Daily Mashriq

امریکا کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہوگا، طالبان کا اعلان

امریکا کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہوگا، طالبان کا اعلان

کابل: طالبان کا کہنا ہے کہ ان کے مذاکرات کار رواں ماہ امریکی حکام سے اسلام آباد میں مذاکرات کریں گے اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کریں گے جس میں افغانستان سے متعلق امور زیر غور آئیں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق طالبان کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد افغان امن عمل اور طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے حمایت حاصل کرنے کے سلسلے میں مختلف ممالک کے دوروں پر ہیں۔

تاہم واشنگٹن یا اسلام آباد کی طرف سے طالبان کے اس اعلان کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

زلمے خلیل زاد نے گزشتہ ماہ قطر میں طالبان رہنماؤں سے ان کے دفتر میں طویل مذاکرات کیے تھے، جبکہ مذاکرات کا اگلا دور رواں ماہ کے آخر میں ہوگا۔

تاہم طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی حکام سے الگ الگ ملاقاتیں ہوں گی، جن میں سے پہلی حکومت پاکستان کی دعوت پر 18 فروری کو اسلام آباد میں ہوگی۔

بیان کے مطابق دوحہ میں مذاکرات 25 فروری کو ہوں گے۔

افغان امن عمل کو آگے بڑھانے اور تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے زلمے خلیل زاد بڑے وفد کے ہمراہ ان دنوں بیلجیئم، جرمنی، ترکی، قطر، افغانستان اور پاکستان کے دوروں پر ہیں۔

انہوں نے رواں سال جولائی میں افغان صدارتی انتخاب سے قبل طالبان سے معاہدے کی محتاط امید ظاہر کی تھی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو لازمی طور پر کابل حکومت سے مذاکرات کرنے ہوں گے، جسے طالبان امریکی کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی، جنہوں نے حالیہ مذاکرات میں شامل نہ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا، بین الاقوامی سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے میونخ روانہ ہوگئے ہیں۔

طالبان نے اپنے بیان میں افغانستان کے ساتھ دوطرفہ امور پر 'جامع بات چیت' کے لیے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے بھی اسلام آباد میں ملاقات کا اعلان کیا۔

گزشتہ ماہ پاکستان میں ایسی میڈیا رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ اسلام آباد، طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے۔

زلمے خلیل زاد نے جنوری میں امن عمل کی حمایت کے لیے علاقائی ممالک کا دورہ کیا تھا جس دوران انہوں نے عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے دسمبر میں کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو افغانستان میں جاری 17 سالہ جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں، عمران خان کو خط لکھ کر امن کوششوں کے لیے حمایت کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں