Daily Mashriq

وزیر اعظم کا دورہ امریکا

وزیر اعظم کا دورہ امریکا

توقع کے مطا بق وزیر اعظم پاکستان 25جو لائی کو امریکا کی یا ترا کریں گے ان کے اس دورے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ امریکا میں غیر ملکی سربراہو ں کے دوروں کے جو درجا ت مقر ر ہیں اس میں عمر ان خان کا متوقع دورہ تیسرے درجے کا ہے ۔ پا کستان کے صرف دو ہی حکمر ان ہیں جنہو ں نے اب تک پہلے درجے کے امریکی دورے کیے ہیں ان میں سابق صدر ایوب خان نے دو مرتبہ ا سٹیٹ وزٹ کیا ان کے بعد مر حوم جنر ل ضیا ء الحق نے چھ سے نو دسمبر 1982کو کیا تھا ۔ اسٹیٹ وزٹ جو درجہ اول کا دورہ کہلا تا ہے اس میں امریکی اسٹیٹ کی جا نب سے ریاست کے سربراہوں ، بادشاہو ں وغیر ہ کو مد عو کیا جاتا ہے اور ان کے قیا م کا بندوبست وائٹ ہا ؤ س سے چند گز کے فاصلے پر قائم بلیئر ہا ؤس میںچار دن اور تین رات کا ہو تا ہے اس مو قع پر مہما ن کو امریکی صدر کی جانب سے عشائیہ کا اہتما م کیا جا تا ہے جس میں وائٹ ہاؤس آمد پر مہمان گرامی کی آمد اور رخصتی پر گارڈآف آنر اکیس تو پو ں کی سلا می کے ساتھ پیش کیا جا تا ہے ، عشائیہ کی تقریب میں دونو ں ممالک کے سربراہو ں کی بیگمات بھی شریک ہو تی ہیں اور اس موقع پر تحائف کا تبادلہ بھی کیا جا تا ہے تقریب کی ویڈیو ز اور فوٹوگرافی کی بھی خوب اجا زت ہو تی ہے ۔ اس کے بعد دوسرے درجے کے دورے کو آفیشل وزٹ کہا جا تا ہے ، یہ بھی امریکی صد ر کی دعوت پر ہوتا ہے ، آفیشل وزٹ بھی اسٹیٹ وزٹ کے ہم پلہ ہوتا ہے صرف اس میں فرق یہ ہو تا ہے مہما ن کو اکیس توپوں کی بجا ئے 19 کی سلا می دی جا تی ہے ، باقی لو ازما ت پہلے درجے کے ہی ہو تے ہیں تیسرے درجے کا دورہ آفیشل ورکنگ وزٹ کہلا تا ہے یہ بھی امریکی صدر کی دعوت پر ریا ست یا حکومت کا سربراہ کرتا ہے اس میں فرق یہ ہے کہ چار دن کی بجائے تین دن بلیئر ہا ؤس میںبسر کرتا ہے علا وہ ازیں یہ بھی ضروری نہیںہے کہ بلیئر ہا ؤس میںمہما ن کو قیا م فراہم کیا جا ئے ، اس درجے کے دورے میں مہما ن صدر امریکا سے ملا قات کر تے ہیں لیکن مہما ن کے لیے عشائیہ لا زمی نہیں ہوتا ، تاہم امریکی صدر سے ملا قات کے بعد صدرامریکا کی جانب سے غیر ملکی مہما ن کو ظہرانہ دیا جا تا ہے جس میں وزیر خارجہ امر یکا شرکت کر تا ہے ۔ البتہ غیر ملکی مہمان کی وائٹ ہا ؤس آمد اور روانگی پرکو ئی اعزازی تقریب منعقد نہیں کی جا تی اور نہ ہی توپو ں کی سلا می پیش کی جا تی ہے بس سادہ سی تقریب منعقد کی جا تی ہے تحفے تحائف بھی نہیں لیے دئیے جا تے ۔ ان تین درجا ت کے غیر ملکی مہما نو ں کے دوروں کے علا وہ باقی دوروں میںجو کم تر سمجھے جاتے ہیں ان میں ورکنگ وزٹ چوتھے درجے میں ہے اور پانچویں درجے میں پرائیو یٹ وزٹ ہے ۔ تاہم ان دوروں کے مو قع پر مہما ن امریکی صدر سے ملاقات کی درخواست یا خواہش کر سکتا ہے اگر ملا قات کا اہتما م ہو جائے تو اس ملا قات کو ورکنگ سیشن کہا جا تا ہے ، جیسا کہ محولہ بالا ذکر کیا گیا ہے کہ پا کستان کے دو حکمر انو ں سابق صدور مر حوم ایو ب خان اور جنرل ضیا ء الحق نے پہلے درجے کے اسٹیٹ وزٹ کیے ہیں ، پاکستان کے جمہو ری حکمر انوں میںسب سے زیادہ ملاقات نو از شریف کی ہوئی وہ چھ مر تبہ امریکی صدر سے اپنے مختلف ادوار میں مل چکے ہیں انہو ں نے تین مر تبہ آفیشل ورکنگ دورہ کیا ایک مرتبہ ورکنگ دورہ کیا تاہم وہ آفیشل وزٹ پر امریکا نہیں گئے ان کا ایک پرائیوٹ دورہ بھی جب وہ 4جولائی 1999کو پر ویز مشرف کی کا رگل کارکر دگی پر صدر بل کلنٹن سے تنا زع پر بات چیت کے لیے گئے تھے ۔ پاکستان کے سربراہ حکومت کی جا نب سے امریکا کا آخری دورہ نو از شریف کی طر ف سے کیا گیا تھا جو 2015 میں کیا گیا تھا اب 25جو لائی کو وزیر اعظم عمر ان خان جا رہے ہیں۔قبل ازیں ان کے دورہ امر یکا کے بارے میں امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ کہہ کر شش وپنج میں مبتلاء کر دیا تھا کہ وائٹ ہاؤ س کی جانب سے دفتر خارجہ کو اس بارے میں کوئی مطلع نہیں کیا گیا ہے دراصل پی ٹی آئی کا میڈیا سیل اپنے لیڈر اورپا رٹی کی مقبولیت کو بڑھا نے میں ایک دم حد سے گزر جا تا ہے جس کی وجہ کچھ لطائف بھی جنم لیتے ہیں اور کچھ تفنن طبع کے مزے بھی پیدا کر دیئے جا تے ہیں مثلا ًیہ اطلاع فراہم کردی گئی کہ وزیر اعظم ایسٹرن اکنا مک ورکنگ گروپ کے اجلا س میں شرکت کریں گے جہا ں ان کی ملا قات روسی صدر پیوٹن سے ہو گی ، ماسکو سے وزیر اعظم کو مدعو کر نے کی تردید آگئی اسی طر ح امریکا کے دورے کا حتمی پروگرام طے ہونے سے پہلے ہی امریکی دورے کی خبریں چلا دیں بہر حال اب ابہا م دور ہو گیا ہے ، توقع کی جارہی ہے کہ امریکی صدر سے ملا قات میں وزیر اعظم پاکستان پاک امریکا تعلقات تعاون میں مضبوطی قائم کر نے کے معاملا ت پر بات چیت نتیجہ خیز رہے گی ، ترجما ن وائٹ ہا ؤ س کی جانب سے اس دورے کے بارے میںکہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمر ان خان کے ما بین انسداد دہشتگردی ، دفاع ،تجا رت ، توانائی وغیر ہ سے متعلق امور پر بات چیت کی جا ئے گی کیو ں کہ امریکا جنو بی ایشیا میں امن کے لیے دیر پا شراکت داری کا ماحول پید اکر نا چاہتا ہے ، پا کستان کے دفتر خارجہ کی جا نب سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے دورہ امریکا کے نتیجے میں دونو ں ممالک کے دیر ینہ تعلقات کو مضبوطی اوردوام ملے گا ۔ بہر حال پی ٹی آئی کی میڈیا ٹیم کو چاہیے کہ دورے کے بارے میں پبلیسٹی اس حد تک رہنے دے جس حد تک ہے کیو ں کہ اس ٹیم کی جا نب سے یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعظم امریکی ایو ان نمائندگان سے بھی خطاب کریں گے جس کے بارے میں امریکا کی جانب سے ابھی تک سرکا ری طور پر کوئی اطلا ع نہیں ہے ویسے بھی جب کبھی عمر ان خان بیر ون ملک دورے پرجاتے ہیں تو پروٹوکول کے حوالے سے کوئی نہ کوئی گل کھل ہی جاتا ہے مثلا ً رواں برس بیجنگ میں سیکنڈ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت کے مو قع پر مختلف سربراہا ن مملکت جب ایک ایک کر کے ہال میں داخل ہوئے(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں