انتخابی ماحول کی ابتر ہوتی صورتحال

انتخابی ماحول کی ابتر ہوتی صورتحال

بنوں میں سب سے پہلے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار کو نشانہ بنانے کی کوشش یکہ توت پشاور میں خود کش حملہ کا دلخراش واقعہ اور بنوں میں سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی کو نشانہ بنانے کی کوشش جیسے واقعات کے بعد اس قسم کے مزید واقعات کے خدشات کا اظہار بلا وجہ نہ ہوگا۔ نیکٹا تسلسل کے ساتھ انتباہ جاری کر رہی ہے جبکہ تحریک طالبان کا ایک بد ترین واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملوں کا عندیہ ساتھ ہی ساتھ سیاسی طور پر انتشار اور بعض سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے دور رکھنے اور بعض کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے الزامات خدشات اور خطرات کے سایوں میں گھری انتخابی مہم سے کسی طور اس امر کا یقین نہیں آتا کہ 18جولائی کو عام انتخابات کا پر امن انعقاد ممکن ہوگا۔ خود چیف الیکشن کمشنر نے خطرے کی بو سونگھ کر اضافی اور سخت سیکورٹی لے لی ہے۔ سب سے حیرت انگیز امر یہ ہے کہ خطرات کا ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود وہ حقیقی حفاظتی انتظامات نظر نہیں آتے جس کی صورتحال متقاضی ہے۔ نگران وزیر اعظم کی ہارون بلور کی شہادت پر تعزیت کے لئے آمد کے موقع پر گورنر خیبر پختونخوا اور نگران وزیر اعلیٰ سے ان کی امن و امان کے معاملات پر نشست ضرور ہوئی اور منصوبہ بندی کے ساتھ انتظامات کا عندیہ بھی دیاگیا چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی پشاور آئے حالات سب کے سامنے ہیں اور صورتحال پوشیدہ نہیں۔ سرحدوں پر داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا نظام سخت اور ناکہ بندیوں میں چھان بین کادعویٰ تو سامنے آیا ہے مگر اس کے باوجود خاص طور پر وہ علاقہ زیادہ پر خطر بن گیا ہے جو صوبے کے نگران وزیر اعلیٰ کا آبائی علاقہ ہے۔ بنوں میں یکے بعد دیگرے دو واقعات اور صوبائی دارالحکومت پشاور کے بد ترین واقعے سے سیکورٹی کے انتظامات کی قلعی کھل جانا کوئی الزام نہیں نوشتہ دیوار ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ کی جانب سے وفاق کو دو اعلیٰ افسروں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کے بعد ان کے تبادلے کی سمری اور کابینہ کے اجلاس میں ایک اعلیٰ انتظامی شخصیت کا تین گھنٹے کے اجلاس میں گنیاں منہ میں ڈالے خاموش بیٹھے رہنا نگران حکومت اور سرکاری مشینری کے درمیان بنیادی ورکنگ ریلیشن شپ تک نہ ہونے کا ثبوت ہے جو صوبہ دہشت گردی کا بد ترین شکار رہا ہو جس صوبے میں یکے بعد دیگرے واقعات ہو رہے ہوں اس صوبے کی نگران حکومت اور اعلیٰ انتظامی شخصیت اور وفاق کے نمائندے کے درمیان رسہ کشی اور عدم تعاون کے ہوتے ہوئے کیسے یہ یقین کیا جاسکتا ہے کہ صوبے میں پر امن ماحول کے انتخابات کے انعقاد میں نگران حکومت اور سرکاری مشینری سر گرم عمل ہے۔ اس قسم کی صورتحال کا دہشت گرد عناصر ہی کو فائدہ ہوگا اور وہ اس صورتحال میں مزید آسانی کے ساتھ کارروائی کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب کوئی بڑا سانحہ رونما ہو جاتا ہے اور لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تبھی اس موقع پر ایسے حفاظی اقدامات کئے جاتے ہیں اور اس قسم کے مناظر سامنے آتے ہیں کہ ہر قسم کے حفاظتی اقدامات کے لئے وسائل بھی موجود ہیں افرادی قوت کی بھی کمی نہیں اور سرکاری مشینری بھی بے دست و پا اور اپاہج نہیں مگر اسی اثناء میں دوسری طرف صورتحال اس قسم کی سامنے آتی ہے کہ کوئی اور بدترین واقعہ رونما ہونے کو ہوتا ہے۔ سیاسی عمائدین کے قافلے کو نشانہ بنایا جاتاہے۔ یہ ایک ایسا معمہ ہے جو سمجھنے اور سمجھانے کا تو ہے نہیں الٹا شکوک و شبہات میں اضافے کا باعث صورتحال ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں پر امن انتخابات کے انعقاد کے لئے حکومتی صفوں اور سرکاری مشینری کے درمیان قریبی روابط اور خوشگوار تعلقات از بس ضروری ہیں۔ انتخابات کے دنوں میں واپس طلب کردہ ایف سی نفری کی فوری طور پر پولیس کے ساتھ سیاسی اجتماعات ‘ ریلیوں اور سیاسی شخصیات کی حفاظت کے لئے بلا تاخیر تعیناتی کی ضرورت ہے۔ ہر تھانے کی پولیس کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے علاقے میں سیاسی سر گرمیوں اور اجتماعات کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔ سیاسی قائدین کے پاس بھی اپنی حفاظت کے لئے وسائل کی کمی نہیں ان کو بھی نہ صرف اپنی حفاظت کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں بلکہ اپنی ریلیوں اور اجتماعات میں شرکت کرنے والے لوگوں کی جان کی حفاظت بھی یقینی بنانے کے لئے وسائل بروئے کار لانے میں بخل سے کام نہ لینے کی ضرورت ہے۔ سیاسی کارکنوں کو اپنی صفوں اور راستوں میں احتیاط کے ساتھ مشکوک عناصر پر نظر رکھنے اور کسی اجنبی و مشکوک شخص کو شامل ہونے سے روکنے کی اپنی ذمہ داری نبھانے پر خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن کو صوبے میں بار بار کے واقعات کا سخت نوٹس لے کر نگران حکومت سے وضاحت طلب کرنے کی ضرورت ہے۔ انتخابات کے انعقاد کے لئے جو ماحول ناگزیر ہے وہ تحفظ ہے۔ امیدواروں اور سیاسی اجتماعات کو تحفظ دینے میں ناکامی یا کوتاہی کا مظاہرہ نہ صرف سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کے اندر بد دلی پھیلنے کا موجب ثابت ہوگا بلکہ اس کے انتخابات کے ماحول پر سخت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ انتخابی عمل کو پر امن رکھنا امیدواروں اور اجتماعات کا تحفظ یقینی بنائے بغیر انتخابی ماحول کاقیام اور عوام کی معقول تعداد کو پولنگ سٹیشنز تک لانا ممکن نہ ہوگا۔ کم ٹرن آئوٹ سے انتخابی عمل مشکوک ہوگا اور انتخابات کے بعد آنے والی قیادت کھوکھلے پن کا شکار ہوگی اور اس کے لئے عوامی مسائل کا حل اور عوام کی توقعات پر پورا اترنا ممکن نہ ہوگا جس سے جمہوریت اور جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہوگا۔ نگران وزیر اعظم ‘ گورنروں اور وزرائے اعلیٰ اور وزیر داخلہ کو اس ضمن میں متعلقہ ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے اور فوری لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر انتخابات ہو کر بھی ادھورے رہ جائیں گے اور اگر صورتحال بعض کو پرے دھکیل کر بعض کو مواقع دینے کی بن گئی تو پھر انتخابات کے بعد احتجاج اور انتشار سے مزید حالات بگڑ سکتے ہیں۔ ایسے میں انتخابات بے معنی ہوں گے۔ اس قسم کی صورتحال کو آنے سے روکنے کے لئے ہنگامی اقدامات اور انتظامات کے ساتھ ساتھ اس قسم کے تاثر کا خاتمہ بھی بہتر انتخابی ماحول کے لئے ضروری ہے۔ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کو ان حالات سے نمٹنے اور عوام کو پر امن انتخابی ماحول اور سارے امیدواروں کو یکساں مہم چلانے کی آزادی و تحفظ کی فراہمی کی ذمہ داری میں کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے تاکہ عام انتخابات کے نتیجے میں حقیقی عوامی قیادت سامنے آئے اور ملک کا انتظام عوام کے حقیقی نمائندوں کو منتقل ہو۔

اداریہ