Daily Mashriq


یہ نیا دور ہے

یہ نیا دور ہے

اونچائی پر بسنے والوں میں ایک بڑی کمزوری ہوتی ہے۔اپنی طرف اٹھے ہوئے چہرے ، تالیاں بجاتے ہاتھ، تعریف انڈیلتے لب اور ستائش بھری نگاہیں انہیں اس غلط فہمی میں مبتلا کردیتے ہیں کہ وہ جو بھی کہیں گے ، ان کی نیت کسی کو دکھائی نہ دے گی اور لوگ اسی بات کا یقین کرینگے جو یہ اپنے لفظوں کی شعبدہ بازی سے گھڑیں گے ۔ اکثر اوقات ہوتا بھی یہی ہے ۔محبت اور ستائش لفظوں کے معنی بدل دیا کرتے ہیں ، رنگوں کی پہچان بدل دیتے ہیں ۔ منہ سے نکلے لفظ سماعتوں تک پہنچے پہنچتے ایک نیا ہی رنگ اختیار کر لیتے ہیں ۔ یقین لانے اسی طرح سمجھتے ہیں جیسے کہ سُنانے والے کی خواہش ہوتی ہے لیکن ایسے بھی ہیں جو یقین رائے دینے والے نہیں ،سوال کرنے والے ہیں ۔ انہیں دلیل مطمئن کرتی ہے ۔ اونچائی پر بسنے والے اپنی تنہائی کے ساتھ بڑے واضح دکھائی دیتے ہیں ۔ انکے لہجوں کا اصل صاف سنائی دیتا ہے ۔ کئی بار باتوں کے اصل مفہوم جملوں کے بلندی سے اترنے سے پہلے ان تک اترآتے ہیں۔ یہ باتوں کو کان لگا کر سُنتے ہیں تاکہ جملوں میں معنی کی باز گشت بھی سُن لیں یہ سُن لیتے ہیں ،جان لیتے ہیں ،مسکراتے ہیں ،خاموش ہوجاتے ہیں لیکن سچ انکے لیے دن کی دھوپ کی طرح واضح ہوتا ہے ۔

مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ وہ پانچ ماہ میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو اکٹھا کردیں گے ۔ وہ جانے کن باتوں کے ابہام میں گم ہیں ۔ بڑے قابل احترام سیاست دان ہیں بلکہ وہ اور آصف علی زرداری بڑے پائے کے سیاست دان ہیں ۔ ان سے ایسی بات کی امید ہی نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ تو وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو اکٹھا کرنے کے لیے موجودہ حکومت ، عدالتیں ، نیب سب مل کر کام کررہے ہیں ۔ احتساب کی ایک ایسی فضا پاکستان میں اس وقت چھائی ہوئی ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو اکٹھا ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ یہ بھی شاید ایک Understatementہے کیونکہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی ہمیشہ ہی سے اکٹھے ہیں ۔ انکے اکٹھے ہونے کے بارے میں میں نے ہمیشہ لکھا ، اس وقت بھی جب محترمہ بینظیر بھٹو زندہ تھیں۔ میاں نوازشریف کا بھی عروج تھا۔ملک میں جمہوریت کا دور نیا نیا شروع ہوا تھا ۔ دونوں پارٹیاں حکومت کے لیے باریاں لیا کرتے تھیں ۔ ایک بار ایک جماعت کی حکومت ہوتی انہیں بدعنوانی کے الزام میں فارغ کیا جاتا تو دوسری حکومت کرتی ۔پھر وہ بدعنوانی کے الزام کے ساتھ فارغ ہوتی ۔ جو اقتدار میں ہوتا وہ نظر کے دھوکے کے لیے دوسرے کا احتساب کرتا اور بات ختم ہو جاتی ۔ پرویز مشرف کا دور آیا دونوں ہی جماعتوں کو میثاق جمہوریت کا خیال آیا۔ اس سارے وقت میں مولانافضل الرحمن ہمیشہ حکومت کرنے والے کے ساتھ رہے اس لیے انہیں تو اس اکٹھ کی حقیقت سب سے زیادہ معلوم ہوگی۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ہی ایم کیو ایم ، اے این پی، اور مولانا فضل الرحمن کو اپنے ساتھ رکھا۔ ہر حکومت کرنے والے نے انہیں ’’چوگا‘‘ڈالے رکھا اس لیے جمہوریت اور جمہوری اتحادوں کی حقیقت سے تو وہ بخوبی واقف ہیں۔ آج بھی صورتحال کہاں مختلف ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ہے یہ ملک لُٹ لُٹ کر تھک چکا تھا۔لوگ ابتری سے چھٹکاراحاصل کرنا چاہتے تھے۔ہر طرف سے مایوس ہوچکے تھے پھر بھی ہاتھ پیر مار رہے تھے کہ بدعنوانی کے اس بھنورسے کسی طور نکل آئیں۔ کہیں سے کسی تنکے کا سہارا ہی مل سکے۔ بہتری کی خواہش رکھتے تھے ۔ تحریک انصاف نے لوگوں میں نہ صرف احتساب کا ادراک پیدا کیا بلکہ لوگوں کو یہ یقین دلا یا کہ وہ ان سیاستدانوں کے مستحسن ثابت ہوںگے جنہوں نے اس ملک اور اس قوم کے ساتھ ہمیشہ بے وفائی کی۔اس ملک کو اس حال تک پہنچایا کہ ہر ادارہ تباہ حال ہوچکا۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی اس بات کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے ۔ ان کا خیال تھا کہ نواز شریف کی نااہلی اور پھر جیل جانے کو انتخاب میں استعمال کر کے ووٹ لیے جا سکیں گے ۔ لیکن اب کی بار لوگوں کا سوچنے کا انداز بدل چکا تھا۔ تبدیلی آچکی تھی ، تبھی تو تحریک انصاف پر لوگوں نے اعتماد کا اظہارکیا۔مولانافضل الرحمن نے شروع شروع میں بہت ہاتھ پائوں مارے ، بہت شور شرابا کیا لیکن کچھ بن نہ پایا ۔ اب وہ ان دونوں جماعتوں کو ایک بار پھر متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ میاں نوازشریف اورمیاں شہباز شریف اپنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں ۔کئی بڑے مسلم لیگی رہنما اپنے معاملات کے باعث جیل میں ہیں یاان کا جیل جانا متوقع ہے ۔بہت شور شرابا مچتا ہے کہ بد عنوانی کے نام پر مسلم لیگ(ن) کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ میںسمجھتی ہوں کہ ایسا نہیں ہے ۔ پچھلی حکومت مسلم لیگ(ن) کی تھی ۔ ابھی انکے بدعنوانیوں کے نشان تازہ تھے ۔ کُھرے جلدی مل گئے اس لیے احتساب کا شکنجہ سب سے پہلے انکی گردنوں کے گرد کسا گیا۔ پیپلز پارٹی کی بدعنوانی کے نشان تلاش کرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ سندھ میں اس کی حکومت آج بھی ہے ، سو معاملات کو وہ سنبھال ہی رہی ہے ۔مرکز میں اس کی حکومت پر ایک اور حکومت کی بدعنوانیوں کا پانی پھر چکا اس لیے تلاش میں ابھی کچھ دن لگیں گے ۔ مولانا فضل الرحمن کی تشویش اپنی جگہ بالکل درست ہے ۔ وہ دراصل اپنی سیاسی حیات کے حوالے سے مشوش ومتفکر ہیں ۔وہ کامیاب بھی ہونگے ، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا اکٹھ ایک فطری عمل ہے لیکن اس کا فائدہ نہ ہوگا کیونکہ حالات اس وقت کتنے بھی دھندلے دکھائی دیں ۔ اب اس ملک میں تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے۔لوگ اب سب کچھ سمجھ اور جان چکے۔اب ان کو ورغلایا نہیں جا سکتا۔کوئی اپنی باتوں سے ان کی سوچ آسانی سے نہیں بدل سکتا۔ یہ ایک نیا دور ہے جس میں مسلم لیگ(ن) ،پیپلزپارٹی، اے این پی، ایم کیوایم جیسے گروہوں کی جگہ ہی باقی نہیں۔

متعلقہ خبریں