Daily Mashriq


انسان سماج

انسان سماج

انسانی زندگی ویسی نہیںرہی جیسی چنددہائیوں قبل ہوا کرتی تھی ۔ اس نئی طرزِ زندگی میں ہوا یہ کہ انسان کا انسان کے قریب تر رہتے ہوئے بھی قلبی رشتہ کم سے کم ہو چکا ہے ۔ انسان جوماضی میں ایک دوسرے کے دکھ درد ،غمی خوشی کو شیئر کرتا تھا اب وہ معاملات نہ ہونے کے برابر ہوچکے ہیں ۔سادگی سے قریب ترجو زندگی انسانی سکون کا باعث تھی اب اس میں اتنی بناوٹ اور اتنا تصنع شامل ہوچکا ہے کہ چاہنے کے باوجود بھی ہم سادگی کی جانب مراجعت نہیں کرسکتے ۔دیہی اور شہری زندگی کی اپنی اپنی فضائیں اور اپنے انداز تھے کہ جہاںایک عجیب سا ٹھہراؤمیسر تھا کہ جس کی بدولت سکون کی ایک مستقل کیفیت محسو س ہوجایا کرتی تھی۔ دیہات خود فطرت سے قریب ہونے کے ناطے سکون پرور لینڈ سکیپ کے ساتھ انسان کواپنی آغوش میں لیے رہتے تھے ۔ شہر اپنی فصیلوں کے اندر رہنے والے انسانوں کو سماج کی ایک لڑی میں پرو کر زندگی کی تھپکی فراہم کرتے تھے ۔ زندگی کا سادہ پن اور قناعت دو ایسے حوالے تھے کہ انسان ذہنی دباؤ کا شکار نہ رہتا تھا۔ زندگی بھی یوں تیز رفتار تو نہ تھی ۔لوگ وقت نکال لیتے تھے ،کہیں حجرہ تو کہیں بیٹھک تو کہیں چوپالیں آباد تھیں جہاں انسان انسان کو شیئر کرسکتا تھا۔سائنس کی ترقی نے انسان کو سہولتیں تو عطا کردی لیکن اپنی شرائط پر اوروہ شرائط انسانی سماج کے ایک نئے ورتاوے کی صورت میں سامنے آئی ہیں۔ انسان انسان سے براہ راست کی بجائے گیجڈ کے ذریعے منسلک ہوچکا ہے ۔

کمپیوٹر کے دخول کے بعد انسانی زندگی مسلسل تبدیل ہورہی ہے ۔ اگرچہ انسان کے مستقل احتیاج اب بھی وہی ہیں اور شاید ان میں بہت بڑی تبدیلی نہ آسکے لیکن سماجی سطح پر انسان آنے والے چند برسوں میں بالکل ہی الگ انداز کی سماجی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائے ۔ کمپیوٹر ڈیوائس جب ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ سے نکل کرموبائل فون اور اینڈرائڈ سے منسلک ہوا تو اس نے انسانی انداز زندگی کو ہی بدل دیا ہے۔اگرچہ سیلولر فون ابتدا میں رابطوں کو ممکن بنانے کے لیے سامنے آیا اور اس کا استعمال بھی ہیلو ہائے تک ہی محدود رہالیکن اینڈرائیڈسمارٹ فونز کے اپلیکشنز نے تو کایا ہی پلٹ دی ہے ۔ ہم جاگنے کے ساتھ ہی موبائل فون کو اٹھاکردیکھتے ہیں کہ فیس بک ،واٹس ایپ، ٹوئیٹر ، لنکڈ ان وغیرہ نے ہمارے لیے کیا کیا سندیسے بھیجے ہیں ۔

آج کون کیا کررہا ہے اور ہم نے آج کیا کرنا ہے۔ پھر یہ موبائل فون رات کو سونے تک ہمارے بہت قریب رہتا ہے ۔ایک ہی کمرے میں بیٹھے میاں بیوی اور بچے اپنے اپنے موبائل فون کے کھلونے سے کھیل رہے ہوتے ہیں ۔ آپ کبھی کسی کمرے میں موبائل فونز میں منہمک لوگوں کو دیکھیں تو موبائل سکرین کے کسی منظر نے کسی چہرے پر مسکراہٹ پھیلارکھی ہوگی تو کسی کی آنکھوں میں نمی بھردی ہوگی اور کوئی چہرے پر ڈر اور خوف کے تاثرات سجائے سکرین میں ڈوبا ہوگا ۔ یقین جانئے یہ ایک خوفناک پہلو ہے ہماری سماجی زندگی کا ۔ ریڈیو اور پھر ٹی وی کی انٹر ٹینمنٹ میں پورا خاندان ایک ہی وقت میں ایک ہی منظر دیکھ کر ایک ہی جیسی کیفیت ، ایک جیسے ہی جذبات اور ایک جیسے احساسات سے گزرتا ۔

خاندان کے سب لوگ کسی چٹکلے پر ایک ساتھ ہنستے ،کسی جذباتی منظر پر ایک ساتھ دکھی ہوتے اور کسی ڈراؤنے منظر پر ایک ساتھ ڈرجاتے ۔گویا احساسات اور جذبات کی ایک جیسی ڈوزخاندان کے سارے ارکان کو ایک ہی وقت میں مل جاتی ۔ اب ان فونز کی وجہ سے کون جانے کون کون سی ڈوز لے رہا ہے اور کتنی لے رہا ہے ۔ کوئی ایک مزاحیہ کلپ دیکھ دیکھ کر زندگی کو بھی ایسا ہی غیرسنجیدہ تصور کرنے والا بن جائے یا کوئی دوسرا مسلسل انتہائی جذباتی قسم کے مناظر دیکھ کر خود اپنی جذباتی سطح کو اپنی پیک پر لے جائے۔ گویا ہمارے جذبے اور ہمارے احسا س جو کبھی سماج میں رہتے ہوئے دوسرے انسانوں سے میل ملاپ سے بنتے تھے اب یہ ذمہ داری بھی گیجڈز نے لے لی ہے ۔ ان گیجڈز سے یہ ہوا ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کے درمیان رہ کربھی ان سے کٹ چکاہے اور ایک تنہائی کی دنیامیں جی رہا ہے۔

آج کا انسان خارجی دنیاسے زیادہ اپنی داخلی دنیا میں جیتا ہے ۔ اگرچہ داخلی دنیا میں جینا کوئی اتنی بری بات بھی نہیں لیکن سوال یہ کہ ہم اپنے داخل کے سفر میں کون سی سواری استعمال کررہے ہیں ۔ تصوف یا ولایت کے لوگ پاکیزگی کے اسم اعظم کو زادِ راہ بناکر داخل کے سفر میں نکلتے ہیں جبکہ مطمح نظر خود اپنی تلاش و جستجو ہواکرتی ہے۔اور اس سفر میں اور کچھ نہیں تو من کے موتی تلاش کرہی لیے جاتے تھے لیکن گیجڈسے طے ہونے والے سفرمیں کہیں بھی کسی منزل کا تعین ہی نہیں یہ بس ایک قسم کی آوارہ گردی ہے بے منزل اور بے مقصد، جس کا نتیجہ تلاش و جستجو کی بجائے خود فریبی اور خود کو کہیں بھٹکانے جیسا ہے ۔ ان گیجڈز کی بدولت ہم اپنے بہت ہی قریب اور محبت والے رشتوں کی شیرینی کشید ہی نہیں کرپاتے کہ جس کی مٹھاس کسی شہد سے بھی کم نہ ہو۔ بیٹا باپ اور باپ بیٹے کی محبت کو انجوائے نہیں کرپاتا ،دوست دوست کی محبت سے ناآشنا ہے اور تو اور رشتے بھی انہی گیجڈ کے پابند ہوگئے ہیں ۔ عید ،شب برات ، سالگرہ وغیرہ کے پیغامات بھی انہی گیجڈ سے بھیج کر ہم بے غم ہوجاتے ہیں کہ چلو ہوگیا ۔سوال یہ ہے کہ جب ہم نے انہی گیجڈز کے ساتھ جینا ہے تو کیا ممکن نہیں کہ ہم انسانی رشتوں کے لمس کو بھی واپس لاسکیں ۔

متعلقہ خبریں