Daily Mashriq


مجنوں نظر آتی ہے ، لیلیٰ نظر آتا ہے

مجنوں نظر آتی ہے ، لیلیٰ نظر آتا ہے

مبارک ہو دنیا بھر کے خواجہ سراؤں کو کہ ان کی برادری کے ایک فرد نے ملکہ حسن کا مقابلہ جیت کر مس سپین ہونے کا تمغہ حاصل کرلیا۔ یہ خبر اتنی چھوٹی نہیں جسے قابل اعتناء نہ گردانا جائے۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں

بعض اوقات ہی نہیں اکثر اوقات کسی برادری یا فرد کی جیت کو پوری برادری یا قوم کی جیت کے مترادف گرداناجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پوری خواجہ سرا برادری کو مبارک بادد دینے میں اپنے آپ کو سو فی صد حق بجانب سمجھتے ہیں۔ بڑا عجیب ہے یہ’ برادری ‘کا لفظ۔ آپ یقین جانیں جس وقت اس لفظ کو خواجہ سراؤں کے حوالہ سے زیر استعمال لانے لگا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے نصیب دشمناں میں بھی ان کی برادری میں شامل ہوگیا ہوں۔ میری ماں کہتی تھیں کہ جب تو پیدا ہوا تھا تو پشاور میں رہنے والے ہندوئوں کے گھروں کو جلا یا جا رہا تھا اور میں تجھے چھپاتی پھرتی تھی کہ آسمان سے باتیں کرتے شعلوںکا کوئی ایک انگارہ ہمارے گھر کی چھت پر نہ آن گرے اور بھسم کرکے رکھ دے تیری ننھی سی جان کو ، کتنی دہشت پھیل چکی تھی اپنے شہر پشاور میں جب ہم اس دنیا میں اوں غیں اوں غیں کرتے آن وارد ہوئے ۔

اس خوفناک آشوب شہر کی وجہ سے پشاور کے کسی خواجہ سرا کو کانوں کان علم ہی نہ ہوسکا کہ ہم آگئے ہیں اس دنیا میں۔ نہیں تو وہ ضرور آتے ہماری پیدائش کی خوشی میں جگ جگ جیوے یا جمدا جیوے کے گیت گانے۔ پاکستان بننے سے پہلے یا پاکستان بننے کے بعد خواجہ سراؤں اور ان کے ڈھول باجے والے ہمنواؤں کو کسی کے ہاں بیٹا یا بیٹی پیدا ہونے کی خبر پہنچنے میں دیر نہیں لگتی تھی۔ وہ ڈھول کی تال پر تالیاں بجاتے پہنچ جایاکرتے تھے اس مکان کی دہلیز پر جہاں بچہ پیدا ہونے کی خوشیاں منائی جا رہی ہوتیں۔ ان کو نہ صرف نومولود بچے کا نام معلوم ہوتا بلکہ اس کے ابو دا دا نانا اور چاچے تائے کے نام بھی انہوں نے ازبر کئے ہوتے۔ ان دنوں انٹرنیٹ نام کی کوئی چیز تھی نہ انفارمیشن ٹیکنالوجی قسم کی کوئی سہولت موجود تھی۔ پھر بھی ان تک نومولود کی پیدائش کے متعلق برق رفتاری سے پہنچ جانے والی جملہ معلومات کو باجوں گاجوں کی دھن پر سن کر ہم ورطہ حیرت میں پڑجاتے۔ جب ہم نے ہوش کے ناخن سنبھالے تو اپنے تجسس کو مٹانے کی غرض سے خواجہ سراؤں اور ان کے ہمنواؤں سے پوچھ ہی ڈالا کہ کیسے پتہ چل جاتا ہے ان کو بچے کی پیدائش اس کے نام اور اس کے باپ دادا ماموں تایا اور دیگر رشتہ داروں کے ناموں کے بارے میں۔ جس کے جواب میں ہمیں بتایا گیا کہ بلدیاتی ریکارڈمیں نومولود کی پیدائش کا اندراج کرنے والا عملہ ہماری برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ نہ کرے یہ بات سچ ہو۔ خواجہ سراؤں کی برادری سے تعلق رکھنے کو جانے کیوں اور کب سے معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو برادر کہلوانے کی بجائے خواہر کہلانا مناسب سمجھتے ہیں ، کہتے ہیں تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کوئی خواجہ سرا ملکہ حسن بن کر دنیا والوں کو پکار پکار کر کہنے لگی ہو

یہ محفل جو آج سجی ہے، اس محفل میں ہے کوئی ہم سا، ہم سا ہو تو سامنے آئے

کتنے خوش ہوئے ہونگے وطن عزیز میں خواجہ سرا تالیاں بجا بجاکر ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے ہوں گے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ پیدا ہی مبارک باد دینے کے لئے ہوئے ہوں۔ کسی کے سر سہرا سجے ،کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہو، کہیں باجے گاجے یا شادیانے بجنے کی گنجائش ہو یہ پہنچ جاتے ہیں خوشیوں کی محفل کو دوبالا کرنے۔ ناچتے ہیں۔ بھنگڑے ڈالتے ہیں۔ہر خوا جہ سرا اس وقت تک اپنے چاہنے والوں کے دل کی ملکہ حسن بننے کی کوشش میں کامیاب ر ہتا ہے ، جب تک وہ چھمک چھلو کی حدود پار نہیں کرلیتا جیسے ہی اس کی جوانی ڈھلنے لگتی ہے یہ نودمیدہ خواجہ سراؤں کے گرو گنٹھال بننے کی عمر کو پہنچنے لگتا ہے ، میں نے اپنے آج کے کالم میں خواجہ سراؤں کو مذکر باندھا ہے، حالانکہ یہ اپنے آپ کو مذکر کہلوانا پسند نہیں کرتے ، اپنے ناز ادا اور نخروں اور لچکتی کمریا کے وارسے کتنوں کے دل لوٹ لیتے ہیں ، اور کتنوں کو لاحول ولا قوۃ پڑھنے پر مجبور کردیتے ہیں، مجھے ان باتوں سے کوئی سرو کار نہیں ، مجھے تو اس خبر نے پتھرا کر رکھ دیا ہے ، جس میں ’’مس سپین کامقابلہ پہلی بارخواجہ سراء نے جیت لیا‘‘ کی نوید سنا تے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سپین کے شہر مالقہ میں ہونے والے چھٹے سالانہ مقابلہ حسن میں 23حسینائوں نے حصہ لیا، جب کہ جج صاحبان نے متفقہ طور پر 26سالہ انجیلا فونسی نامی خواجہ سرا کو مس سپین 2018کا ٹائٹل دے دیا۔ ایک خواجہ سرا کو مس سپین بننے کی خبر کو پڑھنے کے بعد ہم جس سوچ میں پڑگئے اس کے مطابق تیسری یا درمیانی جنس کی مخلوق یعنی خواجہ سرا جب چاہیں مرد بن کر الیکشن میں کھڑے ہوکر اچھے اچھے مردوں کو چاروں شانے چت گرادیں اور جب چاہیں اپنے اوپر صنف نازک کے ناز اور ادائیں طاری کرکے خواتین کے حقوق پر ڈاکہ ڈال دیں ، یہ ان کے ناز ادا اور نخروں یا دو نمبر صنف نازک بننے کا کمال ہے یا عدل و انصاف کے دعوے دا ر جج صاحبان کی عقل رسا کی اڑان جو جب چاہے کالے کو سفید اور سفید کو کالا قرارعدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کردے ، ایک خواجہ سرا کو حسینہ عالم یا مس سپین قرار دئیے جانے والے فیصلے کے بارے میں جان کرہی شاید کسی نے کہا ہے کہ

وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے

مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے

متعلقہ خبریں