Daily Mashriq

چیئرمین پیمرا کی احتساب عدالت میں نیب ریفرنس سے بریت کی درخواست

چیئرمین پیمرا کی احتساب عدالت میں نیب ریفرنس سے بریت کی درخواست

اسلام آباد: پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چیئرمین مرزا سلیم بیگ نے احتساب عدالت میں بریت کی درخواست دائر کردی۔

انہوں نے اشتہارات کے ٹھیکا دینے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف دائر ریفرنس میں بریت کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔

احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے مذکورہ درخواست کی سماعت کی، اس کیس میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی ملزم نامزد ہیں۔

مرزا یوسف بیگ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل پرنسپل انفارمیشن افسر تھے اور انہوں نے معمول کی کارروائی کرتے ہوئے ایک اشتہاری ایجنسی کو ٹھیکا دیا تھا۔

وکیل نے کہا تاہم قومی احتساب بیورو (نیب) نے پروکیورمنٹ قواعد کی خلاف ورزی کر کے ٹھیکے دینے کے کیس میں انہیں ملزم نامزد کردیا۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں کی گئی حالیہ ترامیم میں سرکاری ملازم کو کرپشن کیس میں ملوث کرنے کی حدود متعین کی گئی ہیں اور قانون کے مطابق نیب اس کیس میں مرزا یوسف بیگ کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا۔

واضح رہے کہ عدالت نے ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے سماعت مقرر کی تھی تاہم ایک ملزم انعام اکبر کو پیش نہ کیے جانے کی وجہ سے فرد جرم کا اطلاق 30 جنوری تک موخر کردیا گیا۔

استغاثہ نے عدالت کا آگاہ کیا کہ انعام اکبر کراچی میں نیب کی تحویل میں ہیں جن سے تفتیش جاری ہے۔

جس پر عدالت نے نیب کو آئندہ سماعت پر تمام ملزمان پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اس کے علاوہ احتسب عدالت کےجج اعظم خان نے مرزا یوسف بیگ کی بریت کی درخواست پر نیب کو 30 جنوری تک اپنا جواب جمع کروانے کی بھی ہدایت کی۔

واضح رہے کہ نیب نے اس ریفرنس میں 7 ملزمان کو نامزد کررکھا ہے جس میں یوسف رضا گیلانی، مرزا سلیم بیگ، انعام اکبر اور فاروق اعوان شامل ہیں۔

ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر لاہور کی ایک اشتہاری ایجنسی کو ایک مہم کا ٹھیکا دے کر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ مذکورہ ایجنسی کو ٹھیکا دینے کے لیے کوئی مقابلہ نہیں کروایا گیا جو پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی کے اصولوں کے خلاف ہے۔

متعلقہ خبریں