’’اظہار رائے کی آزادی اور پاکستان‘‘

’’اظہار رائے کی آزادی اور پاکستان‘‘

اظہار رائے انسان کا پیدائشی حق ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم بیان دیا ہے۔ زبان اور پھر دنیا کی مختلف زبانیں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ زبان کے ذریعے انسان اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے۔ اس لئے انسانی جسم اور زندگی میں زبان اور اس کے ذریعے اظہار رائے کی بڑی اہمیت ہے۔ اس نعمت خداوندی کا احساس تب ہوتا ہے جب کسی قوت گویائی سے محروم شخص سے بات کرنے کا واسطہ پڑتا ہے۔
زبان اور تقریر و تحریر کے ذریعے ایک انسان دوسرے انسان سے رابطہ کرنے کا اہل ہوتا ہے۔ اس لئے اچھی تحریر اور تقریر بھی اللہ تعالیٰ کی بیش قیمت نعمتوں میں شمار ہوتی ہے۔تحریر و تقریر کو مثبت‘ تعمیری اور بنی نوع انسان کی رشد و ہدایت اور رہنمائی کے لئے استعمال کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ماجور اور حسن الثواب کا کام ہے۔ لیکن اگر کوئی اس کو غلط مقاصد اور کسی انسان کو ضرر اور نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہؐ کی تعلیمات میں نہ صرف اس کی مذمت کی گئی ہے بلکہ اس پر قدغن اور پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں۔ تہمت اور بہتان پر قذف (80کوڑوں) کی سزا بیان ہوئی ہے۔ برائی اور بے حیائی کی باتیں پھیلانے والوں کے لئے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے میٹھی بات کو صدقہ قرار دیا ہے۔ سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے پھیلانے والے کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ یہ سزائیں اور تعلیمات اس لئے آئی ہیں تاکہ اسلامی معاشرہ کے افراد کے درمیان محبت و اخوت کے تعلقات استوار ہوں۔ اس لئے مسلمان معاشرے میں ایک انسان پر دوسرے انسان کی جان و مال آبرو حرام قرار دئیے گئے ہیں۔
غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیاگیا ہے۔ ایک دوسرے کو برے ناموں اور القابات سے یاد کرنے اور پکارنے کو ایسا قرار دیاگیا ہے جیسے کوئی اپنے آپ کو برے القابات دے رہا ہو۔ اس عمل کو بہت برا فسق قرار دیاگیا ہے۔ ان تعلیما ت پر عمل پیرا رہنے کے سبب مدینہ طیبہ کی ریاست میں ایک ایسی حکومت اور معاشرہ تشکیل پایا جس میں کوئی شخص دوسرے کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنا بہت بڑا عیب اور گناہ سمجھتا تھا۔ لیکن پھر وہ سنہری ایام بہت جلد گزر گئے اور مسلمان معاشرے ان تمام برائیوں میں آہستہ آہستہ مبتلا ہوتے چلے گئے جن سے منع کیاگیا تھا۔ ملوکیت کے دور میں سب سے بڑی خرابی اسلامی معاشرے میں یہ در آئی کہ کوئی حق بات کرتا تو بادشاہ وقت کے ماتھے تیوری چڑھ جانا معمول کی بات بن گیا۔ یزید کو حضرت حسینؓ نے یہ حق بات فرمائی کہ آپ نے خلافت کو ملوکیت میں تبدیل اور بیت المال کو اپنے ذاتی خزانے میں تبدیل کرکے بہت بڑا گناہ کیا اور اس حق بات کے اظہار کا نتیجہ تاریخ کے صفحات پر درج ہے۔ اسلامی تاریخ میں جب بادشاہتیں پروان چڑھیں تو( الا ماشاء اللہ) اظہار رائے پر سخت پابندیاں لگ گئیں۔ بادشاہ کی زبان سے نکلا ہوا جملہ آخری‘ کامل اور قانون کا درجہ پاتا تھا۔ لوگ اور عوام زمین بوس ہوکر شاہی درباروں میں بات کی اجازت چاہتے اور سر کی امان بات کرنے سے پہلے طلب کرتے۔ یہی حال اسی زمانے میں یورپ کا بھی تھا بلکہ وہاں تو بادشاہ اور چرچ( پادری / پاپائیت) مل کر عوام کے اظہار رائے کا حق ایسا دبا چکے تھے کہ گلیلیو نے اپنی دور بین کے ذریعے زمین کو حرکت میں دیکھا تو پادری کے معلوم کرنے پر توبہ تائب ہو کر اپنی سائنسی تحقیق سے پیچھے ہٹ گیا۔ کوپرنیکس پادری کی طاقت کو غلط سمجھ کر اپنی بات پر ڈٹا رہا اور جان کی بازی ہار گیا۔
اسلامی تاریخ میں امام ابو حنیفہؒ ‘ امام مالکؒ اور امام حنبلؒ اور امام شافعیؒ اور ابن تیمیہ اور معلوم نہیں اور کتنے علماء حق نے اپنے اپنے ادوار میں اظہار حق کے لئے کتنی بڑی سزائیں جھیلیں۔ اور کتنے جانوں پر کھیل گئے تھے۔ لیکن بہر حال انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو بنیادی حق( اظہار رائے) دیا تھا اس کے اظہار کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت چلتا رہا اور یہی انسانیت کا کمال ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں حق کا اظہار کرنے والے مغرب و مشرق میں پیدا ہوتے رہیں گے لیکن مسئلہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں کچھ الٹا ہوا۔ مغرب کی سائنسی ترقی نے جہاں مغرب میں مذہب کو بہت بری طرح پچھاڑ دیا وہاں بیسویں صدی میں اظہار رائے کے نام پر وہ مادر پدر آزادی عام ہوئی کہ الا مان الحفیظ۔ لندن میں ایسے پارک وجود میں آئے کہ وہاں جا کر آپ کچھ بھی کہیں تو آپ پر کوئی پابندی نہیں۔ بے لگام اور بغیر کسی حد کے آزادی اظہار نے مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان ایک بہت بڑا اور بنیادی اختلاف پیدا کیا اور وہ ہے ناموس رسالتؐ کے حوالے سے مغرب کا غلط بے بنیاد‘ بے دلیل اور بے علم نقطہ نظر اور موقف۔
میڈیا اور بالخصوص سوشل مییڈیا نے اس وقت اظہار رائے کے حق کے استعمال کے حوالے سے دنیا کو ایک خلجان اور انتشار میں مبتلا کر رکھا ہے۔ مغرب میں اظہار رائے کی آزادی کے باوجود اپنے قومی مفادات پر پابندیاں بھی لگائی جاتی ہیں لیکن مغرب کی صحافتی آزادی کے جو ناخوشگوار اثرات پاکستان جیسے اسلامی ملکوں پر مرتب ہو رہے ہیں اس میں بعض اوقات مختلف وجوہات کی بناء پر صحافی برادری‘ حکومت اور مذہبی حلقوں کے درمیان اختلافات ضرور رونما ہوتے ہیں۔ اور اسی بناء پاکستان میں صحافیوں کو بہت زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری صحافی برادری اس حوالے سے اگر دو چیزوں کاخیال رکھے تو ملک و قوم کی بھلائی اور فلاح و بہبود کے علاوہ خود ان کی بھی خیر ہوگی۔ پاکستان میں سب سے اہم حساس مسئلہ ناموس رسالتؐ اور ختم نبوت ہے۔ لہٰذا صحافتی حلقوں اور عوام کے لبرل طبقات کو یاد رکھنا ہوگا کہ یہاں مادر پدر آزادیٔ اظہار رائے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جاسکتی۔ اس سلسلے میں ’’ با محمدؐ ہوشیار‘‘ کو یاد رکھنا ہوگا۔ دوسری چیز وطن عزیز کی سلامتی اور پاک افواج کے کردار کے حوالے سے بات کرنے میں محتاط رہنا پڑے گا۔ کیونکہ پاکستان دشمن قوتیں اس کا غلط فائدہ اٹھانے کے لئے تاک میں رہتی ہیں۔ گزشتہ مہینوں ڈان لیکس نے جو تلاطم برپا کیا اس کے اثرات وطن عزیز کے سیاسی حلقوں پر واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے ہیں۔(باقی صفحہ7)

اداریہ