Daily Mashriq


بھٹو اور نواز شریف کا موازنہ بنتا ہی نہیں

بھٹو اور نواز شریف کا موازنہ بنتا ہی نہیں

ان دنوں نون لیگ کے چھوٹے بڑے‘ نو مولود پنجابی کامریڈز اور لبرلز کے علاوہ یک از عاشقان جاتی امرا و جمہوریت سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی چیئر مین شہید ذوالفقار علی بھٹو پر بہت مہربان ہیں۔ ان کا خیال اور دعویٰ ہے کہ جناب نواز شریف کو ذوالفقار علی بھٹو کی طرح انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نواز شریف جمہوریت کی علامت ہیں۔ جب کوئی سوال اٹھاتا ہے کہ نواز شریف اور ان کے بچوں پر کرپشن کے الزامات ہیں اور پانامہ سکینڈل پر انہوں نے ہی چیف جسٹس کو خط لکھا تھا اور قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خاندان کے پاس اپنے اثاثوں کے حوالے سے مکمل دستاویزاتی ثبوت (یعنی منی ٹریل) موجود ہے۔ تحقیقاتی اور پھر عدالتی عمل میں وہ دستاویزاتی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے تو جھٹ سے یہی انقلابی دوست فرماتے ہیں بھٹو بھی تو قاتل تھے۔ انہیں ایک مقدمہ قتل میں سزائے موت ہوئی۔ بھٹو نہ ہوئے موم کی ناک ہوگئی جدھر پنجابی برادران اور ان کے ہمنوا چاہیں بوقت ضرورت موڑ لیں۔ تاریخ کا ریکارڈ یہ ہے کہ 5جولائی 1977ء کا مارشل لاء امریکی منصوبے کے عین مطابق تھا اور اس کے لئے امریکی سفیر بھٹو مخالف قومی اتحاد کے ساتھ اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق سے رابطے میں تھے۔مرحوم اصغر خان ان دنوں وہی کردار اور زبان استعمال کرتے تھے جو آج عمران خان اور ان کے پیرو کاران استعمال کرتے ہیں۔ بھٹو صاحب کے شریک ملزموں فیڈرل سیکورٹی فورسز کے نچلے درجہ کے اہلکاروں کے ساتھ جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر میاں طفیل محمد اور اس کے کیس کے وعدہ معاف گواہ مسعود محمود( یہ صاحب فیڈرل سیکورٹی فورس کے سربراہ تھے) نے جیل میں ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ اگر وہ بھٹو کے خلاف گواہی دے دیں تو انہیں معاف کردیا جائے گا۔ ان دو ضامنوں کی وجہ سے مقدمہ میں رنگ بھرا گیا لیکن بعد ازاں ان اہلکاروں کو بھی سزا دی گئی تاکہ وہ کسی مرحلہ پر حقائق کو سامنے نہ لا سکیں۔ سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کا انٹرویو ریکارڈ پر موجود ہے کہ بھٹو کیس کا فیصلہ ریاستی دبائو کا نتیجہ تھا۔

ان شواہد کے ہوتے ہوئے ایک اور بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ صرف پیپلز پارٹی اور ترقی پسند حلقے نہیں پوری دنیا بھٹو کی سزائے موت کو عدالتی قتل قرار دیتے آئے ہیں اور اس فیصلے کو عدالتی نظیر کے طور پر کبھی پیش نہیں کیاگیا۔ تعصب اور نفرت کی انتہا پر کھڑے ہمارے پنجابی کامریڈز اور لبرلز کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے ممدوح کی سیاسی اٹھان تربیت اور جمہوریت دشمن کر دار کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ 35 یا40 سال کی تاریخ نہ بھی کھنگالیں تو بھی 2008ء سے2013ء کے درمیان نوازشریف اور ان کی جماعت کے جمہوریت دشمن کردار کو کیسے فراموش کردیا جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹائون کی ویڈیوز میں قاتل چہرے واضح ہیں لیکن اب یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے ذمہ دار شریف برادران اور ان کی حکومت نہیں بلکہ کوئی خلائی مخلوق ہے۔ نواز شریف کو بھٹو اور مریم سے بے نظیر بھٹو والے برتائو کی باتیں کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ اسی بے نظیر بھٹو کے خلاف جناب نواز شریف‘ نون لیگ اور اسلامی جمہوری اتحاد نے 1988ء اور 1990ء کے انتخابات کے دوران کیا زبان استعمال کی تھی اور ایک دن جب وزیر اعظم بے نظیر بھٹو پیلا سوٹ پہن کر قومی اسمبلی میں آئیں تو شیخ رشید کی قیادت میں اسلام پسند لیگیوں نے ان پر کیسی کیسی آوازیں کسیں۔ جناب نواز شریف مسکراتے اور ڈیسک بجاتے دکھائی دئیے اس صورتحال میں۔ جناب نواز شریف نے اپنے دو ادوار میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف 17 سے زائد مقدمات بنوائے ان کے برادر خورد شہباز شریف اور احتساب سیل کے سربراہ سیف الرحمن کا ان مقدمات میں کیا کردار تھا یہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ نواز شریف کے حکم کو سیف الرحمن نے جسٹس ملک قیوم تک پہنچایا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کو کم از کم سات سال کی سزا دی جائے۔ یہ ٹیلی فونک گفتگو منظر عام پر آئی تو دو ججز کو منصب سے الگ ہونا پڑا۔ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کے فیصلے کو ختم کرکے مقدمہ کی دوبارہ سماعت کاحکم دیا۔

جناب نواز شریف کو حالیہ سزا اس جرم میں ہوئی کہ ان کے بچوں کے اثاثے اس وقت کے ہیں جب وہ وزیر اعظم‘ بچے زیر تعلیم اور ان کے زیر کفالت تھے یعنی آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ انہوں نے اپنے بھائی سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی مدد سے جاتی امراء والی زمین کیسے حاصل کی یہ ریکارڈ کاحصہ ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نواز شریف کو بھٹو اور مریم کو بے نظیر بھٹو ثابت کرنے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہمارے پنجابی مہربان تاریخ کی آنکھوں میں جوتوں سمیت گھسنے پر بضد ہیں تو ان کے لئے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ بعض تحفظات بجا طور پر درست ہیں امور مملکت اور نظام میں کسی بھی شخص یا ادارے کو مداخلت کا حق نہیں مگر کیا نواز شریف کی ساری سیاست اداروں کی مرہون منت نہیں۔ نواز شریف ان کی صاحبزادی اور داماد کو عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ہے مگر داماد اول تو گرفتاری سے قبل کے خطاب میں فرما چکے ہیں کہ وہ ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے جرم میں جیل جا رہے ہیں اس سفید جھوٹ پر کیا کہا جاسکتا ہے۔

حرف آخر یہ ہے کہ پچھلے دو دنوں سے لاہور اور گرد و نواح میں لیگی کارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں کا عمل درست نہیں ایسا لگتا ہے کہ اداروں کے اندر سے کچھ لوگ ابتر حالات کے خواہش مند ہیں۔ ایسا ہے تو یہ صریحاً غلط اور دستور و قوانین سے متصادم سوچ ہے اس کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں