Daily Mashriq


پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی5 ماہ کی کارکردگی

پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی5 ماہ کی کارکردگی

وزیر اعظم عمران خان نے کچھ روز قبل کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جتنی قربانیاں دیں کسی اور ملک اور مسلح افواج نہیں دیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کی کوئی اور جنگ ہم اپنی سر زمین پر نہیں لڑیں گے۔ بیرونی اور اندرونی قر ضوں کے طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا جو ریاستیں دوسرے کے قرضوں پر پلتی ہیں وہ خود مختار اور آزاد نہیں ہوتیں۔اگر ہم غور کریں تو عمران خان اور اُنکے رفقائے کار عرصے سے نواز شریف ،آصف زرداری اور دوسرے سابق وزرائے اعظم اور صدور کو قرضے لینے اور بد انتظامی پرہدف تنقید بناتے ہیںمگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے تو اس نے بھی اپنی حکومت کے ابتدائی 5مہینے میں قرضے لینے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ۔ حکومت نے گزشتہ پانچ مہینوں میں 2240 ارب قرضہ بین الاقوامی اور قومی مالیاتی اداروں سے لیا اور اسی طرح مزید قرضوں کے لئے مختلف ممالک سے گفت و شنید جاری ہے۔اگر ہم خان صا حب کے دور اقتدار کے 5 ماہ کے مختلف ممالک کے دوروں کا تجزیہ کریں تو خان صا حب نے گزشتہ 5مہینوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، ملائیشیاء ، ترکی کے دورے کئے اور ان دوروں میں چین نے 2 ارب ڈالر ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے 3 ارب ڈالر نقد اور 3 ارب ڈالر کے قرض پر تیل دینے کی یقین دہانی کی ہے۔ پاکستان اس وقت 91 ارب ڈالر بیرونی قر ضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اور اگر بیرونی اور اندرونی قرضوں کے حجم کا تجزیہ کیا جائے تو یہ تقریباً 30 ٹر یلین یعنی 30 ہزار ارب روپے ہیں۔ اور اسی طرح پاکستان کا فی کس قر ضہ 1070 ڈالر یعنی ایک لاکھ 44 ہزار روپے ہے جو ہمارے ملک کی مجموعی آمدنی کا 78 فی صد ہے جو ہماری معیشت کے حساب سے زیادہ قرضہ ہے۔پاکستان ان قرضوں کے سود کی ادائیگی پر 9 ارب ڈالر سالانہ اور فی سیکنڈ کے حساب سے 686ڈالر ادا کر رہا ہے۔اگر ہم عمران خان کے پانچ مہینوں کے دور حکومت کا تجزیہ کریں تو خا ن صا حب نے بھی ان قرضوں کو ختم کرنے کے لئے کوئی منصوبہ بندی اور حکمت عملی نہیں بنائی۔ اوراسی طرح ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے کوئی طریقہ کار نہیں بنایا ۔ جس وقت خان صا حب، پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اور دوسری سیاسی پا رٹیوں کے خلاف کنٹینر پر کھڑے ہوکر تقاریر کرتے تھے اُس وقت تو کپتان حکومت کا حصہ نہیں تھے مگر اب تو تین صوبوں اور وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے تو اب کس بات کا انتظار ہے۔عمران خان الیکشن سے پہلے بھی اس بات کا بھی بار بار ذکر کرتے تھے کہ ہم نے پاکستان کے ہر شعبے کو ٹریک پر لانے کے لئے ایک ٹاسک فو رس اور تھنک ٹینک بنا رکھا ہے جو وطن عز یز کے مسائل کو ہنگامی بنیا دوں پر حل کر نے میں ممد و معاون ثابت ہوگا مگر پھر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کسی شعبے میں اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ اس ملک کا کوئی والی وارث نہیں۔پاکستانی عوام کی عمران خان اور پی ٹی آئی سے بُہت زیادہ توقعات تھیں مگر اب تو کسی شعبے میں پالیسی اور حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں مایو سی پھیلی ہوئی ہے ۔ پانچ مہینوں میں مختلف اشیاء کے نر خوں میںبے تحا شا اضافہ ہوا اور غریب ٹیکسوں، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے نر خوں کے بوجھ تلے مزید دبتا چلا جا رہا ہے۔اور اب تو عمران خان اور اُنکے رفقائے کار 50لاکھ مکانات اور ایک کروڑ نو کریوں کی بات بھی نہیں کرتے۔پاکستان تحریک انصاف کے وہ کارکن جو پی ٹی آئی اور عمران خان کے لئے جان دینے کو بھی تیار تھے وہ انتہائی مایو سی اور کرب کا شکار ہیں۔ملک کے اندر اور بیرون ملک پاکستانیوں میں انتہائی بے چینی پائی جاتی ہے اور ہر پاکستانی یہ بات سوچنے پر مجبور ہے کہ اس ملک کا کیا ہوگا۔ اگر ہم مزید غور کریں تو پاکستان گزشتہ 71 سالوں سے تقریباً 6 ہزار اشرا فیہ اور ملٹری بیوروکریسی کے تسلط اور معاشی ناہمواری کا شکار ہے اور اس ملک کو اتنا لوٹا گیا ہے کہ ہم غریب ممالک سے بھی سماجی اقتصادی اعشاریوں میں پیچھے ہیں۔لوگ تا بناک مستقبل کی تلاش میں ہوتے ہیں اور بد قسمتی سے پاکستانی ماضی کو یاد کرتے ہیں۔ ہمارا آنے والا کل اتنا بُرا اور خراب ہوتا ہے کہ ہمیں ما ضی اچھا لگنا شروع ہوجاتا ہے حالانکہ ما ضی کے حکمران اپنے دور میں بدعنوانیوں میں ملوث پاکستانیوں کو لوٹنے والے اور غریبوں کے وسائل کو ہڑپ کھانے والے تھے۔

پاکستان کے 21 کروڑ عوام کو دیکھا جائے تو پاکستان کے عوام خواہ ان کا تعلق کسی بھی صوبے اور کسی بھی علاقے سے ہو انتہائی جفاکش، محنتی اور محب وطن ہیں مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے حکمران اتنے نااہل ہیں کہ ہمیں اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔نوجوان ، بو ڑھے، بچے اور بچیاں ایک ہیجانی اور گو مگوں کی کیفیت کا شکار ہیں۔ والدین بچوں پر لاکھوں روپے خرچ کر کے اُنکو انجینئر ، ڈاکٹر، ٹیکنیشن بنا رہے ہوتے ہیں مگر یونیورسٹی اور کالجوں سے نکل کر نہ تو اُنکو کوئی نوکری ملتی ہے اور نہ وہ معاشرے میں اپنی تعلیم، علم اور تجربے کے مطابق کو ئی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دراصل اس قسم کے مسائل ملک میں نا قص نظام اور مو ثر حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ جس ملک میں کسان اپنی فصل اور نوجوان اپنی ڈگریاں جلاتے ہیں اُس ملک کے حکمرانوں سے ہم کیا توقع کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں