Daily Mashriq

مرغ باد نما سیاست

مرغ باد نما سیاست

ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے استعفیٰ دیدیا ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی بھی حکومت کیساتھ چلنے یا نہ چلنے کی گومگو کی کیفیت میں ہے، حکومت کے دو اہم اتحادی ایم کیو ایم اور بی این پی قبل ازیں بھی روٹھنے اور منانے کے دور سے گزر چکی ہیں۔ ایم کیو ایم تو روٹھنے اور منانے یا پھر سودے بازی کا وسیع تجربہ اور شہرت رکھتی ہے۔ ایم کیو ایم کی سیاست ہی مرغ باد نما کی سی رہی ہے۔ حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان عددی اکثریت کا فرق تیرہ اور چودہ کا ہے۔ اکثریت ایک ووٹ کی بھی ہو بات اس کے برقرار رکھنے کی صلاحیت کی ہوتی ہے، ملکی سیاست میں حصول عہدے کیلئے اگر عددی اکثریت ہی اہم ہوتی تو چیئرمین سینیٹ کی کرسی پر آج کوئی اور بیٹھا ہوتا۔ ملکی سیاست کا المیہ ہی یہ ہے کہ سیاستدان ڈگڈگی پر ناچتے ہیں اور کٹھ پتلی حکمران بنتے ہیں جب تک یہ سلسلہ چلے تب تک ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اور پارلیمان کا وقار اور ووٹ کی عزت کی ضمانت نہیں۔ پارلیمان سے حال ہی میں ایک ایکٹ منظوری پر جس طرح شیر وشکر قسم کا منظرنامہ سامنے آیا اس کے بعد سیاسی جوار بھاٹا غیرمتوقع نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کی تشکیل جن بیساکھیوں کے سہارے قائم کی گئی اور اب جو بیساکھیاں ہوا دینے لگی ہیں اگر ایسا جماعتی سیاسی پالیسیوں اور سیاسی شکایات کے تحت ہوتا تو بات منوانے اور ماننے کی حد تک رہ جاتی ایسا لگتا ہے کہ اب ہوائوں کا رخ منہ زور تھپیڑوں کی صورت میں سیاسی اُفق کی طرف بڑھ رہا ہے کچھ ایسے سیاسی دعوے بھی سامنے آرہے ہیں کہ تین سے چھ ماہ اہم ہیں، قبل ازیں دسمبر کو ستمگر گردانا گیا تھا۔ملکی سیاست میں معجزوں اورناقابل یقین حالات کے تجربات پختہ نہ ہوتے تو حالات اس قدر غیر متوقع نہیں کہ کسی سیاسی تبدیلی کی توقع کی جائے۔ ان تمام معاملات سے قطع نظر ایم کیو ایم کی شکایات اور ان کی ماضی کے روئیے کا جائزہ لیا جائے تو ایم کیو ایم کی طرزسیاست ہی یہی رہی ہے، یہ حکومت سازی کا ایندھن بھی بنتی ہے اور حکومت کو پہلا دھچکا بھی اسی سے لگتا ہے۔ایم کیو ایم کی حکومت سے ناراضگی کی بنیادی وجہ عوامی مسائل کا حل اور کراچی پر عدم توجہ نہیں بلکہ سیاسی ہے۔حکومت وعدے کے باوجود ایم کیو ایم کو سیکٹر کی سطح پر دفاتر کھولنے کی سہولت نہیں دے پارہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت کیلئے ایسا کرنا شاید ہی ممکن ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ جس جن کو بڑی مشکل سے بوتل میں بند کیا جا سکا ہے اس جن کو بوتل میں بند کرنے والے اس امر کے مزید متحمل نہیں ہوسکتے کہ یہ جن دوبارہ سے کیا حکم ہے میرے آقاکہہ کر سامنے آئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی ہزاروں ارب روپے دینے والے شہر کیلئے ایک ارب روپے دینے میں بخل کی شکایت بالکل بجا ہے علاوہ ازیں بھی حکومتی ٹیم ایم کیو ایم کی شکایات کا ازالہ کرنے میں پیشرفت کرسکتی ہے لیکن ایم کیو ایم کے بند دفاتر کھلوانے کی شرط کڑی ہے۔ایم کیو ایم ایک ایسا اتحادی ہے جو اگر منانے پر مان بھی جائے تب بھی دوبارہ اتحادی بننے کے باوجود اس کا ہرجائی پن برقرار رہے گا۔ایم کیو ایم کے حالیہ اعلان کو اگر پیپلزپارٹی کی طرف سے ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں حصہ دینے کے تناظر میں دیکھا جائے اور مرکز میں بدلتے حالات پر بھی نظر ڈالی جائے تو ایم کیو ایم کے سربراہ کی کابینہ سے علیحدگی کو سمجھنا مشکل نہیں۔ایم کیو ایم بلاول بھٹو زرداری کی پیشکش پر اگر چہ فیصلہ کن ردعمل دینے سے گریزاں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایم کیو ایم سندھ اور خاص طور پر کراچی کی سیاست کو نظرانداز نہیںکر سکتی جس طرح پنجاب کی سیاست اور حکومت مسلم لیگ(ن) کی ضرورت ہے اسی طرح ایم کیو ایم بھی شریک اقتدار ہو کر ہی کراچی کی سیاست کے قابل رہتی ہے۔بلاول کی پیشکش کے بعد ایم کیو ایم کے بعض رہنمائوں نے تو اس میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا لیکن میئر کراچی وسیم اختر نے واضح انداز میں کہا تھا کہ متحدہ کی جانب سے تحریک انصاف کی حمایت غیرمشروط نہیں۔ اگر سیاسی منظر نامہ میں کوئی خاطرخواہ تبدیلی رونما ہوئی تو پارٹی کی جانب سے اس کا اعلان اس کو مد نظر رکھ کر کیا جائے گا۔سیاسی جوار بھاٹے میں حزب اختلاف کی بنچوں سے سرکاری بنچوں کا سفر اسلام آباد میں ہو یا پنجاب میں غیرمتوقع نہیں ملک میں کافی عرصے بعد پی ٹی آئی تیسری قوت کے طور پر سامنے ضرور آئی تھی مگر جن آلودگیوں سے پاک ہو کر آنا چاہئے تھا ایسا ممکن نہ ہوا، اتحادی بھی بنانے پڑے اور اپنی صفوں میں بھی پوری طرح تحریکی ساتھی نہیں۔ تبدیلی کی سیاسی طور پر تبدیلی اگر خالص ہوتی ہے تو اپنی جگہ لیکن اگر جمہوری طریقہ غیرجمہوری قوتوں کی مدد سے کامیاب بنایا جاتا ہے تودرست بصورت دیگر ملکی سیاست ایک مرتبہ پھر ایک ایسے بھاری چٹان کے نیچے آئے گی جس کے نیچے سے نکلنے کا حوصلہ پھر سیاستدانوں میں شاید ہی باقی رہے۔ سیاستدانوں ہی نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سیاست کو چٹان کے نیچے لاتے ہیں یا نہیں۔

متعلقہ خبریں