Daily Mashriq


نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں رومانس یا محبت کا عالمی دن ویلنٹائن ڈے کے نام سے منایا جارہا ہے۔ ویلن ٹائن ایک راہب کا نام تھا جو 1700سال قبل مسیح میں ایک راہبہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہو کر اپنی جان جان آفرین کے حوالے کر گیا اور یوں وہ مسیحی برادری کے دلوں میں امر ہوکر ہر سال 14فروری کو یہ دن منانے کا باعث بن گیا۔ اس دن کو محبت کا عالمی دن بھی کہتے ہیں اور اس دن مغربی دنیا کے اس مذہبی تہوار کی تقلید کرنے والے لوگ محبت کے نام پر جو گل کھلاتے ہیں ان کا بیان ایک الگ موضوع ہے۔ سردست ہم زیرنظر سطور میں مغربی دنیا کے لوگوں کو ان کے یوم محبت کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک محبت ایک پاکیزہ جذبہ کا نام ہے۔ جسموں اور جوڑوں کے ملاپ کو آپ نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کا نام تو دے سکتے ہیں پیار اور محبت کا نام نہیں دے سکتے۔ اخلاق سے گری ہوئی کوئی حرکت پیار اور محبت کی ذیل میں نہیں آتی۔ مغربی تہذیب کے پروردہ آج کے دن اخلاق اور شرم وحیا کے منافی جو حرکت بھی کر بیٹھیں وہ اسے برا کہنے یا برائی کے ذیل میں رکھنے کی بجائے ایک نیک شگون سمجھتے ہیں اور ایسا کرنے کیلئے آج کے دن کو سعد کہتے ہیں جیسا کہ عرض کیا جا چکا، یہ ان کا مذہبی تہوار ہے جو ان کو پاکستان سمیت دنیا کے کسی بھی کونے میں منانے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ تعلیمات دین محمدی کے مطابق کلام مجید فرقان حمید کی سورہ الکافرون میں مسلمانوں سے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا گیا ہے کہ تم اہل کفار کو کہہ دو کہ تم اپنے دین پر قائم رہو ہم اپنے دین پر قائم رہیں گے۔ اس حوالہ سے ہمارے دینی علماء، مذہبی سکالرز اور دانشور طبقہ کے لوگ مغرب اور اہل مغرب کی اندھی تقلید میں ملک کے نوجوان طبقہ کے ویلنٹائن ڈے منانے کی روش کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نوجوان نسل کو اس بے راہ روی سے روکنے کیلئے آج کے دن ملک کے طول وعرض میں ویلنٹائن ڈے یا یوم نام نہاد محبت کی بجائے ’یوم حیا‘ منانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ جس کو ایک تحریک یا مہم کی صورت دیکر اس دن کو یوم حیا کے عنوان سے صرف اور صرف اسی صورت میں منایا جا سکتا ہے اگر وطن عزیز کے تمام مکاتیب فکر کے لوگ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں اور اس موقع پر ہمارے نوجوان اسلامی اطوار کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی نظروں کوجھکا کر حسن حیادار اور عشق بے ریا کا مظاہرہ کریں اور یوں وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو پیار اور محبت کی انمول خوشبو سے یوں معطر کردیں کہ فضائیں بے اختیار ہوکر

یہ جھکی جھکی نگاہیں انہیں میں سلام کرلوں

یہی اپنی صبح کرلوں یہی اپنی شام کرلوں

کے نغمے الاپنے لگیں بلکہ ہماری قوم کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں اسلامی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے اپنے حسن مشرق کو لازوال اور بے مثال بنانے کی خاطر چادر چار دیواری کے علاوہ برقع نقاب، اسکارف اور حجاب کو اپنا کر مشرقی حسن کا بھرم رکھ لیں۔ اگر ہم آج کے دن کو ویلنٹائن ڈے کے طور پر منانے کی بجائے یوم الحیا کی صورت منانے لگیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم یورپ والوں کی اس پراگندہ تہذیب کا شکار ہوکر

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

کے طعنہ سے اپنے آپ کو محفوظ کرسکیں۔ محبت کے نام پر کوئی بھی اخلاق باختہ یا غیرمہذب حرکت کرنا شیطانی عمل ہے۔ مغرب کے ننگ دھڑنگ لوگوں کو اگر یہ حرکت معیوب نہ لگتی ہو تو انہیں ہرگز نہ لگے ہمیں ان سے کوئی غم غرض یا لینا دینا نہیں، وہ اپنے ضابطہ حیات پر قائم رہیں، ہمیں اپنی اقدار کی پاسداری کرنے دیں۔ ہمارے ہاں شادی بیاہ یا نکاح سے پہلے لڑکی اور لڑکے کا کھلم کھلا کیا، چوری چھپے بھی ملنا اور مل کر چادر اور چار دیواری کے تقدس کی دھجیاں اُڑا کر شرم وحیا اور پردہ کی حدود پھلانگ لینا ایک عیب ہی نہیں گناہ کبیرہ بھی گردانا جاتا ہے۔ اگر ایسے لوگ سنگسار ہونے سے بچ جاتے ہیں تو عمر بھر کا پچھتاوا ان کی جھولی میں پڑ کر ان کے زندہ رہنے کو محال کر دیتا ہے، مغربی تہذیب کی پروردہ شتر بے مہار جیسی رسم پیار ومحبت کے شکار شاخ نازک پر آشیانہ بنانے کی حماقت کر رہے ہوتے ہیں اور ایسے ناعاقبت اندیش لوگوں کو شاعر مشرق تنبیہہ کرتے ہوئے بجاطور پر ارشاد فرماتے ہیں کہ

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا

محسوس کرنے والے کہتے ہیں کہ محبت کی نہیں جاتی، محبت ہو جاتی ہے، اگر محبت کی جاتی ہے تو محبت کرنا جرم نہیں، محبت زندگی کا جزو لاینفک ہے، محبت کے بغیر زندگی ادھوری، پھیکی اور کرکری ہوکر رہ جاتی ہے کہ

محبت کے دم سے یہ دنیا حسیں ہے

محبت نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے

لیکن بات وہیں پہ آجاتی ہے جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا کہ محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے اور اس کی پاک بازی کا بھرم رکھنے کیلئے ہم نے ان اصولوں کی پاسداری کرنی ہے جو ہماری مشرقی اقدار کا اثاثہ ہیں، محبت کو تاابد زندہ اور تابندہ رکھنے کیلئے ہم نے فاصلوں کا احترام کرنا ہے اور شادی سے پہلے کی محبت کو مغرب کی اندھی تقلید سے پاک رکھنا ہے، ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کہتے نہ رہ جائیں کہ

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

متعلقہ خبریں