Daily Mashriq


ضمنی بجٹ

ضمنی بجٹ

وزیر خزانہ اسد عمر نے کراچی میں چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ارکان سے ملاقات کے دوران جہاں 23 جنوری کو منی بجٹ پیش کرنے کا اعلان کیا وہاں یہ بھی یقین دہانی کرا دی کہ اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ یہ ضمنی بجٹ 21جنوری کو پیش کیاجانا تھا جو وزیر اعظم عمران خان کے مجوزہ دورۂ قطر کے باعث اب 23جنوری کو پیش کیا جائے گا۔ قطر نے کچھ عرصہ پہلے دس لاکھ پاکستانیوںکو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا اور قطر کے ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ وزیر اعظم کے دورۂ قطر کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان میں سرمایہ کاری کے کچھ سمجھوتے کیے جائیں گے۔ گمان غالب ہے کہ وزیر خزانہ ضمنی بجٹ قطر کے ساتھ میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کی خبروں کے ماحول میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اس ملاقات میںکہا ہے کہ آئی ایم ایف سے فی الحال کوئی پروگرام حاصل نہیں کیا جا رہا ۔ آئی ایم ایف سے معاملت جب سے پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آئی ہے اس وقت سے چل رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے امدادی پروگرام حاصل کرنے کے لیے حکومت نے درآمدات میں کمی کرنے اور ان پر محاصل میں اضافہ کرنے کی پالیسی بھی اختیار کی‘ بجلی ‘پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمت میں اضافہ بھی کیا۔ یہ وہ اقدامات ہیں جن کے مطالبہ کی آئی ایم ایف سے توقع کی جاتی ہے لیکن قطعی مذاکرات سے پہلے ہی ان اقدامات کے باوجود آئی ایم ایف کی شرائط میں کسی نرمی کے فقدان کے باعث لگتا ہے حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر ہی معیشت کو آگے بڑھایا جائے۔ امدادی پیکیج کے بجائے دوست ملکوں سے سرمایہ کاری ‘ قرضوں پر انحصار کیا جائے۔ وزیر خزانہ کا تاجروں کے ساتھ ملاقات میں یہ کہنا کہ آئی ایم ایف سے فی الحال کوئی پروگرام نہیں لیا جار ہا‘ کاروباری طبقے میں اس گومگو کی کیفیت کو ختم کرنے کا باعث ہو گا جو آئی ایم ایف سے رجوع کرنے یا نہ کرنے کے تذبذب کے حوالے سے تھی۔ اب کاروباری طبقہ اس تذبذب میں نہیں رہے گا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے حوالے سے ملک میں کاروبار کرنے کی لاگت میں کیا تبدیلی آئے گی۔ وزیر خزانہ کی اس یقین دہانی کے معیشت پر بہتر اثرات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ وزیر خزانہ نے تاجروںکو یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت ملک میں کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہو گی ۔ تاجروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے وزیر خزانہ نے یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ ایف بی آر کے ایس آر او جاری کرنے کے اختیار کو ختم کر دیا گیا ہے اور ٹیکسوں میں کسی بھی تبدیلی کی منظوری اب پارلیمنٹ سے لی جایا کرے گی۔ اس طرح وزیر خزانہ نے ٹیکسوں کی پیچیدگیاں ختم کر کے کاروباری طبقہ اور سرمایہ کاروںکا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم وزیر خزانہ نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ ملک میں ٹیکس نیٹ کو توسیع دینے کے لیے وہ کون سے اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے کہا ہے کہ ٹیکسوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ تاہم ان کی گفتگو سے یہ واضح ہو گیا کہ آئی ایم ایف سے امدادی پیکیج حاصل کرنے کی بجائے ملک میں سرمایہ کاری لانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی ۔ اسی روز گوادر میں سعودی وزیر پیٹرولیم اور توانائی خالد بن عبدالعزیز کو آئل ریفائنری اور گوادر آئل سٹی بنانے کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور انہوں نے بتایا کہ ریفائنری قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آئندہ ماہ پاکستان آئیں گے ۔ ایک اجلاس کے دوران سعودی وزیر نے کہا کہ سعودی عرب آئل ریفائنری کے قیام اور سی پیک میں شراکت کے ذریعے پاکستان کی معاشی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ آئندہ دو ماہ کے دوران قطر‘ چین اور ملائیشیا سے بھی معاشی تعاون کے سمجھوتوں کی توقعات ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی غیر ملکی امداد کی بجائے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوششیں ثمر آور ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ تاہم اس دوران ملک میں مہنگائی کا جو طوفان برپا ہے اس سے عوام کو نکالنا ضروری ہے۔دن بدن اشیائے ضروریہ وخوردونوش کی قیمتوں میں اضافے نے عام لوگوں کی کمر توڑدی ہے ۔اس پر ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے ان کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ معیشت جس دگرگوں حالت میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ملی تھی اسے فوری طور پر نہیں بدلا جا سکتا تھا ۔ اگر سابقہ حکومتوں کی طرح آئی ایم ایف کی سخت شرائط مان لی جاتیں تو معیشت سابق ڈگر پر ہی چلائی جا سکتی تھی جس میں غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ حکومت کا معیشت کو قرضوں کی بجائے سرمایہ کاری کی طرف لانے کے اصول پر قائم رہنے کا صبر و استقلال قابلِ تعریف ہے تاہم مہنگائی سے کم آمدنی والے طبقات پر جو گزر رہی ہے اس کا ازالہ ضروری ہے۔کیونکہ عوام مزید مہنگائی کا بوجھ اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور کاروباری طبقے کے اعتماد کی بحالی کی پالیسی کے مثبت اثرات کب عوام تک منتقل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عوام پر واضح کرے کہ اس کی معاشی پالیسی کب عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کر سکے گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت عوام کے ووٹ سے برسراقتدار آئی ہے ‘ اسے عوام سے اعتماد کا رشتہ قائم رکھنے کی طرف توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں