Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

صوفیائے کرامؒ کا بر صغیر پاک و ہند میں اسلام پھیلانے میں بڑا ہاتھ ہے۔ اکابر صوفیا کی مسلم عوام پر بڑی گرفت ہوتی تھی جس کی وجہ سے بسا اوقات بادشاہ وقت بھی ان سے حسد کرنے لگتا تھا۔ چنانچہ حضرت نظام الدین اولیاؒ حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلیؒ وغیرہ کو براہ راست بادشاہ وقت سے ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سلطان علائو الدین کے بعد اس کادوسرا بیٹا قطب الدین مبارک شاہ ولی عہد سلطنت خضر خان کو محروم کرکے غاصبانہ تخت سلطنت پر بیٹھا۔ خضر خان چونکہ حضرت نظام الدین اولیاؒ کا مرید تھا اس لئے قطب الدین حضرت سے بھی ناراض رہتا تھا ۔ اس نے اپنی ایک جامع مسجد ’’جامع میری‘‘ کے نام سے بنوائی تھی اور تمام مشائخ و علما کو حکم تھا کہ اسی میں آکر نماز جمعہ ادا کریں۔ سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاؒ نے کہا بھیجا کہ ہمارے قریب ایک مسجد ہے اس کا حق زیادہ ہے‘ ہم وہیں نماز پڑھیں گے اور وہ ’’ جامع میری‘‘ نہیں گئے۔ بادشاہ سخت برافروختہ ہوا۔

اسی طرح ہر نو چندی کو اعیان اور مشاہیر شہر دربار شاہی میں پیش ہو کر نذر گزارتے تھے۔ سلطان المشائخ اس تقریب میں بھی شریک نہیں ہوتے تھے‘ رسمی طور پر اپنے خادم اقبال کو بھیج دیتے تھے۔ اس سے بھی بادشاہ برہم تھا‘ اس نے اپنے تمام وزرا کو حکم دیا کہ کوئی شیخ کی زیارت کے لئے غیاث پور نہ جائے۔

امیر خسرو نے لکھا ہے کہ بادشاہ نے بار ہا یہ بات کہی جو شخص شیخ کا سر لائے گا اس کو ہزار تنکہ دوں گا۔ ایک روز شیخ ضیاء الدین رزمیؒ کی درگاہ میں سلطان المشائخ اور قطب الدین کا آمنا سامنا بھی ہوگیا۔ سلطان المشائخ نے بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے سلام کیا۔ قطب الدین نے جواب نہ دیا‘ یوں مسلسل واقعات قطب الدین کی حکومت کے چار سالہ دور میں پیش آتے رہے۔ نوچندی کی حاضری پر اصرار کا واقعہ سب سے آخر میں پیش آیا۔ قطب الدین نے بھرے دربار میں اعلان کیا ’’ اگر آئندہ نوچندی پر نہ آئے تو ہم زبردستی لائیں گے اور دیکھ لیں گے‘‘۔ گویا یہ دھمکی تھی‘ بزور حکومت بلوائوں گا‘ شاید قتل ہی کا ارادہ ہو۔ سلطان المشائخ کو بادشاہ کے اس عزم مصمم کی خبر پہنچی‘ انہوں نے کوئی تبصرہ نہیں فرمایا۔قطب الدین یہ فیصلہ کئے ہوئے ہے ’’ اگر نہ آئے تو ہم زبردستی لائیں گے اور دیکھیں گے‘‘۔ دلی میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ رات گزرنے بھی نہ پائی کہ بد نصیب سلطان قطب الدین خسرو خان کے ہاتھوں مارا گیا۔ بقول طباطیائی ’’ اسی شب ماہ میں بادشاہ کی جان پر آفت آسمانی نازل ہوئی‘ خسرو خان نے اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اچانک محل پر حملہ کرکے بادشاہ کی خواب گاہ میں گھس کر اس کے سر کے بال پکڑے‘ دونوں باہم دست و گریباں ہوئے‘ خسرو خان نے سلطان کے پہلو کو خنجر سے چیر کر زمین پر ڈال دیا اور اس شامت زدہ کا سر تن سے جدا کرکے بام ہزار ستون سے نیچے زمین پر پھینک دیا۔

(تاریخ دعوت و عزیمت ‘ ج 3ص86)

متعلقہ خبریں