Daily Mashriq


کالج داخلے‘ طلبہ اور والدین کی مشکلات

کالج داخلے‘ طلبہ اور والدین کی مشکلات

ہر سال میٹرک کے امتحانات کے بعد داخلوں کے متلاشی طالب علموں اور ان کے والدین کی مشکلات اور تکالیف دیدنی ہوتی ہیں۔ گوکہ سرکاری کالجوں میں آن لائن داخلوں کا نظام وضع کرکے اور بعض لوازمات کو داخلہ یقینی ہونے تک موخر کرکے طلبہ کو آسانی اور سہولت فراہم کرنے کی حال ہی میں مساعی ہو چکی ہیں لیکن اس کے باوجود طلبہ اور ان کے والدین کی مشکلات کا ہنوز خاتمہ نہیں ہوا۔ طالب علموں اور ان کے والدین کو داخلوں کے لئے اب بھی کئی مراحل اور امتحان سے گزرنا پڑتا ہے جس سے طلبہ اور ان کے والدین زچ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس وقت جبکہ کالجوں میں فرسٹ ایئر کے داخلے شروع ہوچکے ہیں طلبہ اور ان کے والدین کو فارم کے حصول پراسپیکٹس ‘ بیان حلفی کے لئے مہنگے داموں سٹامپ پیپرز کی من مانے ریٹ پر فروخت کچہری میں بے پناہ رش اور نوٹری پبلک والوں کا محض ایک دستخط کے لئے بھاری رقم کا مطالبہ جیسے معاملات طلبہ اور ان کے والدین کے لئے مالی مشکلات اور پریشانی کا باعث ہیں۔ جن شرائط میں نرمی لانا ممکن ہو ان میں نرمی لانے کی ضرورت ہے جبکہ جن شرائط کو داخلہ کنفرم ہونے تک موخر کیا جاسکتاہے اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ جو لازمی اور ضروری شرائط ہوں ان کا ریٹ مقرر کیاجائے اور سٹامپ پیپرز بلیک میں فروخت کرنے والوں کو جرمانہ کیا جائے اور ان کے اجازت نامے منسوخ کئے جائیں۔ داخلوں کو مزید سہل اور آسان بنایا جائے۔ مہنگے داموں پراسپیکٹس کی فروخت کی بجائے کالجوں کو صرف ایک فارم بھرنے کا پابند بنایا جائے۔ نجی اور خود مختار کالجوں کو من مانی شرائط منوانے سے روکا جائے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں کالجوں کی تعداد میں آبادی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔ سرکاری شعبے میں ہاسٹلز تعمیر کرکے طالب علموں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کئے جائیں اور طالب علموں کو نجی ہاسٹلوں میں نا موافق ماحول میں رہنے پرمجبور ہونے کی بجائے ان کو محفوظ اور تعلیمی ماحول میں سرکاری ہاسٹلز مہیا کرنے کاانتظام کرکے ان کے و الدین کا معاشی بوجھ بھی کم کیا جائے۔

ہونہار طالب علم کی مدد کی ضرورت

میٹرک کے امتحان میں ایک ہزار چھتیس نمبر حاصل کرنے والے چارسدہ کے ہونہار طالب علم کی فیس اور اخراجات کی عدم استطاعت پر اسلامیہ کالج میں داخلہ سے محرومی المیہ ہوگا۔ اولاً اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہی کو چاہئے کہ وہ اپنے ادارے میں داخلے کے خواہشمند ہونہار مگر نادار طالب علم کی فیس معافی کے ساتھ دیگر واجبات کی معافی اور ان کے لئے سکالر شپ کا اعلان کرے‘ دوم نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو مذکورہ طالب علم کے لئے وظیفہ مقرر کرنے اور طالب علم کے تعلیمی اخراجات کی ادائیگی کی ہدایت کرنی چاہئے۔ اگر کسی وجہ سے محولہ عہدیداروں کی جانب سے سرد مہری کا رویہ سامنے آیا تو پھر معاشرے کے صاحب ثروت اور صاحب دل افراد کو چاہئے کہ وہ اس طالب علم کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائیں۔ ہزاروں والدین لاکھوں روپے خرچ کرکے اپنے بچوں کو اس قابل بنا نہیں پاتے کہ وہ اچھے نمبر لے کر کامیاب ہوں۔ یہ ہونہار طالب علم ہمارا ہی فرزند اور بچہ ہے اس کی مدد ہم سب کا اخلاقی فریضہ ہے تاکہ ایک گوہر قابل محض ناداری کے باعث محروم نہ رہ جائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ چارسدہ کے اس ہونہار طالب علم کی دست گیری کی جائے گی اور اس کو معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی جدوجہد میں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔

متعلقہ خبریں