پھر اندھیری رات سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ صوبائی حکومت اگر اس عمل کو نتیجہ خیز بنانے کی خواہاں ہے تو اسے محکمہ ایکسائز کے نمبر پلیٹ مہم کی طرح یک روزہ نہ رکھے اور صوبے کے تمام اڈوں میں مسافر گاڑیوں کے سیلنڈرزکا معیار چیک کر کے ان کو باقاعدہ سند جاری کرنے کو یقینی بنانے کی سختی سے نہ صرف ہدایت کرے بلکہ اس مہم کو اس وقت تک جاری رکھنے کی سختی سے ہدایت کی جائے جب تک ایک مسافر گاڑی اور سواریاں اٹھانے والی چھوٹی بڑی ہر قسم کی تمام گاڑیوں میں معیاری سیلنڈروں کی تنصیب یقینی نہ بنائی جائے۔ غیرمعیاری سیلنڈر ہٹانے کی نہ صرف تعداد بتائی جائے بلکہ سیلنڈروں کی باقاعدہ نمائش کی جائے تاکہ مکمل نہیں تو جزوی طور پر ہی سہی عوام کو اس سامان موت کو ہٹانے اور قابل اعتماد سیلنڈروں کی تنصیب کا یقین آجائے علاوہ ازیں سیلنڈروں کو مسافر گاڑیوں کی سیٹوں کے نیچے لگانے والوں کو بھی سیلنڈر مناسب اور محفوظ جگہ لگانے کا پابند بنایا جائے۔

پیدل پولیس گشت کی بندش

تھانہ فقیرآباد میں کھلی کچہری کا انعقاد پولیس اور عوام میں دوریوں کے خاتمے، ایک دوسرے کے موقف سے آگاہی اور ایک دوسرے کی مشکلات سمجھنے کیلئے احسن اقدام ہے۔ اس موقع پر شہریوں کی جانب سے پولیس گشت میں اضافہ کا مطالبہ توجہ طلب ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ جرائم کی شرح میں اضافہ کے باعث پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے سرے سے پولیس گشت نظر ہی نہیں آتی خاص طور پر پیدل گشت تو اب متروک ہی ہوچکی ہے جسے بحال کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ شہریوں کی جانب سے توجہ دلانے اور مطالبے کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس پر جلد سے جلد عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں