Daily Mashriq

جہیز کیخلاف قانون کا نفاذ کب

جہیز کیخلاف قانون کا نفاذ کب

ممبئی کے ریوانڈی شہر میں شادیاں انتہائی سادگی سے ہوتی ہیں۔ دعوت میں مہمانوں کی تواضع صرف سادہ شربت سے کی جاتی ہے۔ انتہائی کم خرچ میں ممبئی اور مضافات میں شادیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بہت سارے لوگوں کی انتھک کوششوں سے یہ سلسلہ ممکن ہوا ہے۔ اس میں ایک تنظیم خدام ملت بھی ہے جو انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ بھارت کے مایہ ناز فلم سٹار عامر خان کے شو میں تنظیم خدام ملت کے سربراہ محسن اُمیدی جو بھارت کے ایک شہر برہان سے تعلق رکھتے ہیںکا کہنا ہے کہ جہیز اور شادی پر بے جا خرچ کرنے کی تکلیف ہمیں ایک زمانہ سے تھی۔ علاقے کے لوگوں نے سوچ وبچار کے بعد اس کا حل یہ نکالا کہ شادی پر No Band,No Baja, No jehaz and No Barat اُمیدی کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ ترکیب اختیار کی اور یہ ترکیب اتنی کامیاب ہوئی کہ پورا شہر اور اس کے بعد بھارت کے کئی شہر بھی اسی ترکیب کو اپنانے لگے۔ اُمیدی کا کہنا ہے کہ بھارت میں اکثر لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے جلائی جاتی ہیں مگر خدا کے فضل سے میرے شہر میں گزشتہ 50سال سے ایسا کوئی واقع نہیں ہوا کیونکہ اسی شہر کے غریبوں اور امیروں دونوں کا یہی فیصلہ ہے، امیروں اور غریبوں کی شادیاں ایک جیسی کی جاتی ہیں۔ جہیز ایک تباہ کُن رسم ہے، جہیز کا سب سے بڑا مسئلہ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور ایران میں ہے۔ غیروں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں میں بھی جہیز کی رسم ایک ناگوار جبری مطالبہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جہیز کے ظالمانہ اورغیرانسانی مطالبوں کو پورا کرنے کیلئے آج کتنے گھرتباہ وبرباد ہو چکے ہیں۔ لڑکی کی پیدائش جو بلاشبہ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں خوش بختی کی علامت ہے اسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے بدبختی میں بدل دیا ہے اور بدقسمتی سے لاکھوں بہنیں بیٹیاں گھروں میں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بوڑھی ہوجاتی ہیں یا شادی نہ ہونے کی وجہ سے غلط روش اختیار کرتی ہیں یا نفسیاتی مریض بن کر خودکشی کر لیتی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ لڑکی اگر اپنے والدین سے کوئی مطالبہ کرے تو کر سکتی ہے کیونکہ ماں باپ سے فرمائش اس کا پیدائشی حق ہے اگرچہ اسے بھی مطالبہ کرتے وقت اپنے والدین کی بساط ووسعت کا جائزہ لینا ضروری ہے، مگر ہونے والے داماد یا اس کے گھر والوں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ لڑکی یا اس کے والدین سے کسی قسم کا سوال، تقاضا یا مطالبہ کریں، یہ تو ایک طرح کی بھیک ہے جسے رسم ورواج کے نام پر قبول کیا جارہا ہے۔ اسلام دو ہی صورتوں میں بھیک مانگنے کی اجازت دیتا ہے یا تو سائل کا کوئی حق دوسرے سے متعلق ہو یا پھر سائل اتنا تنگدست ہو کہ اس کی گزر اوقات مشکل ہو اور سوال کے بغیر کوئی چارہ کار ہی نہ ہو، وہ بھی بقدر حاجت، حاجت وضرورت سے زیادہ تو اسے بھی مانگنا جائز نہیں۔ ہونے والے داماد کا ہونے والی بیوی یا ساس سسر پر کوئی لازمی حق تو ہوتا نہیں جس کا مطالبہ اس کیلئے جائز ہو۔ لہٰذا اب دوسری صورت تنگدستی والی رہ جاتی ہے جبکہ سماج میں اس کی بھی کوئی گنجائش نہیں کہ تنگ دست داماد اپنی تنگدستی کا اظہار کر کے سسرال والوں سے کچھ مانگے حالانکہ اگر واقعی تنگدست ہو تو بقدر ضرورت مانگ سکتا ہے اور جب دونوں صورتیں نہیں تو یقینا یہ سوال ممنوع وناجائز ہے کیونکہ بلاضرورت مانگنے کی اسلام میں سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ آقائے نامدارﷺ فرماتے ہیںکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو بالادستی عطا فرمائی ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد ہے ’’الرجاء قوامون علی النساء‘‘ مرد عورتوں پر حاکم ہے مگر افسوس آج کا مرد حاکم ہو کر اپنے مقام ومنصب کیخلاف عورت کے سامنے سائل بن جاتا ہے۔ اگر ہم قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن جہیز پر نہیں بلکہ مہر پر زیادہ زور دیتا ہے اور مہر عورت پر نہیں بلکہ مرد پر واجب ہے۔ سورۃ النساء کی آیت نمبر4 میں ارشاد خداوندی ہے اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو، ہاں وہ اگر خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے ذوق وشوق سے کھا لو۔ سورۃ النساء کی آیت نمبر25، سورۃ المائدہ کی آیت نمبر5، سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر50، سورۃ الممتحنہ کی آیت نمبر10، سورۃ البقرہ کی آیت نمبر237، سورۃ النسا کی آیت نمبر20 اور 21 میں خداوند تعالیٰ نے کھلے اور شفاف الفاظ میں مہر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ بھارت کے ایک مشہور محقق فالاش کمار اپنے ایک مقالے Giirls are Considered a burden in sections of Indian Society میں کہتے ہیں کہ گزشتہ دس سالوں میں 10ملین بچیاں یا تو پیدائش سے پہلے یا پیدائش کے فو راً بعد والدین ہلاک کرچکے ہیں حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں جو دو بچیوں کی صحیح طریقے سے تربیت کرے گا قیامت کے دن میرے انتہائی قریب ہوگا۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ بہترین شادی وہ ہے جو آسان ترین ہو۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان جہیز کی لعنت پر قابو پانے کیلئے آئین میں ترمیم کرے اور یہ قانون امیر اور غریب سب پر لاگو ہونا چاہئے تاکہ بچیوں کی وقت پر شادی ہو اور معاشرتی مسائل کم ہوں۔

متعلقہ خبریں