ایک مخلص لیڈر کی ضرورت

ایک مخلص لیڈر کی ضرورت

کسی ملک کی ترقی میں اس کی لیڈر شپ کاانتہائی اہم کردار ہوتا ہے۔لیڈر ملک اور عوام کی قسمت بدل دیتے ہیں۔ اگریورپ اور بعض ایشائی ممالک کی ترقی پر غور کریں تویہ ترقی لیڈر شپ اور قیادت کی مر ہون منت ہے۔پاکستان1947 میں وجود میں آیا۔1947 یا اس کے بعد 120 ممالک معرض وجود میں آئے مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ پاکستان ان 120 ممالک کی فہرست میں سماجی اقتصادی اعشاریوں میں سب سے نیچے ہے۔ ہم یو رپ یا ترقی یافتہ اقوام کی بات نہیں کرتے اور نہ ان ممالک سے پاکستان کا موازنہ کرتے ہیں بلکہ ہم جنوبی ایشیاء کی بات کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں سماجی اقتصادی اعشاریوں میں پاکستان8 ممالک کی فہرست میں سب سے پیچھے ہیں۔ پاکستان کو وہ قیا دت میسر نہیں ہوئی جو ملک کو بحران سے نکالے۔1954 سے اب تک14 عام انتخابات ہوئے۔ وطن عزیز پر33 سال مارشل لا رہی اور37 سال تک سول حکومت رہی مگر ان70 سالوں میں ذوالفقار علی بھٹو اور ایوب خان کے علاوہ کوئی ایسا حکمران نہیں آیا جو ملک کو صحیح راستے پر ڈالتا۔ دنیا کے ممالک دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں جبکہ پاکستان بے تحاشا وسائل کے باوجود بھی آگے کی بجائے پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ موجودہ دور میں جن جن لیڈروں نے اپنی ذہانت اور سمجھ بوجھ سے اپنے ممالک کو ترقی دی ہے ان میں وینزویلا کے ہوگوشاویز، چین کی قیادت، مہاتیر محمد اور طیب ار دگان شامل ہیں۔ وینزویلا کے ہوگوشاویز نے اپنے دور اقتدار میں وینزویلا کی اقتصادیات میں6 گنا اضافہ کیا۔ اسی طرح چین، ترکی اور ملائیشیاء کی لیڈر شپ نے ملک کو انتہائی ترقی دی۔ اگر ہم دنیا کے اکثر ممالک پر نظر ڈالیں گو کہ یہ بہت چھوٹے چھوٹے ممالک ہیں مگر وہاں کی لیڈر شپ اور قیادت نے ان ممالک کو بہت ترقی دی۔ لگزمبرگ جو رقبے کے لحاظ سے سندھ کے برابر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی ایک لاکھ10 ہزار ڈالرہے۔ سنگاپو ر کا رقبہ7 ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی82 ہزار امریکی ڈالر ہے۔ اسی طرح سوئٹزرلینڈ کا کل رقبہ41 ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی78 ہزار ڈالر ہے۔ ناروے اور فن لینڈ کا رقبہ بلوچستان کے برابر ہے مگر وہاں کی فی کس آمدنی بالترتیب71 ہزار ڈالر اور47 ہزار ڈالر ہے۔ آسٹریا کا کل رقبہ گلگت بلتستان کے برابر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی45 ہزار ڈالر ہے۔ نیوزی لینڈ صوبہ پنجاب کے برابر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی45 ہزار ڈالر ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان کا کل رقبہ تقریباً 8 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے تحاشا قدرتی وسائل سے بھی مالا مال کیا ہے مگر اس کے باوجود بھی پاکستانیوں کی فی کس آمدنی1458 ڈالر ہے۔ اگر ہم غور کریں تو مخلص قیادت اور لیڈر شپ ملکی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے نئی نئی راہیں اور طریقے تلاش کرتی رہتی ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان کو وہ قیادت میسر نہیں آئی جو اس قدر قابل، ذہین اور دوراندیش ہو کہ وہ ملک اور عوام کی قسمت بدل سکے۔ پاکستان کے عوام خواہ ان کا تعلق پنجاب سے ہو یا سندھ سے، بلوچستان سے ہو یا خیبرپختون خوا سے، فاٹا سے ہو یا گلگت بلتستان سے، انتہائی جفاکش اور محنتی ہیں۔ فی الوقت90 لاکھ پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں فکر معاش میں لگے ہوئے ہیں، جن میں قانونی یا غیر قانونی طریقے سے57 لاکھ کے قریب پختون ہیں جو ملکی معیشت میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ملک کو سالانہ20 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھیج رہے ہیں جو ہمارے وفاقی بجٹ کا آدھا ہے۔ ہمارے ملک کے لوگ لانچوں، کشتیوں، موٹرکار کی ڈگیوں اور دوسرے ناجائز ذرائع اور طریقوں سے بیرون ممالک جانے کی کوششیں کرتے ہیں اور ان میں اکثر جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھتے ہیں۔ وہ اسلئے بیرون ممالک جاتے ہیں کیونکہ وہاں کی لیڈر شپ نے ان ممالک کو جنت نظیر بنایا ہوا ہے مگر بدقسمتی سے ہماری لیڈر شپ کے لئے پاکستان کمانے کی جگہ ہے۔ وہ یہاں سے مختلف جائز اور ناجائز طریقوں سے دولت اکٹھی کر کے بیرون ممالک بینکوں میں منتقل کرتے ہیں نہ تو وہ علاج پاکستان میں کرتے ہیں اور نہ ان کے بچے یہاں پڑھتے ہیں بلکہ یہاں سے جمع کی ہوئی دولتبیرون ممالک منتقل کراتے ہیں۔ اگر ہم مزید غور کر لیں تو وطن عزیز کی۔ پہلے ان کے دادے پردادے اور اب ان کے بچے بچیاں اقتدار میں ہیں۔ جماعت اسلامی کے علاوہ کسی سیاسی پارٹی میں جمہوریت نہیں۔ اب جبکہ2018 کے عام انتخابات قریب ہیں مگر میرے خیال میں عام انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ پھر وہی لوگ اقتدار میں آئیں گے اور عوام کو بے وقوف بنائیں گے اور ملک کو مزید بدحال بھی کریں گے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی اکثریت کو اس نام نہاد اشرافیہ نے ہر قسم کے مسائل میں جکڑا ہوا ہے جن کی وجہ سے غریب عوام کو کوئی سمجھ نہیں آتی کہ کیا کریں۔ وہ کبھی ایک کو ووٹ دیتے ہیں اور کبھی دوسرے کو مگر حقیقت میں یہ لوگ ایک ہیں۔ اگر ہم پاکستان کے سیاسی خاندانوں پر نظر ڈالیں تو اکثر سیاستدان آپس میں رشتہ دار ہیں۔ جب تک سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت نہیں ہوگی اور الیکشن ریفارمز نہیں ہونگے، اشرافیہ ملکی قوانین کا احترام نہیں کرے گی تو اس وقت تک انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اداریہ