Daily Mashriq

پٹواریوں اور محکمہ تعلیم کے کلرکوں کی اصلاح

پٹواریوں اور محکمہ تعلیم کے کلرکوں کی اصلاح

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضلع پشاور میں تمام اداروں اور محکموں کوکارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوںنے عوام کی بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ پشاور کو پٹواریوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس عمل میں کسی قسم کا اثر و رسوخ برداشت نہیں کیا جائے، اْن کی حکومت شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اْنہوںنے شعبہ تعلیم میں شفافیت یقینی بنانے اور اْن کی کارکردگی بہتر کرنے کیلئے کلیریکل سٹاف کے تبادلوں سے بھی اْصولی اتفاق کیا ہے ۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی یہ ہدایات اس امر کا اعتراف ہے کہ سرکاری محکموں اور خاص طورپر پٹواریوں اور محکمہ تعلیم کے کلریکل سٹاف سے عوام کی شکایات اور مشکلات ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے خاص طور پر جن دو محکموں اور اس کے عملے کے ایک خاص نوعیت کی ذمہ داری انجام دینے والے ملازمین کا تذکرہ کیاگیا ہے ان کا قبلہ سیدھا کرنا بہت پیچیدہ اور مشکل کام ہے۔ محکمہ مال کا سارا ڈھانچہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر کمشنر تک کے دفاتر کو پالنے کی ذمہ داری چونکہ پٹواری ہی نبھاتے ہیں اس لئے ان کا سب سے با اثر اور بد عنوان ہونا بھی فطری امر ہے۔ سابق دور حکومت میں بھی پٹواریوں کا قبلہ سیدھا کرنے کے بڑے جتن کئے گئے مگر ناکامی ہوئی۔ پٹواریوں کاایک گروہ تو منافع بخش علاقوں میں یکے بعد دیگرے قابض رہتاہے اور ان کا تبادلہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ وزیر اعلیٰ اگر ان کی اصلاح کے خواہاں ہیں تو کسی بھی پٹواری کو اس کا مطلوبہ حلقہ نہ دیا جائے۔ پٹواریوں کا میرٹ پر تبادلہ کیا جائے خاص طورپر برسوں سے ایک دائرے میں گھومنے والے پٹواریوں کاڈاکٹروں کی طرح دور درازتبادلہ کیا جائے۔ محکمہ تعلیم کلرک سٹاف بھی پٹواریوں سے مختلف نہیں۔ اس شعبے کے بعض عناصر تو اپنے عہدوں کا غیر اخلاقی فائدہ اٹھانے کے لئے بھی مشہور ہیں۔ اساتذہ کے تبادلوں کو ایک خاص نظام اور آن لائن کرنے کے بعدشاید ان کی اہمیت میں کمی آئی ہو ورنہ یہ طبقہ بھی کم استحصالی نہ تھا۔ وزیر اعلیٰ نے جن اقدامات اور اصلاحات کی ہدایت کی ہے ان پر عملدرآمد کاوقتاً فوقتاً جائز ہ بھی لیا کریں تاکہ زیادہ نہیں تو کچھ نہ کچھ اصلاح اور بہتری ممکن ہوسکے۔

ممبران اسمبلی کے ساتھ بیورو کریسی کا معاندانہ رویہ

خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کی جانب سے بروقت و صحیح جواب نہ دینے پر بیورو کریسی کو ہدف تنقید بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔حزب اختلاف کو بیورو کریسی کی جانب سے اسمبلی میں سوالات کا بروقت اور مکمل جواب نہ دینے کی ہمیشہ سے شکایت رہتی ہے جبکہ حکومت سرکاری افسران کی ایوان میں غیر حاضری سے تنگ آچکی ہے ۔ بیورو کریسی کی جانب سے اس قسم کارویہ ناقابل برداشت ہوتاجارہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اراکین اسمبلی کی بھی بیورو کریسی سے شکایات بڑھتی جارہی ہیں۔سرکاری تقریب میں تعارف کے باوجود مہمانوں کیلئے رکھے گئے صوفہ سے اٹھانے اور بار بار فون کال کرنے کے باوجود جواب نہ دینے پر دوارکان اسمبلی کے خلاف تحاریک استحقاق منتخب اراکین اسمبلی کی بے بسی اور بیورو کریسی کی دیدہ دلیری اور من مانی کا مظہر ہیں ان شکایات کا تحریک استحقاق کی کارروائی کے ساتھ وزیر اعلیٰ کو سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔سرکاری افسران کی من مانیاں اور لوگوں کے سامنے ممبر صوبائی اسمبلی کو بے توقیر کرنا اور خاتون رکن اسمبلی کا فون اٹھانے سے احتراز ناقابل برداشت رویہ ہیں لیکن بہر حال چونکہ یہ تصویر کا ایک رخ ہیں اس لئے تصویر کا دوسرا رخ ان واقعات کی تحقیقات کے بعد ہی سامنے آنا ممکن ہے۔ تحقیقات میں صفائی پیش کرنے میں ناکامی اور شکایات کے حقیقی ثابت ہونے پر متعلقہ افسران کو ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی ایسی جرأت نہ کرسکے۔ ممبران اسمبلی کو بھی اپنے کردار و عمل اور ان وجوہات پر ایک مرتبہ پھر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ان کی جانب سے کوئی نامناسب اور ناقابل قبول رویہ تو اختیار نہیں کیاگیا تھا۔بیورو کریسی کے نا مناسب روئیے کاجب تک سختی سے نوٹس نہیں لیا جائے گااور ان کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں ہوگی اس روئیے میں تبدیلی اور شکایات کا ازالہ شاید ہی ممکن ہو۔ بہتر ہوگا کہ بیورو کریسی مناسب رویہ اپنائے اور حکومتی معاملات کو خوش اسلوبی سے چلانے میں ممد و معاون ہو ۔

متعلقہ خبریں