Daily Mashriq


جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

ان کو دیکھ کر اپنے ہاتھ کی انگلیاں کاٹ ڈالنے والیوں کے اس منظر نامہ میں ہم نے ایک زلیخا بھی دیکھی جس نے ان پر تراش تراش کر الزام پھینکنے کی انتہا کردی اور بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا جیسا رویہ اپنا کر کوڑیوں کے مول ڈھیر ساری شہرت کمالی اوریوں بھی ہوا کہ اس من جلی نے پریس اینڈ میڈیا کے ایک گروہ کو اپنا حمایتی بنا لیا جو عمران خان کی کردار کشی میں کسی بھی قسم کی رو رعایت برتنے کا روادار نہیں تھا ، سو اس نے عمران کی شادیوں کے ایشو کو اتنا اچھالا جیسے عمران خان نے تیسری شادی کرکے بہت بڑا گناہ کرلیا ہو۔ عمران خان کی شادیوں کا یہ ایشو اس کی پر تجسس شخصیت کے حوالے سے آج کی تازہ اور گرما گرم خبر بن کر چرچوں کی صورت اختیار کر گیا۔ کہتے ہیں اس بار انہوں نے بشریٰ مانیکا نامی انتہائی درجہ کی پرہیز گار مگر مطلقہ خاتون کو اپنے عقد نکاح میں قبول کرنے کے لئے چنا۔ان دونوں کے جیون ساتھی بننے کے متعلق مشہور ہونے والی اس خبر کو جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق ہر کوئی اپنے اپنے رنگ میں پیش کر رہا ہے ۔ کوئی اس بہانے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیکر اس کے صادق و امین ہونے پر شک کر رہا ہے اور کوئی اس کی اس حرکت کو اس کا ذاتی معاملہ گردان کر انگلیاں اٹھانے والوں کو چپ کرانے کی کوشش میں مگن ہے۔ اس عالم گو مگو میں پی ٹی آئی والوں نے عمران کی شادی کی خبر کی تردید کرتے ہوئے بتایا ایسی کوئی بات نہیں۔ انہوں نے جھٹ منگنی پٹ بیاہ قسم کی کوئی حرکت نہیں کی۔ شادی کا پیغام بھیجا ہے نہایت نیک دل اور پاک باز خاتون بشریٰ مانیکا کو جس کے جواب میں مانیکا بی بی نے ان کو سوچ کر جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری طرف اس پرتجسس خبر کی حقیقت بتانے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شادی کی پیشکش محترمہ بشریٰ مانیکا نے از خود کی تھی اور انہوں نے اس کے لئے یکم جنوری2018ء کے دن کو قسمت کے ستاروں کی گردش کی مناسبت سے بہتر سمجھا تھا اور یوں دلوں کو جوڑنے والے کے حکم سے یہ سپر نیچرل جوڑی ازدواج کے بندھن میں جکڑ دی گئی۔کیا سچ ہے کیا جھوٹ اس کے متعلق آنے والا وقت ہی کچھ بتا سکے گا۔ملک اور قوم کا ہر فرد اس موضوع پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کررہا ہے ۔یہ کوئی نئی بات نہیں ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ بات کا بتنگڑ بنانا لوگوں کا عام سا رویہ ہے۔ دیکھو جی گدھے پر بیٹا بیٹھا ہے اور بوڑھا باپ پیدل چل رہا۔ یہ لوباپ گدھے پر بیٹھ گیا اور بیٹے کو گدھے سے نیچیاتار دیا۔ ارے یہ کیا کتناظالم ہے یہ باپ اور اس کا بیٹا کمزور و ناتواں گدھے پر دونوں سوار ہوگئے ۔ ارے ارے انہیں دیکھو ، گدھا بھی ہے ان کے پاس اور پیدل چلے جارہے ہیں یہ دونوں ، بے وقوف کہیں کے۔ آپ نے بھی پڑھی یا سنی ہوگی وہ کہانی جس میں لوگو ں کے طعنوں سے تنگ ہوکر باپ بیٹا دونوں گدھے کو اٹھا کر دریا میں پھینک دیتے ہیں ۔ دیکھو جی ، کل تک یہ بھوکا مرتا تھا ، آج دھن دولت سب کچھ آگیا ہے اس کے پاس، یہ ساری دولت لٹا بیٹھا اور اب لوگوں سے مانگتا پھر تا ہے، ارے کل تک پیدل پھر رہا تھا آج کار سے باہر قدم نہیں رکھ پاتا۔ باتیں بنانے والے اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور وہ لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں جو کسی کی باتوں کی پر واہ نہیں کرتے،

عرفی تو میندیش ز غوغائے رقیباں

آواز سگاں کم نہ کنند رزق گدا را

ایک بندے نے عمران خان کو رنگیلا لیڈر کہہ دیا۔ دوسرے نے اسے دل پھینک کہا ، تیسرے نے اسے لڑکیاں پاٹنے کا گرو بتایا ۔ ان کے شادی کرنے اور شادی کے بعد طلاق دینے کے روئیے پر تنقید کرتے ہوئے کوئی کہہ رہا تھا کہ یہ شادی بیاہ کو گڈے گڈی کا کھیل سمجھتا ہے ۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اس کے دھرنے اور دھر دینے والے جلسوں میں ملک کے گوشے گوشے سے چل کر آنے اور موسیقی کی دھن پر ناچنے ، بھنگڑے ڈالنے اوراس کے گن گانے والی پگلیوں کا جم غفیر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جلسوں میں آنے والیاں عمران پیا کو دل میں بسا کر زبان حال سے اس بات کا اقرار کرتی نظر آتی رہیں کہ

اے ری میں تو پریم دوانی، میرا درد نہ جانے کوئی

عمران کو چاہنے والیاں ، مسی دنداسہ اور سولہ سنگھار کو بالائے طاق رکھ کر اپنے چہروں پر پی ٹی آئی کے جھنڈوں کے سٹکر چپکا لیتی ہیں یا ان کی پارٹی کے جھنڈے کے رنگ کے دوپٹے اور چوڑیاں پہن کر یا اپنے تن او ر من کو پی ٹی آئی کے رنگوں میں رنگ کر

بل بل جاؤں تورے رنگ رجوا

اپنی سی رنگ لی نی موسے نیناں ملائی کے

جیسے راگ الاپنے لگتی ہیں ۔ اتنی اپسراؤں کی موجودگی میں بھلا عمران کو کیا پڑی تھی شادیوں کی ہیٹ ٹرک پوری کرنے کی ۔ اس نے یہودن کو مسلمان بنا کر اسے پاکستانیوں کی بہو بیٹی اور بھابھی بنایا لیکن پاکستانی اس کی قدر نہ جان سکے ۔ سو اس نے اسے طلاق دے دی کہ بیوی کو طلاق دینے اور اسے آزاد کردینے کا آپشن ہماری دینی تعلیمات میں موجود تھا۔ عمران کی زندگی میں ٹی وی اینکر ریحام خان آئیں ، لیکن بقول اس کے

میں تیرے سنگ کیسے چلوں ساجنا

تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا

وہ اپنے ہر انٹرویو میں عمران کے ساتھ نہ چل سکنے کا اقرار کرتی رہیں۔ اور اب ، جب ایک اللہ والی اپنی ساری کشتیاں جلا کر عمران کے عقد نکاح میں آنے لگی ہے یا آچکی ہے تو یوں لگ رہا ہے جیسے ہر کوئی کہہ رہا ہویہ کیا کردیا عمران نے ، عمران تو صرف ہمارا تھا ۔

متعلقہ خبریں