Daily Mashriq


مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ

مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ

وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ حکومت پر ن لیگ کے میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری کے معاملات طے کرنے پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن کوئی ایسا سمجھوتا نہیں کیاجائے گا۔ تاہم ن لیگ کے لیڈر آف دی اپوزیشن میاں شہباز شریف کا سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کس نے این آر او مانگا ‘ کب مانگا۔ فواد چودھری کہتے ہیں کہ حکومت سے کہا جا رہا ہے کہ کچھ لے دے کر معاملہ ختم کر دو لیکن وہ اشارہ تک نہیں دے رہے کہ حکومت پر دباؤ کس طرف سے آ رہا ہے اور جہاں تک کچھ لے دے کر معاملہ ختم کرنے کی بات ہے اس ’’کچھ‘‘ کے مضمرات کیا ہیں۔اس حوالے سے بھی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ دوسری طرف جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی نااہلی سے لے کر اسرائیل کی تسلیم کرنے اور قادیانیوں کو ریلیف دینے کے الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پانچ ماہ میں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو ایک ساتھ بٹھا دیں گے۔ تاہم انہوں نے موجودہ صورت حال کے بارے میں کہا ہے کہ ان میں سے ایک آگے آتا ہے تو دوسرا پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اگر بفرض محال حکومت سے کوئی ڈیل ہوئی تو وہ کسی ایک کے لیے ممکن نظر نہیں آتی۔ این آر او ہوا تو اس میں بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچا تھا۔ ایک طرف فواد چودھری کے بیان سے یہ اندازہ نہیںہوتا کہ دونوں سے بیک وقت معاملہ طے کرنے کی بات ہو رہی ہے یا کسی ایک کے ساتھ ۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں ایک ساتھ بیٹھنے پر تیار نہیں ہیں۔ فرض کیجئے مولانا ان دونوں لیڈروں کو یکجا کرنے میںکامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ کس بات پر یکجا ہوں گے جب کہ مولانا نے موجودہ حکومت کے خلاف ایک طویل فرد الزامات جاری کی ہے۔ میاں نواز شریف عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں ‘ پیپلز پارٹی والے بھی کہتے ہیں کہ ہم الزامات کا جواب عدالتوں میں دیں گے۔ یہ صورت حال پانچ ماہ میں ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ اس صورت حال میںمولانا فضل الرحمان کا دعویٰ کہ وہ دونوں بڑی پارٹیوں کے لیڈروں کو یکجا کر دیں گے کچھ قرین قیاس نظر نہیں آتا۔

Iمولانا حمداللہ جان مرحومI

ممتاز عالم دین شیخ القرآن و الحدیث اور جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے سرپرست اعلیٰ مولانا حمد اللہ جان 105برس کی عمر میں ہفتہ کے روز اس جہان فانی سے رحلت فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ کریم ان کی مغفرت فرما ئے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ عالم اسلام ایک جید عالم دین سے محروم ہو گیا۔ آج ان کی رحلت پر صوابی اور گردو نواح کی فضا سوگوار ہے۔ اللہ کریم ان کے پسماندگان کو جن میں ان سے اکتساب فیض کرنے والوں کی ہزاروںکی تعداد بھی شامل ہے صبر جمیل عطا فرمائے۔ مرحوم ایک دینی گھرانے میں 1914ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد اور چچا سے حاصل کی۔ دیوبند میں بھی زیرِ تعلیم رہے اور مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں بھی اکتساب علوم کیا۔ مولانا حمد اللہ جان مرحوم نے ساری زندگی دین کی خدمت اور سربلندی کے لیے وقف کیے رکھی اور پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے کوشاں رہے۔ کچھ عرصہ مرحوم کابل میں بھی دورہ حدیث کا درس دیتے رہے۔ وہ شیخ الہند کے شاگرد تھے اور جامعہ فاروقیہ کراچی میں بھی درس و تدریس میں مصروف رہے۔ مولانا حمداللہ جان مرحوم تفسیر ‘ حدیث‘ فقہ ‘ اصول فقہ ‘ منطق‘ فلسفہ ‘ مناظرہ ‘ علم کلام‘نحو و صرف اور شعر و ادب میں کمال رکھتے تھے۔ پاکستان‘ افغانستان اور دیگر کئی ممالک میں ان کے ہزاروںشاگرد آباد ہیں۔ ایسے متبحر عالم صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی وفات پر اے این پی کے اسفند یار ولی سمیت بیسیوں مشاہیر اور علمائے دین نے تعزیت کے پیغامات ارسال کیے ہیں۔ اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے ۔

متعلقہ خبریں