انتخابات 2018‘ معلق پارلیمنٹ کی پیشگوئی

انتخابات 2018‘ معلق پارلیمنٹ کی پیشگوئی

کی تاریخ میں آج تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں ان میں الیکشن 2018ہر اعتبار سے یادگار رہے گاکیونکہ الیکشن سے تقریباً 2سال قبل ایسا ماحول بن گیا تھا کہ جس سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ابھی الیکشن ہونے والے ہیں،2014کے دھرنوں میں تو ہر کوئی یہی تجزیہ کر رہا تھا لیکن تاریخ میں دوسری بارمنتخب جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی ،اب جبکہ انتخابات سر پر ہیں۔ہر کوئی عقل کے گھوڑے دوڑانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اگلی حکومت کس سیاسی جماعت کی ہوگی۔

25 جولائی 2018کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے ایک تازہ سروے میں معلق پارلیمنٹ کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ نئے جائزے میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دکھایا گیا ہے۔ قطعی اکثریت ان دونوں میں سے کسی کو بھی حاصل نہیں ہوسکے گی۔ جبکہ عوام کی اکثریتی رائے کے مطابق پاکستان درست سمت کی جانب نہیں بڑھ رہا ہے۔ تاہم رائے دہندگان کی اکثریت نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جن کا تناسب 2013میں76 فیصد سے بڑھ کر اب 82 فیصد ہوگیا ہے۔ اس رائے عامہ جائزے کے مطابق مقبولیت میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے آگے ہیں۔ نواز شریف کے نعرے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کو منقسم ردعمل ملا ہے۔ سروے میں 32فیصد نے مسلم لیگ (ن)، 29فیصد نے تحریک انصاف اور13فیصد نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ سروے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپی نیئن ریسرچ نے امریکی فرم گلوبل اسٹریٹجک پارٹنرز کے تعاون سے کرایا ہے۔13جون تا4جولائی اس سروے میں ملک بھر سے3735چنیدہ افراد کی رائے معلوم کی گئی۔ جس میں سے تقریباً 72 فیصد نے جواب دیا۔ انتخابات میں برتری کا پیمانہ 35فیصد رکھا گیا اور کوئی بھی پارٹی اس پیمانے پر پوری نہیں اترتی۔ تاہم تحریک انصاف کی نومبر2017 میں مقبولیت 27فیصد سے بڑھ کر جولائی2018 میں29 فیصد ہوگئی جبکہ مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت اس عرصہ میں37 فیصد سے گھٹ کر32فیصد رہ گئی۔ پیپلز پارٹی کی پوزیشن 13فیصد پر برقرار ہے۔ سروے کے مطابق انفرادی طور پر عوامی مقبولیت میں شہباز شریف ( 60فیصد )سر فہرست ہیں۔ ان کے بعد عمران خان (53فیصد)، نواز شریف (47فیصد) ، شاہد خاقان عباسی(41فیصد)، مریم صفدر (40فیصد) اور بلاول بھٹو زرداری (38فیصد) کے نمبر پر آتے ہیں۔ شہباز شریف اپنے ترقیاتی کاموں سے معروف ہیں تو عمران خان کی مقبولیت تبدیلی کے نعرے اور ایمانداری کی وجہ سے ہے۔ لوگوں کو مسلم لیگ (ن) کے بارے میں تین بڑے ایشوز کے بارے میں سننے یا پڑھنے سے دلچسپی ہے۔ ان میں ترقیاتی کام، پانامااسکینڈل اور کرپشن سے متعلق معاملات شامل ہیں جبکہ تحریک انصاف کے حوالے سے لوگوں کو عمران خان کی بشریٰ بی بی سے شادی، ریحام خان کی آنے والی کتاب اور کرپشن کے خلاف ان کی جنگ کے بارے میں سننے یا پڑھنے میں دلچسپی ہے۔ نواز شریف کے نعرے’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اور اپنی معزولی میں’’خلائی مخلوق‘‘ کے حوالے کو منقسم ردّ ِ عمل ملا ہے۔ عوام کو جن تین بنیادی اور اہم مسائل کا سامنا ہے ان میں بیروزگاری ، لوڈ شیڈنگ اور کرپشن اولین ہیں۔ گو کہ رائے دہندگان نے بڑی حد تک پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ملک کے مستقبل کے حوالے سے جہاں تک عوامی تاثر کا تعلق ہے۔ 35فیصد کی رائے میں اس کی سمت درست ہے جبکہ 64فیصد نے منفی رائے دی۔ سندھ سے 75فیصد ملک کے مستقبل سے مایوس ہیں۔ پنجاب سے 61فیصد، خیبر پختونخوا سے59فیصد اور بلوچستان کے 58فیصد رائے دہندگان ملک کا مستقبل درخشاں نہیں دیکھتے۔ گزشتہ سال نومبر کے سروے کے مقابلے میں مایوسی ایک فیصد بڑھی ہے۔مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر 56فیصد شہباز شریف کے حق میں اور 37فیصد مخالفت میں رہے۔ عمران خان کے حق میں 46فیصد تھے تو مخالفت میں44 فیصد رہے۔ جب پوچھا گیا کون بہتر وزیر اعظم ہوگا؟ تو 47فیصد نے شہباز شریف اور 44فیصد نے عمران خان کو قرار دیا۔ نواز شریف کی جانب سے اپنی معزولی کا الزام ’’خلائی مخلوق‘‘ کو دینے کو39فیصد نے درست قرار دیا اور 53فیصد نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔
یاد رہے بیرون ممالک کے ادارے اپنے مقاصد کے تحت اس طرح کے سروے کراتے رہے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کلی طور پر متفق ہونالازمی نہیںہے،انہی سرویز میں ہی بعض اداروں کے سروے پی ٹی آئی کے حق میں آئے ہیں جبکہ بعض اداروں کے سرویز مسلم لیگ ن کے حق میں۔لیکن تمام موجودہ سرویز میں ایک بات کنفرم ہے کہ دوسال پہلے مسلم لیگ ن کا گراف بہت اوپر تھا ان دوسالوں میں مسلم لیگ ن کا گراف نیچے آیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کا گراف بہت تیزی ساتھ اوپر گیا ہے ،سرویز کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ دونوں سیاسی جماعتوں کی پوزیشن میں چند پوائنٹس کا ہی فرق ہے۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ الیکشن 2018میں اصل مقابلہ انہی دو پارٹیوں کے مابین ہوگا۔
(باقی صفحہ7)

اداریہ