Daily Mashriq

پاکستان، سعودی عرب سے ’ترجیحی تجارتی معاہدے‘ کا خواہاں

پاکستان، سعودی عرب سے ’ترجیحی تجارتی معاہدے‘ کا خواہاں

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر پاکستان دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ترجیحی تجارتی معاہدے پر مذاکرات کے آغاز کی باقاعدہ تجویز پیش کرے گا۔

سعودی ولی عہد کے 2 روزہ دورہ پاکستان کے موقع پر دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ یہ معاہدے سے متعلق تجویز بھی پیش کی جائے گی۔

محمد بن سلمان 16 فروری کو پاکستان پہنچیں گے جس میں بھرپور طاقت کا حامل کاروباری وفد بھی ان کے ہمراہ ہو گا۔

سرکاری ذرائع نے  بتایا کہ ترجیحی معاہدے میں ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں (non-tariff barriers)، جس سے پاکستان کو بادشاہت کے حامل ملک تک اپنی برآمدات کی توسیع میں مدد ملے گی، شامل ہے۔

مجوزہ مفت تجارتی معاہدے پر گلف تعاون کونسل سے مذاکرات 2006 سے مکمل تعطل کا شکار ہیں اور اب تک اس پر مذاکرات کے محض دو دور مکمل ہوئے ہیں۔

حکام کا ماننا ہے کہ سعودی ولی عہد سے ملاقات میں اس مسئلے کو بھی اٹھایا جائے گا۔

پاکستان کی سعودی عرب سے دوطرفہ تجارت مسلسل تنزلی کا شکار ہے جہاں 14-2013 میں 5.08 ارب ڈالر کی تجارت 17-2016 میں گھٹ کر 2.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، اس کی ایک وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی گرتی ہوئی قیمتیں ہیں جو کُل درآمدات کے 50 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔

پاکستان کی سعودی عرب سے متعلق برآمدات میں کمی کی ایک اور وجہ چاول، پھل، سبزیوں کی تیاری، کپڑے اور ٹیکسٹائل کے دیگر سامان کی فروخت میں کمی ہے۔

سعودی عرب برآمد کی جانے والی اہم ترین مصنوعات میں سے ایک چاول ہے لیکن اب دیگر ممالک خصوصاً بھارت نے اس مارکیٹ پر قبضہ حاصل کرلیا ہے۔

اگر ترجیحی تجارتی معاہدے پر کوئی پیشرفت ہوتی ہے تو ایران کے بعد سعودی عرب دوسرا ملک ہو گا جس سے پاکستان کا اس نوعیت کا معاہدہ ہو گا۔

اس دورے کے دوران جن دیگر امور پر گفتگو کی جائے گی ان میں کاروباری ویزا کے طریقہ کار میں آسانی بھی شامل ہے جس میں اس وقت مختلف محکموں تک رسائی حاصل کرنی پڑتی ہے اور کم از کم 6 ہفتوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔

سعودی عرب نے ملک میں کسی بھی کاروباری سرگرمی میں شرکت کے لیے کارباری ویزا فیس بھی بڑھا کر ایک فرد کے لیے 74 ہزار روپے کردی ہے اور پاکستان اس فیس کے خاتمے کی کوشش کرے گا۔

دونوں ممالک کی اہم کاروباری شخصیات کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے سال 2000 میں پاک سعودی مشترکہ کاروباری کونسل تشکیل دی گئی تھی، یہ کونسل گزشتہ 18سال میں 3 مرتبہ ملاقات کر چکی ہے جس سے تجارت تعلقات کو فروغ دینے میں سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پاکستان اس کے ساتھ ساتھ جھینگوں کی برآمد پر سعودی عرب میں عائد پابندی کو بھی ہٹوانے کی کوشش کرے گا جبکہ ساتھ ساتھ اسٹیٹ لائف انشورنس کے لیے بھی لائسنس کے حصول کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ وہاں کاروبار ممکن بنایا جاسکے اور اپنے ملک کی نمائش کی اجازت لینے کی کوشش بھی ترجیح ہو گی تاکہ اپنے مصنوعات کو سعودی عرب میں فروغ دیا جا سکے۔

سعودی عرب کی جانب سے حلال فوڈز، دودھ، کیٹل فارمنگ، فشریز سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کا امکان ہے۔

غیر ٹیرف رکاوٹوں کے حل کے لیے 2 مسائل پر بحث کی جائے گی، ان میں سے ایک دوطرفہ احترام کا معاہدہ بھی ہے تاکہ سعودی عرب کی بندرگارہ پر پاکستان کی برآمدات کی شپمنٹس کو کسٹم کلیئرنس میں ہونے والے تعطل سے بچایا جا سکے اور دوسری اہم چیز کوالٹی ایشورنس سرٹیفکیٹ ہیں جس کے لیے کوشش کی جائیں گی کہ سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی اسے تسلیم کرلے۔

متعلقہ خبریں