Daily Mashriq


اندھا دھند تقلید کا نقصان

اندھا دھند تقلید کا نقصان

ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح پہلے کے مقابلے میں روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے پہلے اس قسم کی خبر بہت کم سننے کو ملتی تھی کہ فلاں نے فلاں کو طلاق دے دی لیکن اب تو یہ عام سی بات ہوگئی ہے اس قسم کی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب آپ اپنے دین کے دیے ہوئے نظام حیات کو چھوڑ کر دوسروں کی اندھا دھند تقلید شروع کردیتے ہیں۔بڑھتی ہوئی طلاق کی بہت سی وجوہات ہیں آج پردے پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ اس کی حدود قیود کیا ہیں ؟ارے بھائی ہمارے پیارے دین نے عورتوں کو اپنی زینت چھپانے کا حکم دیا ہوا ہے بس اس پر عمل کیجیے !آج مسلمان دبے ہوئے ہیں مغرب کا طوطی سر چڑھ کر بول رہا ہے وہ جہاں ہم پر اپنا نظام مسلط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں وہاں ہم پر اپنی تہذیب' اپنے رسم و رواج بھی مسلط کرنا چاہتے ہیں ان کی پوری پوری کوشش ہے کہ وہ ہمیں مکمل طور پر اپنے رنگ میں ڈھال لیں۔ دور نہ جائیے الیکٹرانک میڈیا مکمل طور پر ان کی دسترس میں ہے وہ اس سے خوب کام لے رہے ہیں اپنی خواتین کا لباس دیکھ کر حیرت ہوتی ہے مغربی اثرات اب مسلمان معاشروں میں واضح طور پر نظر آرہے ہیں کچھ عرصہ پہلے ایک خبر پڑھی تھی کہ سعودی عرب میں ایک سنگدل شخص نے اپنی شریک حیات کو تشدد کا نشانہ بنایا یعنی آگے بڑھ کرحوا کی بیٹی کو دو چار تھپڑ جڑ دیے۔ اس بیچاری کے چہرے پر خراشیں بھی آئیں ۔ خاتون بھی جی دار تھی اس نے آئو دیکھا نہ تائو اورسیدھی تھانے پہنچ کر اپنے مجازی خدا کے خلاف پرچہ کٹوادیا۔سعودی عرب کی پولیس تو اپنے کام میں سستی کا مظاہرہ کبھی بھی نہیں کرتی۔ اس نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شخص کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔اب عدالت کا فیصلہ بھی ملاحظہ کیجیے۔ جج صاحب نے اسی وقت اس شخص کو سر عام تیس کوڑے لگانے اور دس دن جیل میں قید رکھنے کا حکم سنا دیا۔ سزا کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ دس دن جیل میں رہنے کے دوران مجرم کوخواتین کے حقوق کے حوالے سے تربیت بھی دی جائے گی تاکہ اسے معلوم ہو سکے کہ اپنی شریک حیات کے ساتھ کیسے زندگی گزاری جاتی ہے۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن جب ہم نے سزا کا آخری حصہ پڑھا تو ہمیں اس سنگدل شخص پر بڑا رحم آیا۔ سزا کے فیصلے کے آخر میں یہ درج تھا کہ سزا پوری ہونے کے بعد وہ خواتین کے حقوق کے متعلق تحریری امتحان بھی دے گا جس کی رپورٹ پولیس عدالت میں پیش کرنے کی پابند ہوگی اور اگر مجرم تحریری امتحان پاس کرنے میں ناکام ہوگیا تو اسے دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے جس بل کی بازگشت وطن عزیز میں سنائی دے رہی تھی ہم اس پر سوچ رہے تھے کہ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے' کیا ہمارے معاشرے میں اس قسم کے قوانین قابل عمل بھی ہوسکتے ہیں یا نہیں؟امریکہ اور یورپ کی تقلید اپنی جگہ لیکن ہمیں خبر پڑھ کر حیرانی کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ سعودی عرب ایک اسلامی ملک ہے اور وہاں کے قوانین تو یقینا عین اسلامی ہوں گے اگر جج نے خاوند کو بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی سزا تیس کوڑے سنائی ہے تو یقینا یہ سزا اسلامی شریعت میں موجود ہوگی اور اسے دس دن جو تربیت دی جائے گی یا خواتین کے حقوق کے بارے میں اسے بتایا جائے گا تو وہ بھی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہی ہوگا۔ تعلیمات اور قوانین تو اپنی جگہ لیکن ہم یہ خبر پڑھنے کے بعد خاوند سے زیادہ بیوی کے حوالے سے فکر مند تھے ہمارے عربی بھائی تو شادیوں کے حوالے سے اچھے خاصے خود کفیل ہیں تین چار شادیوں والے تو وہاں بکثرت پائے جاتے ہیں اگر بیوی کے نان نفقے کا ذمہ دار شوہر پولیس سے تیس کوڑے کھا کر گھر آتا ہے تو اس کے دل ودماغ میں ایک ہی فقرہ ہلچل مچائے رکھتا ہے کہ اس نیک پروین سے کیسے انتقام لوںاسے اپنی انا کے مجروح ہونے کا احساس ایک لمحے کے لیے بھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ اس لیے گمان غالب ہے کہ وہ ایسی بیوی کو پہلی فرصت میں طلاق دے کر فارغ کرنے کا سوچے گاجس کی وجہ سے اسے سرعام کوڑے کھانے پڑے ۔اس طرح معاشرے میں اصلاح سے زیادہ بگاڑ کے امکانات نظر آتے ہیں۔ دراصل ہر معاشرے کا اپنا مزاج اپنا تہذیب و تمدن ہوتا ہے۔ آپ دور نہ جائیے اپنے ارد گرد شادی شدہ جوڑوں کی زندگی کا مطالعہ کیجیے تو آپ محسوس کریں گے کہ ہمارا فیملی سسٹم یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں بڑا مضبوط ہے وہاں طلاق کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے ہمارا فیملی سسٹم بہت پائیدار ہے یہاں لکھے ہوئے قوانین کے مقابلے میں اقدار کی پاسداری کی جاتی ہے یہاں روایات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ مغرب ہم سے بہت سے حوالوںسے مختلف ہے وہاں لڑکا اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ جائے تو والدین اس سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔ہمارے یہاں بچیوں کی شادی تو مکمل طور پر ماں باپ کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے جبکہ یورپ اور امریکہ میں سب نے اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوتا ہے۔ مشرق ومغرب کی معاشرتی اقدار کے اس تجزیے سے ہماری ہر گز یہ مراد نہیں ہے کہ ہم ان سے بہتر ہیں اور وہ ہم سے کم تر ہیں بات صرف اتنی سی ہے کہ وہ ہم سے مختلف ہیں ان کے رسم ورواج ان کا تہذیب و تمدن ان کی اقدار ہم سے مختلف ہیں ۔ مغربی معاشرے کی بہت سی چیزیں ہم سے اچھی ہیں اور بالکل اسی طرح ہمارے بہت سے طریقے بہت سے رسم و رواج ان سے بہتر ہیں ایک بات ایک جگہ پر درست تو ہو سکتی ہے لیکن ایک ہی بات ہر جگہ درست نہیں ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں