Daily Mashriq


دیر آید درست آید

دیر آید درست آید

قومی اسمبلی سے سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کادائرہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات تک بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظوری کے بعد فاٹا میں عدالتی عمل کی راہ ہموار ہوگئی ہے جو قبائلی عوام کا سب سے بڑا مطالبہ تھا۔ قبائلی علاقوں تک سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کی توسیع کے بعد ایف سی آرکی جگہ ملکی عدالتی نظام مروج ہوگا اور فرنگی دورکے ظالمانہ قانون کاخاتمہ ہوگا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر سرحدی امور عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ نہ صرف اعلیٰ عدالتوں کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھایا جارہا ہے بلکہ پچیس سفارشات بھی نافذ کی جا رہی ہیں۔ ایف سی آر کا متبادل قانون لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کے تحت فاٹا کو ترقی یافتہ بنا کر خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے گا۔ فاٹا میں اصلاحات کی مساعی کی کافی لمبی تاریخ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو قبائلی اصلاحات کے کئی مواقع آئے اور ضائع گئے۔2006ء صاحبزادہ امتیاز احمد رپورٹ۔اسے فاٹا میں انتظامی اصلاحات میں پہلی جامع کوشش قرار دیا جاتا ہے لیکن آئین سے متعلق ترامیم پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔2008ء جسٹس (ر) میاں محمد اجمل رپورٹ۔ برطانوی راج سے نافذ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن میں ترامیم تجویز کی گئیں لیکن ایف سی آر 2011میں سب کو شامل نہ کیا گیا۔2011صدر آصف علی زرداری نے سیاسی جماعتوں کو سرگرمیوں کی اجازت دی اور لوکل باڈیز ریگولیشن بھی تیار کیا گیا لیکن سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے ان پر آج تک عمل درآمد نہ ہوسکا۔2015گورنر خیبرپختونخوا نے فاٹا ریفارمز کمیشن تشکیل دیا جس کی سفارشات پر بھی جزوی عمل درآمد ممکن ہوسکا۔اب بالآخر 2018ء کے پہلے ماہ قبائلی عوام کو ایک ٹھوس اور سنجیدہ صورت میں قومی دھارے میں شمولیت کا موقع مل رہا ہے جس کا قبائلی عوام کی جانب سے طویل عرصے سے شدت سے انتظار تھا۔ اصلاحاتی اقدامات کے اولین مرحلے پر عدالتی نظام کی فاٹا تک توسیع قبائلی عوام کے لئے امید کی کرن ہے۔ موجودہ حکومت نے ان اصلاحات کا بیڑا اٹھانے کی ٹھان تو لی تھی لیکن اپنی دو اتحادی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام(ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی مخالفت کے باعث اسمبلی ایجنڈے میں معاملے کو شامل کرنے کے مرحلے کے بعد بھی ایوان میں بل پیش کرنے کی نوبت نہ آسکی تھی ۔اب چونکہ بل کی قومی اسمبلی سے کثرت رائے سے منظوری دی جا چکی ہے اور سینٹ میں محولہ دور کے سوا تقریباً تمام جماعتیں اصلاحات کی حامی ہیں اس لئے بل کی منظوری میں کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ اس بارے کئی کل جماعتی کانفرنسیں ہوئیں ' کئی قبائلی جرگے ہوئے لیکن معاملات ایوان میں آکر التواء کاشکار ہوتے رہے ہیں اور بالآخر یہ مرحلہ بھی طے ہوگیا۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی اس معاملے میں قوم پرست جماعت اے این پی کی قیادت سے بھی دو قدم آگے نکل چکے تھے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ فاٹا انضمام بارے کل جماعتی کانفرنس میں اے این پی کے قائد اسفند یار ولی خان نے اپنے خطاب میں اس حقیقت کا اظہار تک کیا تھا کہ ڈیورنڈ لائن پاکستان کی مستقل سرحد میں تبدیل ہو چکی ہے جس سے اے این پی کی سوچ میں بڑی تبدیلی اور حقیقت کے اعتراف کا عندیہ ملتا ہے جو نہایت خوش آئنداور خود اے این پی کے حوالے سے برسوں سے موجود شکوک و شبہات کے ازالے کا باعث ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن اور اچکزئی کے موقف اور تحفظات سمجھ سے بالا تر ہیں جو اب بھی ڈیورنڈ لائن کے بارے میں تاریخی اور زمینی حقیقت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ۔فاٹا تک عدالتی نظام کی توسیع اور دیگر معاملات کو آگے بڑھانے میں حکومتی مشکلات کے باعث ممکن نہ ہوسکی تھیں مگر بلوچستان کے سیاسی ارتعاش میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کا وزیر اعظم کی درخواست کے باوجود بلوچستان حکومت کے خاتمے سے عدم گریز کے بعد حکمران جماعت کو اس بات کا موقع ملا کہ وہ بلوچستان کا حساب بھی برابر کرے اور جمعیت علمائے اسلام(ف) پر واضح کردے کہ اب وہ مرکز میں بھی حکمران مسلم لیگ(ن) کی مجبوری نہیں رہے مگر بہر حال جمعیت تاحال مسلم لیگ(ن) کی مرکزی کابینہ ہی میں شامل نہیں بلکہ ڈپٹی چیئر مین سینٹ کا عہدہ بھی رکھتی ہے۔ فاٹا اصلاحات بارے جمعیت اور جماعت اسلامی کاموقف مختلف ہے جو ایم ایم اے کی بحالی میں رکاوٹ ہے۔ بہر حال اس سے قطع نظر ایم ایم اے کی بحالی کی صورت میں جمعیت علمائے اسلام(ف) اب حکومت سے علیحدگی کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اب خیبر پختونخوا حکومت سے جماعت اسلامی کی راہیں جدا کرنے کا بھی امکان بڑھے گا۔ قطع نظر اس فیصلے کے سیاسی ماحول پر اثرات کے فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے فاٹا کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل کیلئے ایک اہم سنگ میل ہے جس سے ملک میں رائج قوانین پر فاٹا میں عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔ایف سی آر قانون کا خاتمہ ہوجائے گا۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے سیاسی، قانونی اور انتظامی معاملات کی مانیٹرنگ کے لیے وزیر اعظم کی سربراہی میں قومی عمل درآمد کمیٹی پہلے ہی قائم ہے۔فاٹا کے عوام گزشتہ سات دہائیوں سے ایک غیر منضبط نظام کے تحت زندگی گزار نے پر مجبور ہیں جس کے باعث ان میں اس احساس میں شدت فطری امر تھا کہ انہیں بھی ملک کے دیگر حصوں کے عوام کی طرح آئینی حقوق ملیں ۔ گو کہ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں اور خود قبائلی عوام کے درمیان اختلافات موجود ہیں کہ طریقہ کار کیا اختیار کیا جائے لیکن من حیث المجموع آئینی حقوق دینے کے حوالے سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔مقام اطمینان یہ ہے کہ حکومت نے ایک اہم پیشرفت کی ہے جس کے آنے کے بعد باقی معاملات کو بھی آگے بڑھا یا جاسکے گا جبکہ آئینی اداروں میں اس حوالے سے کوئی امر مانع نہیں ۔ ہمارے تئیں مزید تاخیرکے بغیر فاٹا کے عوام کے جمہوری حقوق کی پاسداری ہونی چاہیئے۔

متعلقہ خبریں