Daily Mashriq

امریکی چالبازی

امریکی چالبازی

میں جب بھی انتخابات قریب ہوتے ہیں تو امریکی ارباب اختیار ایسا کرانے کی کوشش کرتے ہیں جس کی بنا پر انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکیں،یوں کہا جا سکتا ہے کہ عام انتخابات سے پہلے دبنگ' اقدامات دوسری مدت کا انتخاب لڑنے والے امریکی صدور کی پرانی روایت ہے۔1998 ء میں جب سابق صدر بل کلنٹن کو مواخذے کا سامنا تھا تو موصوف نے عراق پر آگ و آہن کی بارش کردی۔ Operation Desert Fox کے نام سے4دن تک عراق کے طول و عرض پر خوفناک بمباری کے علاوہ خلیج میں تعینات امریکہ کے بحری جہازوں سے عراقی شہروں پر گولہ باری کی گئی۔ ہنگامی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بل کلنٹن کی ڈیموکریٹک پارٹی مواخذے کی کارروائی کچھ روز کیلئے معطل کرانے میں کامیاب ہوگئی۔ اسی بنا پر صدر کے مخالفین نے عراق پر اس حملے کو ''جنگ مونیکا'' کا نام دیا۔کچھ اسی طرح کی حکمت عملی سابق صدر اوباما نے بھی اپنائی جب 2012ء کے انتخابات سے پہلے2 مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسامہ کی عجلت میں بحری تدفین اور تصاویر کے اجرا سے اجتناب کی بنا پر یہ معاملہ خاصہ مشکوک ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ غیر جانبدار مبصرین کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن2002ء کے آغاز میں تورابورا حملے میں مارے جاچکے تھے اور ایبٹ آباد آپریشن محض ایک انتخابی ڈراما تھا۔

ایبٹ آباد ہی کی طرز پر گرشتہ برس27اکتوبر کو داعش کے مبینہ سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت منظرعام پر آئی۔ISIS کے48 سالہ سربراہ کو شامی صوبے ادلیب کے ایک گائوں باریشا میں نشانہ بنایا گیا۔ اوباما انتظامیہ نے ایبٹ آباد آپریشن کی نگرانی کرتے ہوئے امریکی صدر اور ان کے مشیروں کی تصویر جاری کی تھی۔ اس بار بالکل اسی انداز میں صدر ٹرمپ نائب صدر مائیک پینس اور وزیر دفاع کے ہمراہ یہ ڈراما دیکھ رہے تھے۔ایرانی فوج کے قلب پر اس حملے کی وجہ مواخذہ اور صدارتی انتخابات ہیں یا سعودیہ ایران ممکنہ مفاہمت کے دروازے کو قفل لگانا۔ صدر ٹرمپ کی یہ جرأت رندانہ دنیا اور خاص طور سے مشرق وسطیٰ کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ رہبر ایران آیت اللہ خامنہ ای دوٹوک انداز میں کہہ چکے ہیں کہ جنرل سلیمانی عالمی سطح پر مزاحمت کی علامت تھے۔ امریکہ نے جنرل سلیمانی پر حملہ کرکے دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے جس کی اسے بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی۔

پاکستان، افغانستان، شام، لبنان، یمن اور عراق میں ایرانیوں کی جڑیں خاصی گہری ہیں۔ دوسری طرف خلیجی ممالک میں چالیس ہزار کے قریب امریکی فوجی تعینات ہیں۔ پورے خطے میں ایران نواز عسکری تنظیمیں اور فدائین موجود ہیں جن کے ذریعے تہران امریکی مفادات اور ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ''دشمن کا دوست دشمن'' کے اصول پر ایران اور یمن کے حوثی سعودی عرب میں تیل و گیس کے میدان اور تنصیبات کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں تاہم زمینی حقائق ایران کے حق میں نہیں۔ تہران کو اسلامی دنیا میں سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔ترکی کے علاوہ کسی مسلم ملک نے جنرل سلیمانی کے قتل کی مذمت نہیں کی ہے۔ ایران کے دوسرے پڑوسی یعنی پاکستان، افغانستان اور عراق پر امریکہ کی گرفت خاصی مضبوط ہے۔

عراقی پارلیمنٹ سے فوجی انخلا کی قرارداد منظور ہونے پر امریکی فوج کے مقامی کمانڈر بریگیڈیر ولیم سیلی نے عراقی جرنیل کے نام خط میں پارلیمنٹ کے احترام اور امریکی فوج کی فوری واپسی کا عندیہ دیا لیکن خط کی سیاہی خشک ہونے پہلے ہی امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے اپنے وضاحتی بیان میں عراق سے امریکی فوج کے انخلا کو یکسر مسترد کردیا ۔ امریکی وزیردفاع مارک ایسپر نے بغداد میں تعینات اپنے کمانڈر کے خط کو قبل ازوقت و نامناسب قرار دے کر عراق کی آزادی و خودمختاری کو ہوا میں اُڑا دیا۔اس واقعے پر پاکستان کے طرزعمل سے تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کی بے بسی وبے اختیاری کھل کر سامنے آگئی ہے۔ قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے پاکستانی ہم منصب یا حکومت سے بات کرنے کے بجائے فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ کو فون کیا۔

امریکی ذرائع کے مطابق بات چیت کے دوران جنرل باجوہ نے پاکستان میں امریکہ کے سفارتی عملے اور عسکری مفادات کے تحفظ کا یقین دلایا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ محض اتفاق ہو لیکن جنرل باجوہ سے پومپیو کی گفتگو کے فوراً بعد امریکی وزارت دفاع نے پاکستان کے فوجی افسران کی تربیت پر پابندی ختم کردی۔ دوسرے دن اس معاملے پر آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل آصف غفور نے پاکستانی حکومت کی جانب سے پالیسی بیان جاری کیا جس میں عراق کی قومی خودمختاری کا ذکر کئے بغیر اس معاملے میں مکمل غیر جانبداری کا عزم ظاہر کیا گیا۔

توقع تھی کہ ترکی کی طرح پاکستان بھی امریکہ کی جانب سے عراق کی سا لمیت و خودمختاری کی پامالی پر تشویش کا اظہار کرے گا۔بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ایران امریکہ کشیدگی سے پاکستان مکمل طور پر غیرجانبدار رہ سکتا ہے۔

پاکستان نے کشیدگی کم کرانے کیلئے مصالحت اور ثالثی کی پیشکش کی ہے ،کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ ایران اورامریکہ کے مابین ثالثی کرا سکے ؟یہ اور اس جیسے دیگر سوال پاکستان کی قیادت کیلئے اہم ہونے چاہئے اور ان مسائل کے حل کیلئے کوشش نظر آنی چاہئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں شمولیت کی طرح ہم ایک بار پھر امریکی چالبازی میں آجائیں۔

متعلقہ خبریں