Daily Mashriq


نئے صوبے۔۔۔ مگر کیسے؟

نئے صوبے۔۔۔ مگر کیسے؟

پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے پنجاب میں دو صوبوں کے قیام کیلئے پیش کردہ قانونی بل اس جماعت کے اپنے سیاسی وانتخابی عزائم کو پورا کرنے کی ایک سعی بے خلوص معلوم ہوتی ہے۔ بلاشبہ نئے صوبے پاکستان کی اہم ضرورت ہے مگر ان کے قیام کیلئے بے پناہ مالی وسائل اور سیاسی اتفاق رائے درکار ہے۔ اس لئے ان کے قیام سے پہلے ضروری ہے کہ ان کی وفاق میں اہمیت وضرورت کا نہایت منطقی اور عقلی بنیادوں پر تجزیہ کر لیا جائے۔ پاکستان کے تین سطحی انتظامی ڈھانچے میں وفاق کے پاس قدر محدود ذمہ داریاں ہیں۔ یہ دفاع، کرنسی، تجارت، خارجہ پالیسی اور بین الصوبائی رابطے وغیرہ کے معاملات سنبھالتا ہے جبکہ صوبے صحت، تعلیم، امن وعامہ وغیرہ جیسی بنیادی ضروریات کے بابت پالیسی سازی اور اقدامات کے مجاز ہیں۔ اضلاع کے مابین روابط بھی صوبائی حکومتوں کے ہی زیرنگرانی طے پاتے ہیں اور اس نظام کی آخری سطح ضلعی انتظامیہ ہے جو عوامی مسائل کے حل اور خدمت کی ذمہ دار ہے۔صوبائی حکومتوںکو اس نظام میں مرکزی اہمیت حاصل ہونے کے باعث وسیع مالی، قانونی اور انتظامی اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور عوام کی جانب سے صوبائی حکومتوں تک رسائی اور قربت زیادہ ہونے کے باعث ان کی مرکز میں براجمان حکمرانوں کی نسبت جوابدہی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ملک کومزید صوبائی اکائیوں میں تقسیم کرنا صرف اسی وقت کارگر ثابت ہو سکے گا جب ان نئی بننے والی صوبائی حکومتوں کے پاس نظام بہتر انداز میں چلانے کیلئے درکار اہلیت اور مناسب مالی وسائل موجود ہوں گے۔نیا صوبہ تشکیل دینا اتنا آسان نہیں۔ یہ صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچ دینے سے وجود میں نہیں آتا بلکہ اس کیلئے بے پناہ اہلیت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یہ معاملہ اس طور بھی تھوڑا منفرد ہے کہ یہاں تاریخی طور پر ہمیشہ سے ہی ایسی اکائیاں اور خطے موجود رہے ہیں جن کی لسانی اور عصبی پہچان ہی ان کے الگ صوبہ ہونے کا جواز بنیں۔ یہ اکائیاں اپنی ایک تاریخ اور مقام کی حامل ہیں۔پاکستان میں کل تقریباً تین درجن کے قریب قومیتیں آباد ہیں جبکہ عددی لحاظ سے ان میں سے صرف چار ایسی قومیتیں ہیں جو اپنے حجم کی بدولت ایک نئے صوبے کے مطالبے پر حق بجانب ہیں۔ یہ قومیتیں سرائیکی، ہندکو، مہاجرین اور بلوچی پختونوں پر مشتمل ہیں جبکہ دوسری جانب انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کیلئے پاکستان کے تمام چھبیس ڈویژنوں کو صوبوں کا درجہ دینے کا راستہ بھی موجود ہے۔ ایسے پاکستان میں کل چھبیس صوبے تشکیل پا جائیں گے مگر ان صوبوں کے پاس وسائل اور اہلیت کس قدر ہوگی اس بارے میںشدید شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان صوبوں کا مرکز پر انحصار بڑھ سکتا ہے جو اپنی جگہ کئی مسائل کو جنم دے گا یا دوسری صورت میںکئی صوبوں کی پالیسیوں میں پیدا ہونے والا فرق اور ممکنہ تضاد ایک خاصی اُلجھن کا سبب بن سکتا ہے۔ انتظامی بنیادوں پر صوبے تشکیل دینے کی صورت میں وہاں موجود لسانی گروہوں اور قومیتوں کی امنگوں اور مفادات پر سمجھوتا ہونے کا بھی خدشہ ہے جو بڑے تنازعات کا سبب بن سکتا ہے۔ لسانی بنیادوں پر صوبہ تشکیل دینے میں کوئی مضائقہ نہیں البتہ ہر لسانی گروہ یا قومیت کیلئے الگ صوبہ بنا دینا ممکنات میں سے نہیں۔ عصبی بنیادوں پر صوبہ تشکیل دیتے وقت اس لسانی گروہ یا قومیت کی عددی حیثیت، ان کے زیر استعمال جغرافیائی علاقہ اور ان کی مالی حالت کو زیرغور رکھنا چاہئے نیز صوبہ بن جانے کی صورت میں ان کی مرکزی دھارے میں ممکنہ سیاسی ومعاشی افادیت کا بھی ٹھوس بنیادوں پر جائزہ لینا ضروری ہے۔اس ضمن میں ریکارڈ کے مطابق، ہندکو اور بلوچی پختون عددی طور پر قدر کم ہیں اور ان کے زیرانصرام علاقہ بھی محدود ہے البتہ مالی طور پر یہ اکثریت رکھنے والے گروہوں سے زیادہ مستحکم اور خوشحال ہیں۔ البتہ مہاجر اور کراچی شہر میںمستقل سکونت رکھنے والے اول الذکر دونوں قومیتوں کے مقابلے میں نئے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر کو صوبے میں تبدیل کرنے کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی اور اس شہر کو صوبہ بنانے سے پہلے خاصی سوچ وبچار کی ضرورت ہے۔ان تمام لسانی گروہوں میں سرائیکی قومیت اور خطہ ایک نیا صوبہ بننے کیلئے سب سے موزوں ہے۔ عددی، مالی اور سیاسی لحاظ سے یہ ایک نئے صوبے کیلئے درکار تمام عوامل کا حامل ہے۔ یہ صوبہ موجودہ پنجاب کی بڑھتی طاقت کو بھی لگام دے سکتا ہے البتہ اس بات کی تحقیق کرنے کی ازحد ضرورت ہے کہ سرائیکی صوبے کی آواز کے پیچھے کیا واقعی عوامی امنگ موجود ہے یا یہ صرف چند سیاستدانوں کا اپنی سیاست چمکانے کیلئے ایک نیاحربہ ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کو بھی اس بنیاد پر پرکھنے کے بعد صوبہ بنانا چاہئے۔نئے صوبوں کی تشکیل بلاشبہ اہم ہے۔ البتہ ان صوبوں کا مقصد کسی لسانی یا عصبی گروہ کو قانونی حیثیت دینے کی بجائے تمام قومیتوں اور لسانی گروہوں کو ان کے جائز قانونی حقوق یقینی بنانا ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ ان صوبوں کی سینیٹ میں نمائندگی، بااختیار مقامی حکومتیں اور بہتر عوامی خدمت کے اقدام بھی اس ایجنڈے کا حصہ ہونا چاہئیں۔ نئے صوبے اس ملک کی ضرورت ہیں البتہ پاکستان کو مؤثر انداز میں نئی جغرافیائی اکائیوں میں ترتیب دینے کیلئے اخلاص اور شفافیت کیساتھ غور وفکر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

(بشکریہ: ڈان نیوز، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں