Daily Mashriq

یونین کونسل جوگنی کے مکین بنیادی سہولتوں کوترس گئے،مسیحاکی تلاش

یونین کونسل جوگنی کے مکین بنیادی سہولتوں کوترس گئے،مسیحاکی تلاش

پشاور(کاشف الدین سید) پشاور کا یونین کونسل جوگنی مختلف مسائل سے دوچار ہے ورسک ڈیم سے چند کلومیٹر فاصلے اور دریائے کابل کے کنارے آباد ہونے کے باوجود نہ صرف آبپاشی کے لئے پانی سے محروم ہے بلکہ یہاں کے باسیوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں مشرق ٹی وی کے پروگرام ''مشرق فورم'' میں جوگنی اور ملحقہ دیہات کے مکینوں نے مسائل کے انبار لگا دیئے اور کہا کہ اہل علاقہ کا دار ومدار زراعت پر ہے لیکن انہیں کئی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے ، یہاں سے منتخب ارکان قومی وصوبائی اسمبلی نے اس علاقے کو ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کردیا ہے ، مقامی سماجی کارکن سید شرف نے فورم میں بتایا کہ صوبائی دارالحکومت کا حصہ ہونے کے باوجود جوگنی کا علاقہ پسماندگی کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ ورسک ڈیم یہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جب کہ یہ گائوں دریائے کابل کے کنارے آباد ہے گرمیوں میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر اکثر اعلانات کر کے اہل علاقہ کو مکانات خالی کرانے کی ہدایت کی جاتی ہے جبکہ عام دنوں میں یہاں فصلوں کو سیراب کر نے کے لئے پانی نہیں ملتاانہوں نے کہاکہ علاقے کا مواصلاتی نظام تباہ ہوگیا ہے سڑکوں کی حالت خراب ہے سیلاب کی صورت میں قریبی دیہات سے رابطہ منقطع ہوجاتاہے انہوں نے کہا کہ یہاں تعلیم شرح زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ اہل علاقہ بیشتر مسائل اپنی مدد آپ کے تحت حل کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ دہشت گردی سے بھی متاثر ہواہے اس لئے فرنٹیئر کانسٹیبلری میں داودزئی کو الگ پلاٹون دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ پشاور کا یہ پسماندہ علاقہ سوئی گیس کی سہولت سے محروم ہے حالانکہ قریبی علاقہ چغرمٹی میں گیس موجود ہے اور وہاں سے جوگنی تک گیس کی ترسیل کے لئے محض چند سو فٹ پائپ لائن کی ضرورت ہے ، علاقے میں بجلی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20گھنٹے تک پہنچ گیا ہے بجلی لوڈشیڈنگ گیس کی عدم دستیابی سڑکوں کی ناگفتہ بہ حالت اور صفائی کی ناقص صورتحال اہل علاقہ کی سماجی زندگی متاثر کردی ہے۔ مقامی کاشتکار محمد عارف نے فورم میں بتایا کہ چند سال قبل تک جوگنی کے کاشتکار خوشحال تھے اور اس علاقے کی زرعی پیداوار مثالی تھی لیکن سیلاب کی تباہ کاریوں اور زرعی اجناس کے نرخ بڑھنے کے بعد زمیندار بدحالی کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ آج سے 20سال قبل بھی یہاں کے گنے کا نرخ 200سے 300 روپے پچاس کلو تھا اور آج بھی یہی قیمت ہے انہوں نے کہا کہ گندم مکئی اور سبزیاں بھی یہاں کی پیداوار ہے لیکن اب پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار کم ہوگئی ہے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کمشنر پشاور محکمہ ایری گیشن کے حکام منتخب عوامی نمائندوں نے کئی بار وعدے کئے لیکن پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ورسک ڈیم سے جوگنی کے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لئے ایک واٹر چینل دیا جائے۔ مقامی ٹاون ممبر مولانا ملک امان نے کہا کہ اہل علاقہ بجلی لوڈ شیڈنگ سے تنگ آچکے ہیں، پیسکو حکام بجلی چوری کا الزام عائد کر کے اکثر بجلی بند کردیتے ہیں ملک امان نے بتایا کہ پیسکو حکام کی ناروا سلوک کی وجہ سے اہل علاقہ کنڈے ڈال کر بجلی استعمال کر رہے ہیں پیسکو حکام کے ساتھ کئی میٹنگز میں فیصلہ ہوا کہ وہ یہاں کے صارفین کو بجلی میٹر فراہم کریں گے لیکن ایک سال قبل میٹر کی تنصیب کے لئے درخواستیں دینے والوں کو پیسے جمع کرانے کے باوجود میٹر نہیں دیئے گئے مقامی نوجوان محمد حسین نے کہا کہ بجلی ٹرانسفارمرز پر بوجھ زیادہ جبکہ بجلی کی سپلائی لائن بھی بوسیدہ ہے اسے تبدیل کیا جائے۔ سماجی کارکن لعل رحمان کا کہنا تھا کہ دریائے کابل کے کنارے پچاس کروڑ روپے کی لاگت سے حفاظتی دیوار تعمیر کی گئی ہے لیکن وہ سیلابی پانی کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور ہرسال پانی میں بہہ جاتی ہے جس کی مرمت اہل علاقہ اپنی مدد آپ کے تحت کرتے ہیں محکمہ ایری گیشن اس دیوار کو مضبوط بنائے ۔ مقامی ویلج کونسل ناظم امداد اللہ شاہ نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے اور اساتذہ کو فرائض کی انجام دہی کا پابند بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں مقامی ہائی سکول میں اساتذہ کی کمی بھی دور کی جائے۔

متعلقہ خبریں