Daily Mashriq


اس ایجاد کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے

اس ایجاد کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے

پشاور کے علاقے نوی کلی سے تعلق رکھنے والے نوجوان کی گاڑیوں کی چوری کی روک تھام کیلئے سمارٹ ریموٹ سسٹم کی ایجاد کو ماہرین سے تصدیق کرانے کے بعد پوری طرح حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ یہ ایک نافع ایجاد ہے جس کی بدولت اب گاڑی مالکان چابیاں گم ہونے اور گاڑی چوری ہونے کی فکر سے بے نیاز ہوں گے۔ گاڑی کی سیکورٹی کیلئے سمارٹ ریموٹ کنٹرول سسٹم بنانے والے ڈاکٹر اختر خلیل کا کہنا ہے کہ سمارٹ ریموٹ کنٹرول سسٹم سے موبائل ایپ کے ذریعہ اپنی گاڑی کی حفاظت کی جاسکتی ہے اور مالک کی اجازت کے بغیر کوئی بھی یہ گاڑی سٹارٹ نہیں کرسکے گا۔خوش آئند امر یہ ہے کہ یہ آلہ آئندہ کچھ دنوں میں عام لوگوں کو آسانی سے دستیاب ہوگا ۔خیبر پختونخوا میں جوہر قابل کی کمی نہیں قبل ازیں بھی مفاد عامہ کے مختلف آلہ جات کی ایجاد کی خبریں اخبارات میں آچکی ہیں مگر اس کے بعد علم نہیں ہو پایا یا کہ موجدوں کا دعویٰ درست نہ تھا یا پھر ان کی سرپرستی نہیں کی گئی۔ محولہ نوجوان کو اس موبائل ایپ کو عوام میں لا کر نمائش اور تجربے کا سرکاری طور پر موقع دیا جانا چاہئے اور ان کے مطالبے کے مطابق پولیس ان کو اس کے عملی تجربے کی اجات دے۔ ہمارے تئیں نہ صرف اس کی اجازت دینا کافی ہوگا بلکہ صوبائی حکومت اور پولیس کا محکمہ اس نظام کو خریدنے اور مروج کرنے میں بھی دلچسپی کا مظاہرہ کریں جبکہ عام لوگوں کو اس کے حصول کو آسان بنانے اور نوجوان کی اس ایجاد کو مروج کرنے کے لئے بھی ان کو مواقع اور وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ عوام اور پولیس دونوں سے گاڑیوں کی حفاظت کی ذمہ داری کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔

متعلقہ خبریں