Daily Mashriq

ماحولیاتی آلودگی کا سنگین ہوتا مسئلہ

ماحولیاتی آلودگی کا سنگین ہوتا مسئلہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے دریائے سوات کو آلودگی سے محفوظ بنانے کیلئے باضابطہ قانون سازی کی ضرورت سے اتفاق کیا اور ہدایت کی کہ کارخانو ں اور ہوٹلوں کے تلف شدہ اشیاء کی فلٹریشن کیلئے بھی قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے ضلعی سطح پر تازہ پانی کے وسائل کو آلودگی سے بچانے کیلئے جاری اقدامات تیز تر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ سائنسی بنیادوں پر کوڑا کرکٹ کی تلفی پورے صوبے کا مسئلہ ہے ، متعلقہ حکام اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی اور خاص طور پر نکاسی کے پانی کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے انتظامات بالکل نہ ہونے سے صرف شہروں ہی میں مسائل کا باعث نہیں بلکہ سوات،چترال جیسے مقامات پر بھی آبی آلودگی بڑھ رہی ہے اور دریا آلودہ ہورہے ہیں۔ پلاسٹک کے استعمال اور پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی اپنی جگہ گٹروں کا پانی جس طرح زمین میں جذب ہونے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے اس سے زیر زمین انسانی فضلے کے جراثیم کی بڑی تعداد جمع ہورہی ہے جس پر موسم بھی کم ہی اثر انداز ہوتا ہے، اس ضمن میں چترال کے دور دراز علاقہ بروغل کے پاس پھنڈر کے مقام پر باقاعدہ طور پر سروے اور تحقیق کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ اس صورتحال سے پوری آبادی اور پورا علاقہ خطرے میں ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو سوات،دیر ،کمراٹ اور دیگر سیاحتی مقامات پر جہاں بڑے پیمانے پر ہوٹل موجود ہیں اور سیاحوں کی بڑی تعداد آتی ہے وہاں پر زمین کے اوپراور زیر زمین آلودگی کا کیا عالم ہوگا یہ ایک ایسی خطرناک صورتحال ہے جس کے باعث کبھی بھی خدانخواستہ علاقے میں کوئی بڑی وبا پھوٹ سکتی ہے اور انسانی حیات کو خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔محکمہ ماحولیات اور بلدیات سمیت دیگر تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو اس صورتحال سے غافل نہیں ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں بروقت اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔

آٹا کے ممکنہ بحران کا خدشہ

صوبائی وزیر نے تو قبل از وقت ہی پنجاب کے فائن آٹا کو مضر صحت قرار دے کر سرخ آٹا کھانے کا مشورہ دیا تھا، اب پنجاب سے فائن آٹے کی بندش کی اطلاعات وامکانات ہیں۔خیبرپختونخوا میں پنجاب سے آٹے کی بندش پر جو صورتحال پیدا ہو جاتی ہے اس تجربے سے یہاں کے شہری گزر چکے ہیں صوبے کے عوام کو اس کا بہت تلخ تجربہ ہے۔صوبے کی فلور ملز بند پڑی ہیں، ایسے میں حکومت کا آٹا چکیوں کو بحران کیلئے تیار رہنے کی ہدایت مسئلے کا حل نہیں۔سرخ آٹا مفید صحت ہے یا فائن آٹا مضر صحت بات اس سے کہیں زیادہ سنگین اور آگے بڑھ چکی ہے۔نانبائی الگ سے روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کیلئے پر تول رہے ہیں۔صوبے میں فلورملز اور چکیوں کی آٹے کی پیداوار اتنی نہیں کہ پنجاب سے آٹے کی بندش کی صورتحال کا مقابلہ کیا جا سکے۔فی الوقت پنجاب سے فائن آٹا بند کیا جارہا ہے یا پھر آٹے کی مکمل بندش کا خدشہ ہے۔ہر دو صورتوں میںپیش بندی اور ضروری اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔صوبائی حکومت کو پنجاب حکومت سے اس ضمن میں بروقت رابطہ کر کے صورتحال کو بگڑنے سے بچانے کیلئے سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہئے۔مہنگائی کی اس شدید لہر کیساتھ اگر صوبے میں آٹا بحران کی کیفیت بھی پیدا ہو جائے تو حکومت کیلئے مشکلات پر قابو پانا شاید ہی ممکن ہوگا۔

گیس ندارد بل دگنا

پشاور کے علاقوں سربلند پورہ سٹی ماڈل ٹائون، فقیر آباد، زریاب کالونی ، ہشتنگری، کوٹلہ محسن خان، نوتھیہ ، تہکال ، یونیورسٹی ٹائون، گھنٹہ گھر، گلبہار ، نیوسٹی ہومز ، دلہ زاک روڈ ، سرکلر روڈ، کاکشال اور دیگر مقامات پر نومبر سے گیس لوڈشیڈنگ کے باوجود گیس کے بلوں میں کمی کی بجائے اضافہ حیران کن ہے۔زریاب کالونی کے ایک صارف کے مطابق ان کے گھر سرے سے گیس آتی نہیں لیکن بل کئی گنا زیادہ آگیا ہے۔امر واقع یہ ہے کہ گیس لوڈ شیڈ نگ کے باعث جہاں شہریوں کا نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے وہیں کئی کئی ہزار روپے کے بلوں نے شہریوں کی چیخیں نکال دی ہیں۔ شہریوں کے مطابق گیس لوڈ شیڈ نگ کی وجہ سے انہیںمتبادل ایندھن کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے جو اضافی اخراجات کا باعث ہے۔ دسمبر کے بلوں سے شہریوں کی مالی مشکلات میں اضافہ فطری امر ہے۔سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ ایک جانب جہاں گیس آتی ہی نہ ہو وہاں گیس میٹر زیادہ خرچہ کیسے ظاہر کرتا ہے سوئی گیس کے محکمے کے حکام کو جہاں گیس کی لوڈ شیڈنگ میں کمی لانے کیلئے سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی معطل کردینی چاہئے وہاں صنعتی صارفین کوگھریلو استعمال کے وقت گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل کردینی چاہئے۔اس سوال کا صارفین کو مطمئن کرنے والا جواب دینے کی ضرورت ہے کہ جب گیس موجود ہی نہیں تو میٹر تیز کیوں چلتے ہیں اور بل زیادہ کیسے آتے ہیں؟۔

متعلقہ خبریں