Daily Mashriq

قصہ خوانی بازارکی ''پھلیاریاںدی گلی ''ویران،دکانیںبند ہونے لگیں

قصہ خوانی بازارکی ''پھلیاریاںدی گلی ''ویران،دکانیںبند ہونے لگیں

پشاور ( صابر شاہ ہوتی ) پھولوں کا شہر پشاور آہستہ آہستہ تاریخ کے اوراق میں گم ہوتا جا رہا ہے قصہ خوانی بازارمیں '' پھلیاریاں دی گلی '' کے نام سے جانی جانے والی گلی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ دکانیں مالی خسارے کی وجہ سے بند ہو رہی ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہاں پھولوں کا کاروبار بڑے پیمانے پر ہوا کرتا تھا لیکن اب گزرتے وقت کے ساتھ اس کاروبار سے وابستہ لوگ یہ کاروبار چھوڑ رہے ہیں ۔ گذشتہ چار دہائیوں سے پھولوں کاروبار کرنے والے سعید محمد کا کہنا ہے کہ وہ پشاور میں پھولوں کے کاروبار کے مستقبل سے پر امید نہی اور وہ اپنی آنے والی نسل کو بھی یہ کاروبار کرنے نہیں دیںگے کیونکہ لوگو ں کی پھولوں میں عدم دلچسپی اور دہشت گردی نے اس کاروبار کو بہت نقصان پہنچایا انکا کہنا تھا کہ پہلے قومی اور مذہبی تہواروں کے مواقع پر پشاور کے بازاروں میں رونقیں لگی رہتی اور خوب چہل پہل ہو ا کرتی تھی لیکن اب جب کوئی بڑا تہوار جیسا کہ محرم وغیرہ ہو تو سیکورٹی خدشات کے باعث مارکیٹیں آٹھ آتھ دس دس دن کے لئے بند کر دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے کاروبار پر بہت برے اثرات پڑے ہیں ۔ '' پھلیاریاں دی گلی '' میں کاروبار کرنے والے طاہر احمد کا کہنا ہے کہ قصہ خوانی بازار میں پھولوں کے کاروبار کم ہونے کی ایک بڑی وجہ کوہاٹ روڈ اور شہر کے دوسرے علاقوں میں کثیر تعداد میں دکانوں کا کھل جانا بھی ہے جس کی وجہ سے ''پھلیاریاں دی گلی '' میں کاروبار کم ہو گیا ہے اور لو گ یہاں آنے کے بجائے قریب دکانوں سے ہی پھول خرید لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پھولو ں کے کاروبار میں زیادہ مالی فائدہ کسانوں کو ہو تا ہے جبکہ دکانداروں کا منافع کم اور فروخت نہ ہو نے صورت میں نقصان زیادہ ہو تا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی تیز لہر کی وجہ سے بھی کاروبار پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں کیونکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 30سے 40 فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور دکان پر کام کرنے والے کاریگروں کی دیہاڑی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے کاروبار کر چلانا مشکل ہو گیا ہے ۔

متعلقہ خبریں