Daily Mashriq

شیشے کی عدالت ہے' پتھر کی گواہی ہے

شیشے کی عدالت ہے' پتھر کی گواہی ہے

پشتو زبان کی ایک کہاوت ہے کہ جو بلا عادی ہو جائے اور لوگوں کوتنگ کرے تو اسے صرف بسم اللہ پڑھ کر آپ دفع نہیں کرسکتے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال ہمارے ہاں ناجائز منافع خوروں کی بھی ہے۔ ابھی اس معاہدے کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی جو پشاورکے ڈپٹی کمشنر اور نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے مابین طے پایا ہے اورجس کے تحت 190گرام روٹی کی قیمت 15روپے مقرر کرکے نہ صرف عوام کی چمڑی ادھیڑنے کی ایک ایسی بنیاد فراہم کردی گئی ہے جو آگے جا کر ایک سیریز ڈرامے کی شکل میں ڈھلنے والی ہے کہ صرف ایک وقت وزن کا الزام کرنے کے بعد بتدریج روٹی کا وزن کم کرنے کی واردات کا آغاز کردیاگیا یعنی صبح جب ہڑتال کے بعد لوگ ناشتے کے لئے روٹیاں لینے گئے تو وزن پورا تھا مگر پھر دوپہر اور رات کے اوقات میں وہ سلسلہ پھر موقوف ہوگیا اور جو روٹیاں 190گرام کی ہونی چاہئیں تھیں ویسی نہیں یعنی کہیں 180گرام اور کہیں 170گرام وزن والی روٹیاں عوام کو فروخت ہونا شروع ہوچکی ہیں۔ اس پر ایک واقعہ یاد آگیا ہے جو کابل میں سابق اور مرحوم شاہ ظاہر شاہ کا تختہ الٹنے کے بعد کا ہے۔ معلوم نہیں کہاں تک درست ہے اورکس حد تک غلط مگر انہی دنوں اس قسم کے قصے اکثر سننے کو مل جایا کرتے تھے۔ سردار دائود نے صدر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا تو کابل میں اسی طرز کی بدعنوانیاں عروج پر تھیں۔ فیس بک پر ایک کہانی تو ایک کوچوان کے حوالے سے اکثر لوگ ٹیگ کرلیتے ہیں جس میں مقررہ کرایہ سے زیادہ وصول کرنے کے حوالے سے سردار دائود اور کوچوان کے مابین ہونے والے ڈائیلاگ بڑے دلچسپ ہیں۔ اسی طرح نانبائیوں کے بارے میں سردار دائود کو پتہ چلا کہ وہ کم وزن روٹی فروخت کرتے ہیں۔ ایک روز اچانک سردار دائود نے شہر کارخ کیا یعنی بغیر کسی پروٹوکول کے اور ایک نانبائی سے روٹی کے وزن کے حوالے سے تکرار کی۔ جب دیکھا کہ کم وزن روٹی فروخت کی جا رہی ہے اور اوپر سے ڈھٹائی کا مظاہرہ بھی کر رہا ہے تو جس طرح سنا ہے اسی کے مطابق نانبائی کا حشر کچھ اچھا نہیں ہوا۔ کہتے ہیں اسی تندور میں روٹیوں کے ساتھ…خیر رہنے دیں۔ وہ تو ایک مطلق العنان صدر تھے' کچھ بھی کرسکتے تھے۔ الحمدللہ ہم تو جمہوریت میں زندہ ہیں جہاں گروہی مفادات کا بول بالا ہے اور جو گروہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے اس سے دب کر سرکار اسی کے مفادات کے مطابق ہوا کا رخ پھیر دیتی ہے۔ یعنی وہ جو کہتے ہیں کہ دبکے کو دبائو' نہ دبے تو خود دب جائو۔ تو سرکار والا تبار پہلے آنکھیں دکھاتی ہے مگر دوسرے کی زیادہ سرخ اور چنگاریاں برسانے والی آنکھوں سے شعلے ابلتے دیکھتی ہے تو آنکھیں دائیں یا بائیں پھیر لیتی ہے جہاں اسے صرف بے چارے عوام ہی نظر آتے ہیں اور سارا زور ان پر ہی پڑ جاتا ہے۔ بہر حال ہم یہ تو نہیں کہتے کہ پشاور کے نانبائیوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کیاجائے جو سردار دائود نے کیا تھا کیونکہ عدالتیں فعال بھی ہیں اور آزاد بھی۔ انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آرہا ہے' الحمدللہ' حالانکہ ہمارے ہاں بھی سردار دائود کے دور والے حالات ہوتے تو پھر بھی کہا جاسکتا تھا کہ

محسوس یہ ہوتا ہے یہ دور تباہی ہے

شیشے کی عدالت ہے' پتھر کی گواہی ہے

البتہ صورتحال اب یہ ہے کہ یہ جو اچانک ڈپٹی کمشنر نے نانبائیوں کے آگے سر تسلیم خم ہے مزاج یار میں آئے'' والی قوالی گانا شروع کردی ہے تو ایک تو یہ عوام کے حلق سے نہیں اتر رہی یعنی وہ ڈپٹی کمشنر کے تان سے تان ملا کر شامل باجہ کے طرز پر اہے وا' اہے وا کے الفاظ ادا کرکے تالیاں پیٹنے کو تیار نہیں ہو رہے ہیں' اوپر سے پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ انڈسٹریز یعنی چھوٹے تاجروں کی تنظیم نے اس فیصلے کو مسترد کرکے '' رنگ میں بھنگ'' ڈال دی ہے۔ تنظیم کے صدر حاجی شاکر صدیقی نے ایک اجلاس کے دوران جو اسی مقصد کے لئے بلایاگیا تھا اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرائس ریویو کمیٹی کے اجلاس کے بغیر روٹی کی قیمت میں اضافہ کی تحقیقات کی جائیں۔ نئے نرخوں کے تعین میں عجلت کا مظاہرہ کیاگیا ہے۔ موصوف نے دعویٰ کیا کہ ہڑتال سے پہلے نانبائیوں نے ضلعی انتظامیہ سے روٹی کا نرخ 12روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیاتھا مگر خدا جانے وہ کونسے عوامل تھے جن پر الٹی قلا بازی کھاتے اور چند افراد کی خوشنودی کے لئے قیمت میں اتنا اضافہ کیاگیا جبکہ گزشتہ بار جب روٹی کی قیمت بڑھائی گئی تھی تو ایک فارمولہ طے کیاگیا تھا جس پر آئندہ بھی عمل درآمد ہونا تھا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اس لئے چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف جنہوں نے عوام پر بوجھ ڈالا ٹھوس بنیادوں پر انکوائری کی جائے۔ گویا اگر عوام یہ کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ

لہو لہان تھا میں اور عدل کی میزان

جھکی تھی جانب قاتل کہ راج اس کاتھا

اصولی طور پر دیکھا جائے تو اعتراضات غلط بھی نہیں ہیں اس لئے کہ ایف بی آرکے چیئر مین نے واضح کردیا ہے کہ آٹے اور میدہ پر جی ایس ٹی نہیں بڑھایاگیا ۔ گیس حکام کہتے ہیں کہ تندوروں کے لئے گیس کے نرخ میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیا۔ البتہ دیگر عوامل کی وجہ سے عام مارکیٹ میں آٹے کی بوری میں جس قدر (لوکل حالات میں ) اضافہ ہوا ہے اس کے نتیجے میں روٹی کی قیمت میں 50فیصد اضافے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ چھوٹے تاجروں کی تنظیم کے مطابق جب نانبائی خود دس روپے سے بارہ روپے پر راضی تھے تو پرائس ریویو کمیٹی کو بائی پاس کرکے روٹی 15روپے کیوں مقرر کی گئی اور معاہدے کے تحت روٹی کا وزن 190گرام کرنے کے بعد صرف ایک ہی وقت کے بعد پرانا وتیرہ اختیار کرتے ہوئے (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں