Daily Mashriq

شہریوں کو یرغمال بنانے والوں کے مطالبات پر غور نہ کیاجائے

شہریوں کو یرغمال بنانے والوں کے مطالبات پر غور نہ کیاجائے

پشاور میں ٹیچرز اور پی ٹی آئی کے ناراض کارکنوں کی جانب سے احتجاج اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے جمعہ کے روز شہر میں ٹریفک جام رہا جس کی وجہ سے ہزاروں شہریوں کو گرمی میں کئی گھنٹے تک سڑکوں پر قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔ایک مظاہرے میں صدر سے گورنر ہائوس تک کا علاقہ نوگو ایریا بنا رہا جبکہ دوسرے مظاہرین نے خیبر روڈ پر صوبائی اسمبلی کے سامنے روڈ مکمل طور پر بلاک کیااورجیل روڈ بھی بند کردی گئی۔نتیجے میں جی ٹی روڈ پر بھی ٹریفک کا اژدہام رہا اور دوپہر کی شدید گرمی میں بچوں،بوڑھوں، خواتین اور مریضوں کو سڑکوں پر آمدورفت میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ہمارے نیوز رپورٹرکے مطابق احتجاج کیلئے سڑکوں کو بند کرنے پر پابندی کے باوجودسرکاری ملازمین اور سیاسی ومذہبی تنظیموں کی جانب سے پشاور میں خیبر روڈ ،جی ٹی روڈ اور ریلوے روڈ کی بندش کو معمول بنادیا گیا ہے اس سلسلے میں گزشتہ ایک سال سے کسی بھی پولیس سٹیشن میں احتجاجیوں کیخلاف کارروائی ہوئی نہ ہی سڑکوں کی بندش کیلئے پیشگی اجازت کے طریقہ کار کی پابندی کرائی جاتی ہے۔ پشاور میں جناح پارک، صوبائی اسمبلی کے سامنے اوور ہیڈ برج اور پریس کلب کے سامنے مقامات کو شہریوں کے احتجاج کیلئے غیر رسمی طور پر مختص کیا گیا تھا لیکن احتجاج کرنیوالے میڈیا کی توجہ کیلئے اس حد کو عبور کرتے ہوئے باقاعدگی کیساتھ سڑکوں کو بند کردیتے ہیں جس سے لمحوں میں پورا شہر جام ہوجاتا ہے سپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق ہفتے میں دو سے زائد مرتبہ پشاور کی گنجان شاہراہیں احتجاج کی وجہ سے لوگوں کیلئے بند ہوتی ہیں اس مقصد کیلئے صوبائی حکومت نے ایک سال قبل خیبر روڈ اور ریلوے روڈ سمیت تمام گنجان سڑکوں کو احتجاج کیلئے بند نہ کرنیکا حکم جاری کیا تھا اور اس کیلئے پولیس کو احتجاج کے دوران سڑکیں بند کرنیوالوں کیخلاف قانونی کارروائی کا ٹاسک بھی دیا گیا تھا اس پابندی کے بعد سے صرف دو مرتبہ کارروائی ہوئی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کی ایف آئی آر کاٹی گئی تھی لیکن مزید کیا کارروائی ہوئی اس کاعلم نہ ہوسکا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح قانون کے مطابق احتجاج کاحق استعمال کیاجاسکتاہے اسی طرح انتظامیہ کو اس احتجاج کو حدود کے اندر رکھنے اور ایسے مقام تک محدود کرنے کا حق حاصل ہے جس سے عوام کی آمد و رفت متاثر نہ ہو۔ یہاں صورتحال ہر دو جانب سے قانون کی خلاف ورزی ' قانون کی عدم پاسداری اور قانونی تقاضوں پر عملدرآمد کو یقینی نہ بنانے کا ہے جس سے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ ٹریفک کے اژدھام کے باعث کئی قسم کے مسائل سامنے آتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آمدہ دنوں میں احتجاج کے مزید امکانات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت انتظامیہ کو قانون پر عملدرآمد اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے واضح احکامات دے ' احتجاج کا ایک طریقہ کار وقت اور جگ کاتعین کیاجائے کسی بھی قسم کے مظاہرے اور احتجاج کی اجازت لی جائے اورانتظامیہ و منتظمین احتجاج و مظاہرہ یہ امر طے کرلیں کہ احتجاج کا دورانیہ کتنا ہوگا۔ سڑکوں پر نکل کر احتجاج توڑ پھوڑ اور ٹائر جلا کر سڑک بند کرکے احتجاج کی تو بالکل ہی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ ایسا منصوبہ رکھنے والوں کو حکومت حفظ ما تقدم کے طورپر روکنے کی حکمت عملی اپنائے اس قسم کے احتجاج کی نوبت کم ہی آتی ہے اور یہ کلچر تقریباً متروک ہونے والا ہے۔ بہرحال اس کے امکانات اور مظاہر سے انکار ممکن نہیں جس کے لئے پیشگی و برموقع اقدامات ہونے چاہئے عوام کو سب سے زیادہ احتجاج اور ٹریفک روکنے کا واسطہ سیاسی جماعتوں' مختلف گروہوں سرکاری ملازمین یا پھر اچانک کسی واقعے کے خلاف احتجاج پر اتر آنے والوں سے پڑتا ہے چونکہ سیاسی جماعتیں اب بڑے پیمانے پر عوام کو سڑکوں پر لانے کے کم ہی قابل رہ گئی ہیں اس لئے ان کے مظاہروں کو ایک جتھے کے احتجاج ہی کے زمرے میں دیکھنا چاہئے۔ محدود پیمانے پر احتجاج صوبائی اسمبلی کے سامنے ایک طرف کی سڑک بند کرکے خیبر روڈ اور جیل روڈ کے ایک طرف کی سڑک اور مفتی محمود پل کے نیچے چوک اور موجود خاصی جگہ پر اس طرح سے با آسانی کرسکنا ممکن ہے کہ احتجاج بھی ریکارڈ ہو عوام کو بھی زیادہ تکلیف کا سامنا نہ ہو اور انتظامیہ کے لئے بھی مسائل کاباعث نہ بنے ۔ قانون کی بھی رعایت ہوسکے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں احتجاج کو کامیاب و موثر بنانے کی کسوٹی یہ ہے کہ کتنی دیر اورکتنی زیادہ سڑکیں بند کرکے اپنے جیسے عام آدمی کو اذیت دی جائے۔ ٹرانسپورٹروں کا کاروبار متاثر کیاجائے' دفتر جانے والوں یا واپس جانے والے تھکے ہارے سرکاری و نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین محنت کشوں اور عام مسافروں کو اذیت سے دوچار کیا جائے شہر کی سڑکوں پر رش بنا کر پورے شہر میں احتجاج کا پیغام پہنچایا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میڈیا کی توجہ حاصل کی جائے۔ مظاہرین سے سختی اور ان پر مقدمات کا اندراج انتظامیہ کے لئے مشکل کام ہے یا انتظامیہ اس قابل نہیں کہ قانون پر عملدرآمد کرواسکے اور پابندی کو توڑنے پر قانون حرکت میں نہ آئے تو پھر ایسے قوانین میں تبدیلی لائی جائے پابندی ہٹائی جائے مظاہرین اگر ضد و انا کی بجائے قانونی دائرہ کار میں رہ کر احتجاج کریں اور مطالبات پیش کریں اور شہریوں کو اذیت نہ دیں تو بھی ان کااحتجاج ریکارڈ ہوگا مطالبات سامنے آئیں گے۔ ہماری تجویز ہوگی کہ صوبائی اسمبلی ایک قانون کی منظوری دے کہ جن مطالبات کو بزور قوت منوانے کی کوشش ہوگی اور عوام کو بلا وجہ مشکلات کا شکار بنایا جائے گا حکومت اور متعلقہ محکمہ ان پر غور کرنے اور سننے کا پابند نہ ہوگا اور نہ ہی خلاف قانون احتجاج کا ادارہ جاتی و محکمہ جاتی نوٹس لیاجائے گا بلکہ الٹا مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں