Daily Mashriq


امن دشمنوں کا وار

امن دشمنوں کا وار

جس وقت میں یہ کالم تحریر کر رہاہوں اس وقت رات کے2بجے ہیں ۔میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ ایک وجہ تو نقیب اللہ کے قاتل رائو انوار کی ضمانت پر رہائی اور دوسری بات پشاور کے علاقہ یکہ توت میں عوامی نیشنل پا رٹی کے صوبائی اسمبلی کے اُمیدوار ہا رون بلور جو بشیر بلور کے فر زند ارجمند ہیں کی ایک خود کش حملے میں 22 لوگوں سمیت شہادت ہے ۔ اس بد قسمت واقعے میں 80سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے۔ اور کئی لوگ موت اور زندگی کی کشمکش میں ہیں۔میں سو چتا ہوں کہ خیبر پختون خوا ایک دفعہ پھر انتہاپسندوں اور دہشت گر دوں کے نشانے پر ہے ۔ سال 2012 میں پشاور میں دہشت گر دوں اور انتہا پسندوں نے ایک انتخابی جلسے میں شہید ہا رون بلور کے والد بشیر احمد بلور کو شہید کیا تھا اور اب دہشت گردوں نے اُنکے 47 سالہ بیٹے ہا رون بلور کو شہید کیا۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک اور بالخصوص خیبر پختون خوا کو امن اور سکون میں رکھے اور اس دھرتی کو محبت امن اور آشتی کا گہوارہ بنائے اور اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی نظر بد سے بچالے۔ اگر ہم غور کریں تو گزشتہ کئی سالوں سے خیبر پختونخوا اور انکے عوام اور قائدین دہشت گر دوں اور انتہاپسندوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ ملک کے اندر اور ملک سے باہر جتنے بھی دہشت گر د ہیں وہ امریکہ، بھارت‘ افغانستان اور اسرائیل کے آلہ کار ہیں اور انکا اصل مقصد پاکستان کو غیر مُستحکم اور یہاںکے امن اور سکون کو تباہ و برباد اور ختم کرنا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے بہت سارے عوامل ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز میں قانون نافذکرنے والے اداروں اور بالخصوص پولیس کی وہ استعداد کار اور صلاحیت نہیں ،جو ہونی چاہئے ۔ مگر ان سب کمی بیشی کے با وجود بھی وطن عزیز میں قانون نافذکرنے والے اداروں نے بے تحا شا قُربانیاں دی ہیں اور اب تک اعداد و شمار کے مطابق 70 ہزار سویلین اور 10 ہزار کے قریب قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہل کار جام شہادت نو ش کر چکے ہیں۔مگر جہاں تک قانون نا فذکرنے والے اداروں کی تربیت اور ٹریننگ ہے وہ اس لیول کی نہیں جو ہونی چاہئے۔اب جبکہ 25 جولائی کو وطن عزیز میں عام انتخابات ہو نے والے ہیں تو یہ قانون نا فذکرنے والے اداروں ، خاص طور پر انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اور پا رٹی کار کنوں کے لئے Fool Proof انتظامات کریں اور عوام کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں۔اس سلسلے میں خفیہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک دشمن عناصر پر سخت اور کڑی نظر رکھیں۔ عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے ارد گرد کڑی نظر رکھیں تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات نہ ہوں۔علاوہ ازیں بھارت اور افغانستان کی سرحدوں پر نگرانی مزید سخت کی جائے۔ بیرون اور اندرون ملک کچھ عناصر پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کو سبو تاژکرنا چاہتے ہیں مگر عوام اور قانون نا فذکرنے والے اداروں کی کو ششوں سے اس قسم کے منفی عزائم کو ناکام کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک پولیس کی مُخبری کا نظام ہے اسکو مزید منظم بنانا چاہئے اور انکے لئے متعلقہ تھانوں کو جو فنڈز پہلے سے جاری کئے گئے ہیں۔ فنڈز جیبوں میں ڈالنے کی بجائے پولیس مُخبری پر صرف کیا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کا تدارک بہتر مُخبری سے کیا جاسکے۔بلکہ پولیس اور خفیہ اداروں کو چاہئے کہ وہ اس مقصد کے لئے مزید مخبروں کو بھرتی کریں۔ ابھی پہلے سے زیادہ محبت اور اخوت کی ضرورت ہے اور کوشش ہونی چاہئے کہ عوام کو یکجا کیا جائے۔ جہاں تک رائو انور اور نقیب اللہ محسود کے کیس کا تعلق ہے تو جے آئی ٹی کے مطابق یہ400 سے زیادہ قتل کے کیسوں میں ملوث ہیں۔

رائو انوار اگر اتنے زیادہ قتل کیسوں میں ملوث تھا اس کو ضمانت پر کس طرح رہا کیا گیا۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے اور میرے خیال میں ہماری سول اور ملٹری افسر شاہی کو رائو انوار کے ضمانت پر رہا کرنے سے بہتر تھا کہ اس کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور اسے قرار واقعی سزادی جائے ۔ ورنہ قبائلی علاقہ جات کے لوگ اور پختون یہ سمجھیں گے کہ انکے ساتھ قصداً عمداً بے انصافی کی جاتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ رائو انوار کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا جائے۔اس سے عام طور پر یہ تا ثر ملتا ہے کہ پختونوں کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اور جو لوگ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں وہ پختونوں کو اُکسا رہے ہیں کہ انکے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں