بچوں کی بے حرمتی اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات

بچوں کی بے حرمتی اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات

ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی بچوں کی بے حرمتی اور سفاکانہ قتل کے واقعات تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ قصور کے حالیہ واقعہ نے جس میں ایک سات سالہ بچی زینب کی بے حرمتی کے بعد قتل ہوا لوگوں میں ایک آگ سی بھر دی۔ گو کچھ تجزیہ نگار اس آگ کو بھڑکانے والے خفیہ ہاتھ تلاش کرتے پھر رہے ہیں مگر تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ پچھلے سال یعنی 2017ء کے حوالے سے مرتب کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے پہلے 6ماہ میں اس نوعیت کے 1764 واقعات سامنے آ ئے۔ ان میں سے پنجاب میں 62فیصد' خیبر پختونخوا میں 42' سندھ میں28 اور بلوچستان میں 58 فیصد کے مقدمات درج ہوئے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ 68 واقعات ضلع قصور میں رجسٹر ہوئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جس ضلع (قصور) میں پچھلے سال 10بچیوں کی بے حرمتی اور انہیں قتل کیاگیا۔ بے حرمتی کا شکار گیارہویں بچی زندوں میں شمار ہوتی ہے نہ مردوں میں اسی ضلع میں 200 سے زیادہ بچوں کی بے حرمتی کے واقعات کی منظم ویڈیوز بنانے اور اسے عالمی مارکیٹ میں فروخت کرنے کا ایک سکینڈل بھی کچھ عرصہ قبل سامنے آیا تھا مگر نون لیگ کے ایک مقامی ایم پی اے کے دبائو پر ناقص پراسیکیوشن نے مقدمہ کا بیڑا غرق کردیا۔ زینب کی بے حرمتی اور قتل کے بعد پھوٹنے والے ہنگاموں کے دوران ہی ضلع قصور میں پتوکی کے قریبی گائوں کے گیارہ سالہ بچے کو بے حرمتی کے بعد قتل کیاگیا۔ ضلع شیخوپورہ کے فاروق آباد میں 7سالہ بچی اور ضلع سرگودھا کے بھلوال میں 17 سالہ بچی کو بے حرمتی کے بعد قتل کیاگیا۔ یہ چاروں واقعات رواں سال کے پہلے ماہ کے ہیں۔
کم عمر بچوں اور بچیوں کی بے حرمتی اور ان کے سفاکانہ قتل کے تواتر کے ساتھ ہونے والے واقعات پر چاروں صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ نے زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں خود جناب عمران خان اور ان کی جماعت جو پنجاب کے افسوسناک واقعات پر احتجاج میں پیش پیش ہے کی حکومت نے صوبے خیبر پختونخوا میں ہوئے 42فیصد واقعات کا کتنا نوٹس لیا۔ کتنے مجرم گرفتار ہوئے اور انہیں سزائیں ہوئیں؟ اس سوال پر انصافی بھڑک جاتے ہیں حالانکہ جرم کی سنگینی پنجاب میں بڑھ نہیں جاتی اور خیبر پختونخوا میں کم نہیں ہوجاتی۔ احساس ذمہ داری اور انسانی تڑپ کے پیمانے الگ الگ کیوں ہیں اس کا ایک جواب تو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک لڑکی کو بازار میں گھمانے کے واقعہ پر مرتب کی گئی پولیس رپورٹ میں موجود ہے جو مثالی پولیس نے پشاور ہائیکورٹ میں جمع کروائی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ سیاست اتنی عامیانہ ہوگئی ہے کہ اب کسی بھی واقعہ کو اپنے اور پرائے علاقے کے حوالے سے دیکھ کر رد عمل دیا جاتا ہے۔ لیکن اس سوال کو ہمارے سیاستدان اور بالخصوص استعفیٰ استعفیٰ کھیلنے والے زمینی حقائق کو سمجھنے کی شعوری کوشش کیوں نہیں کرتے۔ بھیانک جرائم پر سیاست کیسی؟ مگر ہمارے یہاں ہر چیز پر سیاست ہوتی ہے۔ ستم یہ ہے کہ جن بنیادی امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ کسی کے پیش نظر نہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے بچوں کی آگاہی کے لئے تعلیمی نصاب میں کچھ تبدیلیاں کیں تو میڈیا اور مذہبی جماعتیں اس پر چڑھ دوڑیں کم از کم دو بار حکومت کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔ اب قصور کے حالیہ واقعہ کے بعد اسی میڈیا کے بین سننے والے ہیں۔ کاش ایک مثبت کام کی صرف پیپلز پارٹی دشمنی میں مذمت نہ کی گئی ہوتی۔
اب بھی وقت ایسا ہاتھ سے نکل نہیں گیا کہ کچھ نہ ہوسکے۔ گو تعلیم 18 ویں ترمیم کے بعد صوبائی موضوع ہے پھر چاروں صوبوں کے وزرائے تعلیم کو مل بیٹھ کر صلاح مشورہ کرنا ہوگا اہل علم اور نفسیات دانوں سے رہنمائی لینا ہوگی اور بہر طور نصاب تعلیم میں بچوں کی آگاہی کے حوالے سے مضامین شامل کرنا ہوں گے۔ یہ ہمارے آج کی ضرورت ہے اور آنے والے کل کی بھی۔ المیہ یہ ہے کہ پچھلے چند سالوں سے جب سے ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے کبھی کسی نے موثر انداز میں احتجاج کا ڈول ڈالا نہ کوئی ایسی تجاویز دیں جو اصلاح کا ذریعہ بن سکیں۔ایک ایسے ملک میں جہاں ستر برسوں سے نظام ہائے حکومت کے حوالے سے تجربے جاری ہوں کامل سنجیدگی کے ساتھ سماج کے ارتقائی سفر کی بنیادی ضرورتوں کو سمجھنے اور حکمت عملی وضع کرنے کی گستاخی کون کرسکتا ہے۔ خود ساختہ اقدار و روایات نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ دیگر خرابیوں کی طرح اس خرابی کے بڑھاوے میں بھی سارا معاشرہ سہولت کار بنا ہوا ہے۔ کیا اب وقت آ نہیں گیا کہ ہم ان فرسودہ روایات اور خود ساختہ اقتدار پر تین حرف بھیج کر اپنے بچوں اور بچوں کے بچوں کو محفوظ پر امن اور روشن زندگی دینے کے لئے اقدامات کریں۔ یقینا اس میں اولین اور بڑی ذمہ داری حکومت (وفاقی اور صوبائی حکومتوں) کی ہے۔ آگاہی مہم کے لئے ذرائع ابلاغ بھی موثر رہیں گے مگر اس سے زیادہ موثر نصاب تعلیم میں خود آگاہی کے موضوعات کو شامل کرنا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب اختیار اہل علم و دانش اور سماج سدھار سب اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں تاکہ اس طوفان غارت گری کاکوئی علاج ممکن ہو۔ اس حوالے سے مذہبی رہنمائوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تطہیر ذات و ذات سماج کے حوالے سے تمام مذاہب میں جو مشترکات ہیں ان سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اصلاح احوال کی صورت بن پائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تفتیش اور پراسیکیوشن کے نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مجرم بچ نہ پائیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ قصور میں بچیوں کی بے حرمتی کے 8واقعات کی ڈی این اے رپورٹ یکساں ہے مگر مجرم تلاش کرنے کی زحمت کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے یا پھر سیاست چمکائی جارہی ہے۔

اداریہ