Daily Mashriq

سب اچھا ہر گز نہیں ہے حضور!

سب اچھا ہر گز نہیں ہے حضور!

پچھلے کچھ دنوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ حالات جس سمت جا رہے ہیں وہ سمت درست نہیں۔ لوگوں کی توقعات کچھ ہیں اور اہل اقتدار کی ترجیحات اس سے سوا‘ درمیان میں کسی نہ کسی شہر سے کسی ترقی پسند دوست کی گرفتاری کی خبر مل جاتی ہے جیسے نوجوان ترقی پسند راول اسد کی گرفتاری۔ دوسرے صوبوں کے بعد اب اصلی پنجاب اور سرائیکی وسیب بھی پراسرار گمشدگیوں کا ذائقہ چکھ رہے ہیں۔ پہلے سرائیکی قومی پرست احمد مصطفی کانجو رات کے تیسرے حصہ میں اٹھا لئے گئے ‘ ان کے ماموں اور بزرگ سرائیکی قوم پرست سیاستدان عبدالمجید کانجو ہاتھ پائوں مار رہے ہیں عدالت سمیت سارے د روازوں پر دستک دے چکے مگر ہر طرف خامشی ہے کوئی بھی اقرار کرنے کو تیار ن ہیں۔ حیرانی ہوتی ہے کہ ایک مذہبی برادری کے لئے توہین آمیز مہم چلانے والے شخص کو تو جماعت اسلامی کے اونچی سطح پر رابطوں کے نتیجے میں ضمانت مل جاتی ے مگر ترقی پسند شعور کے حاملین کے حوالے سے کوئی بھی سنجیدہ جانکاری ممکن نہیں ہو پا رہی۔ چار اور یہ سب کیا ہو رہا ہے اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ کیا ہم ایک بار پھر 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں کے ان ماہ و سال کا ذائقہ چکھنے والے ہیں جب سانس لینا بھی دو بھر ہوا تھا؟ دو دن ادھر یہ سوال ایک ذی فہم کے حضور رکھا تو انہوں نے کہا کہ کم از کم مجھے ایسا لگعتا ہے کہ ترقی پسند شعور کے حامل قوم پرستوں پر کڑا وقت آنے والا ہے۔ کہیں کسی سطح پر ریاست یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ قوم پرستوں کو سبق سکھایا جائے۔ عرض کیا اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ جواب ملا یک قومی شناخت کا بخار پھر سے چڑھ چکا ۔ یہ تجزیہ درست ہے تو پھر یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ فیصلہ کرنے والوں نے غلطی کردی۔ یہ بیسویں سدی کا ساتواں یا آٹھواں عشرہ ن ہیں اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے ماہ و سال ہیں۔

سیاسی جماعتوں‘ حکومت اور ریاستی اداروں کو سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ مسلط شدہ نظریات اور فیصلہ نہیں زمین زادوں کی امنگوں کا احترام نظام اور ریاست کے استحکام کی ضمانت ہوا کرتا ہے۔ مناسب یہ ہوگا کہ نیا تجربہ کرنے سے قبل پچھلے تجربوں کے نتائج سامنے رکھے جائیں۔ پچھلی شب اہل دانش کی ایک محفل میں جس سوال پر سب سے زیادہ بحث ہوئی وہ یہ تھا کہ کیا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سیاسی و سماجی ضرورتوں کو نظر انداز کرکے ایوانوں کے اندر اور باہر ملاکھڑوں اور بد زبانیوں کو رواج دیا جا رہا ہے؟ فقیر راحموں کا خیال تھا کہ بعض ہستیاں اورادارے پارلیمانی جمہوریت کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں ان کے خیال میں ابتری صدارتی نظام کی کاشت میں مفید ثابت ہوگی۔ ہوسکتا ہے فقیر راحموں کی بات درست ہو یا حقیقت کے قریب تر لیکن جس بات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ صدارتی نظام سے جو عدم توازن در آئے گا اس کا علاج کیا ہوگا۔ پارلیمانی جمہوریت ابھی حقیقی عوامی جمہوریت کی طرف بڑھنے نہیں پائی اس پر بالا دست طبقات کا ہمیشہ سے قبضہ ہے۔ صدارتی نظام تو بالا دست طبقات اور سر پرستوں کی گرفت کو مزید مضبوط کردے گا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کیا صدارتی نظام کا خواب دیکھنے اور نظام کاشت کرنے والے 1973ء کے دستور کے ہوتے ہوئے اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر پائیں گے؟ کیا صرف پنجاب کی عددی دوسری طاقتوں کے بل بوتے پر ایسا ممکن ہوگا۔ چھوٹے صوبے خاموشی کے ساتھ سب قبول کرلیں گے؟ ان سوالوں کاجواب بظاہر نفی میں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وفاق کے عدم توازن پر صرف چھوٹے صوبوں کے تحفظات نہیں خود بڑے صوبے پنجاب کے اندر سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک طرف تو سرائیکی صوبے کے لئے عوامی جذبات موجود ہیں دوسری طرف خود پنجابی قوم پرستوں اور اہل دانش کا ایک موثر طبقہ یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ جن جرائم اور غلطیوں میں وہ شریک ہی نہیں اس پر طعنے اور گالیاں کیوں کھائیں۔ ہماری دانست میں پچھلے چند برسوں سے جس طرح کچھ افراد کی آڑ میں سیاسی عمل اور جمہوریت کو گالی بنا کر پیش کیا گیا وہ ایک منصوبے کاحصہ تھا۔ کاش منصوبہ ساز اس امر کو سمجھ پائیں کہ 1973ء کا دستور اور اس میں طے کردہ نظام حکومت استحکام اور وجود کے برقرار رہنے کی ضمانت ہیں۔ خاکم بدہن دستور سے چھیڑ چھاڑ ہوئی یا کسی اور نظام کا ڈول ڈالنے کی کوشش تو مسائل پیدا ہوں گے۔ مناسب ترین بات یہی ہوگی کہ سیاسی جماعتیں نظام اور دستور پر منڈلاتے خطرات کا ادراک کریں خود حکمران جماعت تحریک انصاف کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ نئے تجربے میں کردار ادا کرنے سے زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ موجودہ نظام کو بہتر بنانے کے لئے حکمت عملی وضع کی جائے دوسرے پارلیمانی گروہوں کو اعتماد میں لے کر ان خرابیوں کو دور کیا جائے جن کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مکرر عرض کئے دیتا ہوں صدارتی نظام اور ون یونٹ کے تجربوں نے ہمیں کچھ نہیں دیا بلکہ ان دونوں کی وجہ سے جنم لینے والے مسائل اور نفرتیں آج بھی موجود ہیں۔ پارلیمانی نظام میں عوام کو زیادہ سے زیادہ شریک کرنے سے ہی ریاست اور لوگوں کے درمیان موجود بد اعتمادی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ کرپشن اور دوسرے مسائل سے کسی کو انکار ن ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لئے قوانین میں اصلاحات لانا ہوں گی۔ ویسے اگر کسی کا خیال ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی حرف غلط کی طرح مٹ چکیں تو اسے غلط فہمی سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ ثانیاً یہ کہ بھان متی کے کنبے ماضی میں بھی جوڑے گئے نتیجہ کیا نکلا؟ مالکوں کے رخصت ہوتے ہی یہ کنبے بکھر گئے قریب ترین دنوں کی مثال ق لیگ ہے۔ مشرف دور میں اس کا طوطی بولتا تھا اب کہاں ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ریاست عوام اور قانون سے بنتی ہے۔ ریاست کو تجربہ گاہ کی صورت چلانے کے نقصان زیادہ ہیں۔ اکہتر برسوں میں بہت تجربے ہوچکے مزید کی گنجائش بہر طور نہیں۔

متعلقہ خبریں