Daily Mashriq


’’وہ اپنی خونہ چھوڑیں گے‘‘

’’وہ اپنی خونہ چھوڑیں گے‘‘

چند دن قبل میں ڈیفنس پشاورمیں واقع پیسکو آفس گیا۔ اس دفتر کا یہ میرا پانچواں دورہ تھا۔ میرے گھر کے لئے پیسکوکا جو میٹر نصب ہے وہ تھری فیز ہے ، اور اللہ شاہد ہے کہ مجھے تو سنگل اور تھری فیزکا فرق اور حکمت بھی معلوم نہیں تھی، لیکن گھر بناتے وقت دومیٹر لگوائے گئے۔ ایک تھری فیز،دوسرا سنگل فیزلیکن پیسکو بہادر سے دونوں میٹروں پر سنگل ٹیرف کے مطابق بل آتا رہا اور ناخبری کے سبب بل جمع کرتا رہا یہ احساس کرتے ہوئے بھی کہ گھر میں بجلی کا استعمال تو اتنا نہیں ہے جتنا بل آتا ہے ، لیکن اللہ گواہ ہے کہ پاکستان کے دفاتر کا حال معلوم ہونے کے سبب وہاں جانے کو دل نہیں کرتا تھا یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک بل تقریباً چوالیس ہزار روپے آیا تو ماتھا ٹھنکا اور سارے کام ایک طرف رکھ کر پیسکو کے دفتر کی زیارت بامر مجبوری کا ارادہ کرلیا۔ وہاں پہنچ کر کئی ایک کو اپنی دکھ بھری کہانی سناتا کہ ریٹائرڈ پروفیسر ہوں ۔ بجلی کا استعمال بہت احتیاط سے اس غرض سے کرتا ہوں کہ ایک تو جیب اجازت نہیں دیتی دوسرا قومی بچت کا خیال کرتا ہوں کہ وطن عزیز میں بجلی کی شدید قلت اور ضرورت ہے ۔ لیکن اس کے باوجود بل حقائق اور استطاعت کے خلاف ہے ۔ یہ کتھا سُناتے سناتے تین چار دفتروں میں جھانکتے اور سلام کرتے پہنچا تو اپنا تعارف اس غرض سے کرایا کہ آخر استاد کا معاشرے پر حق زیادہ نہ سہی تھوڑا زیادہ ہوتا ہے ۔ اللہ سب کو بخشے ، عزت وقدر کی نگاہ سے دیکھا لیکن آپ یقین جانیئے کہ واپڈا کے اہل کار(ہمارے ایک دوست واپڈا کو واھہ پہ بڈا کہا کرتے تھے)اپنے روایتی طرز عمل سے آگے پیچھے ہونے کو تیار نہ ہوئے ۔ ایک صاحب نے میرے بل کو دیکھتے ہوئے پوچھا کہ یہ تھری فیز ہے یا سنگل؟ میں نے عرض کیا کہ حضور آپ کے پاس تو کمپیوٹر میں پورا ریکارڈ ہوگا، ذرا دیکھ کر بل کے ساتھ تقابل کریں، آدھا گھنٹہ ریسرچ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ میرا میٹر تھری فیز ہے لیکن یہ بل اس لئے زیادہ آیا ہے اور گزشتہ ایک برس سے زیادہ آرہا ہے کہ اس پر سنگل ٹیرف اور ڈبل ٹیرف اور پیک اور نان پیک آورز کا لحاظ کئے بغیر پیک آورز پر بل بنایا گیا ہے ۔ بہرحال جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہو چکا ، اب حل کا پوچھا تو فرمایا ایک درخواست فریادی بن کر لکھیں کہ میرے ساتھ یہ نا انصافی ہوئی ہے لہٰذامداوا کیا جائے ۔ درخواست لکھی تو فرمایا کہ ایس ڈی او صاحب سے مارک کروائیں ۔ وہاں مارک کروا کر بتایا گیا کہ فلاں صاحب کے پاس جائیں وہاں بتایاگیا کہ بل میرے پاس چھوڑ دیں ۔ اس پر پوری ہسٹری دیکھ کر آپ کو ریلیف ملے گا۔ دوسرے دن دوبارہ گیا تو چالیس ہزار میں سے 9ہزار روپے کا ریلیف دلایا گیا۔۔۔میں نے اس کو بھی غنیمت جانتے ہوئے پوسٹ آفس میں جمع کروایا لیکن جب دوسرے مہینے کا بل آیا تو سر پکڑ کر یا للعجب! زبان پر آیا۔ وہ جو ریلیف ملا تھا وہ بقایاجات کی مد میں بل میں شامل ہونے کے علاوہ بل سنگل فیز اور سنگل ٹیرف کے ساتھ بنا تھا۔ دوبارہ پیسکو آفس جا کر وہاں کے انہیں حکام سے دست بستہ عرض کیا کہ گزشتہ را درگزر‘ براہ کرم! اس مصیبت سے ایک ہی دفعہ جان چھڑوا کر ہم سے دعائیں لو۔ بی آر ٹی کی گزیدہ ان سڑکوں پر ہر مہینے پیسکو آفس ایک بہت ہی ناخوشگوار کام کے لئے آنے اور وقت اور مال کے بہت ناقابل برداشت ضیاع سے بچائیں۔قارئین کرام! دوبارہ انہیں مراحل سے گزر کر آخری دفتر سے یہ اطمینان بخش جواب ملا کہ دوبارہ بقایاجات نہیں آئیں گے کیونکہ کمپیوٹر میں ریکارڈ سمیت سب کچھ ٹھیک کر لیاگیا ہے۔ تیسرے مہینے کے بل کا دل میں ایک نا معلوم سی بے چینی و بے اطمینانی کے ساتھ انتظار کیا۔ گھر کے گیٹ کے اندر زمین پر پڑا بل بیم ورجاء کے خوف و خوشی کے ساتھ اٹھایا تو وہی نو ہزار کے بقایاجات منہ چڑاتے ہوئے صحیح طور پر خرچ شدہ بجلی کے یونٹس سے زیادہ کے مبلغ دکھا رہے تھے۔

چار و ناچار سہ بارہ وہاں پہنچا تو اس دفعہ لہجے میں فریاد و شکوہ کے ساتھ ذرا طنز و تشنیع اور درشتی بھی شامل ہوگئی تھی۔ نوجوان ایس ڈی او نے بہت احترام کے ساتھ بات سنی اور درخواست پر کچھ لکھا اور آر او کے پاس جانے کی ہدایت کی۔ آر او کے دفتر میں پہنچ کر شکایت کناں ہوا کہ صاحب بہادر! آپ نے تو کہا تھا کہ سب کچھ ٹھیک کرلیا ہے‘ لیکن یہ کیا۔ کہنے لگے‘ صرف آپ کا بل تو نہیں ہے‘ ہزاروں‘ لاکھوں بل ہوتے ہیں آخر ہم بھی انسان ہیں‘ غلط اورنسیان و بھول چوک ہوجاتی ہے‘ ٹھیک ہوجائے گا۔ کون سا آسمان گرا ہے۔ میں نے ادب سے عرض کیا۔ سرکار‘ بات آپ کی بالکل صحیح ہے لیکن آسمان اپنی جگہ اور زمین اپنی جگہ قائم و دائم ہیں‘ پاکستان کو بھی اللہ قائم ودائم رکھے ‘ لیکن مجھے تو آپ نے ہلا کر رکھ دیا ہے صرف اتنا بتا دیں کہ اب چھٹی بار تو آنا نہیں پڑے گانا۔ انہوں نے بہت ناگواری سے سنی کو ان سنی کرتے ہوئے مجھے سر کے اشارے سے جانے کی اجازت دی۔ اور اب ہم نئے سال کے نئے مہینے کے دن بوجھل دل کے ساتھ گن رہے ہیں‘ آپ لوگ بھی دعا کریں۔ میں نے دل کاغبار ہلکا کرنے اور پروفیسری جتانے کے لئے ایکس سی این کو اس ساری روداد کی اطلاع دینی چاہی لیکن وہ دفتر میں تشریف فرما نہ تھے۔ البتہ ان کے ماتحتوں کو عرض داشت پیش کی تو جواباً ایک صاحب نے ایسی بات کی کہ مجھے اپنی راہ لینی پڑی‘ فرمایا‘ پروفیسر صاحب! یہ سارا معاشرہ آپ لوگوں کا تربیت یافتہ ہے‘ آپ لوگ بھی اپنا فرض ادا کریں۔

متعلقہ خبریں