Daily Mashriq


توہین یا توقیر؟

توہین یا توقیر؟

قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس جاوید اقبال اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے درمیان وزیر اعظم کی احتساب بیور و میں طلبی پردلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے ۔فوادچوہدری نے تو اپنے روایتی اور غیر محتاط انداز میں یہ کہہ کر ایک جملہ اُچھالا تھا کہ نیب کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو طلب کرنا ان کے منصب کی توہین اور زیادتی ہے مگر دوسرے ہی روز چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے شاعرانہ انداز میں کہا کہ یہ وزیر اعظم کی توہین نہیں توقیر ہے ۔اگر قائد حزب اختلاف نیب میں پیش ہو سکتا ہے تو قائد ایوان کیوں نہیں؟۔عمران خان اس وقت پارلیمانی سسٹم کے تحت وزیر اعظم بنے ہیں ۔پارلیمانی جمہوریت کے اپنے ہی تقاضے اورمعیار واصول ہوتے ہیں۔یہاں عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہونے والا وزیر اعظم بظاہر طاقتور اور ناقابل تسخیر دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے یہ وزیر اعظم قدم قدم پر جواب دہی اور حساب کتاب کی بنا پر بہت کمزور ہوتا ہے ۔اس نظام کی روح یہی ہوتی ہے جو اسلامی خلافت میں حساب طلب کرنے سے تعلق رکھتی ہے ۔وقت کا خلیفہ اس سوال کو اپنی توہین سمجھنے کی بجائے برسرِمحفل ہی اپنا حساب پیش کرتا ہے ۔اسی طرح جمہوری حکمران اور عہدے کی چکاچوند حقیقت میں کمزور ہوتی ہے ۔پارلیمنٹ ،کمیٹیاں، عدل اور احتساب کے ادارے ،میڈیا ہمہ وقت جمہوری حکمران کا محاسبہ کرتے رہتے ہیں۔جمہوری طور پر منتخب عمران خان اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ریاستی اداروں کے آگے اپنی جواب دہی کو یقینی بنائیں۔ اس لئے کہ جمہوریت اور خود اسلامی معاشرے میں کوئی حکمران ظل ِسبحان ،کوئی اوتار اور تنقید ومحاسبہ سے بالاترنہیں ہوتا ۔ احتساب بیور و ہو یا عدلیہ کا کوئی ادارہ وزیر اعظم سمیت کسی صاحبِ اختیار کو طلب کرے تو اس میں توقیر کا پہلو ہو یا نہ ہو مگر توہین کا پہلو ہرگز تلاش نہیں کیا جا نا چاہئے ۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اپنے عہدے کے باوجود سوالات اور پوچھ گچھ کے عمل سے گزرتے رہے ۔اندرا گاندھی کو ہیلی کاپٹر کے استعمال پرنااہلی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس سے مشتعل ہو کر انہوں نے بھارت کی جمہوریت کو رسوا کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کردی تھی ۔جسے آج بھی بھارت کے دانشور تاریخ کا سیاہ باب قرار دے رہے ہیں ۔ مونیکا کیس میں بل کلنٹن کا محاسبہ اور ان کی غیر ہوتی ہوئی حالت کو پوری دنیا نے دیکھا تھا ۔ عراق کی جنگ سمیت کئی معاملات پرپارلیمنٹ کے اجلاسوں میںٹونی بلیئر کے ماتھے پر پسینے کی لہروں اور چہرے کی خفت کا بھی ایک زمانہ چشم دید گواہ ہے ۔ فواد چوہدری کو وزیر اعظم کے عوامی عہدے کو مصنوعی تقدس کے پردوں میں لپیٹنے کی بجائے اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی چاہئے ۔عمران خان کو بھی اداروں کے سوال وجواب کا سامنا کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے ۔عمران خان جس ریاست مدینہ کو اپنا ماڈل قرار دے رہے ہیں وہاں توعدل اور مساوات کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم ہوئی تھیں اور آج تک انسانیت ان سے روشنی اور راہنمائی حاصل کرتی ہے ۔نوازشریف کے دور میں جب ان کے دست وبازو انہیں قانون اور آئین سے بالا تر مافو ق الفطرت شخصیت ثابت کرتے تھے تو وہ بھی جمہوریت کی روح کی نفی تھی ۔اب اگر عمران خان کے احباب ان کی نظروں میں آنے یا ان کی جبیں کی شکنیں دور کرنے کے لئے انہیں قانون اور آئین اور جواب دہی سے بالاتر قراردیں گے تو یہ بھی اسی ذہنیت کا تسلسل ہوگا ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خرابی وزیر اعظم کی کرسی اور حد سے زیادہ اختیارات میں ہے کہ جس کرسی پر بیٹھتے ہی وزیر اعظم خود کو ظل الٰہی سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہوتا ہے ۔اپوزیشن وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو بھی آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور جیسا ہی ثابت کرنے پر مُصر ہے ۔وزیر اعظم کو اگر یقین ہے کہ دونوں شخصیات کی بہنیں ایک جیسی نہیں تو انہیں قانون کو اس معاملے میں اپناکام کرنے کی راہ دینا ہوگا ۔کل اگر کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں تھا تو اب بھی اسی اصول کا اطلاق ہوتا ہے ۔یہ الگ بات کہ علیمہ خان اور فریال تالپور کے معاملات میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔پیپلزپارٹی کے دور میں بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا عہدہ فریال تالپور کی رضامندی اور خوشنودی سے ملا کرتا تھا۔سندھ اور آزادکشمیر میں چونکہ پارٹی کی حکومتیں تھیں اس لئے ان دونوں علاقوں میں عہدے اور مناصب کے خوش مندوں سے وابستہ کہانیاں زیر گردش رہی ہیں۔کون کیا ہے ؟۔یہ قانون نے طے کرنا ہے ۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ محض حکمران کا قد اداروں سے اونچا کر دیا جائے اور انہیں قانون کے سامنے پیش ہونا اپنی توہین معلوم ہو ۔عمران خان ریاست مدینہ اور مغربی جمہوریتوں کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے اس لئے ہو نہ ہو انہوں نے نیب کی طلبی کو توہین کے زاویے سے نہ دیکھا ہو اور محض حاضری لگانے کے شوق میں فواد چوہدری نے انہیں ظل سبحان بنانے کی کوشش کی ہو۔بات جو بھی ہو جمہوری حکمران کو جمہوریت کے مروجہ اور مسلمہ اصولوں کا سامنا کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔ منصب دار کا قانون کے آگے سپر ڈالنا خود سپردگی اختیار کرنا کسی طور بھی توہین کے زمرے میں نہیں آتا۔جمہوریت میں’’ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو‘‘کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں