Daily Mashriq

مشکل فیصلوں کے اثرات

مشکل فیصلوں کے اثرات

معاشی و سیاسی استحکام لازم ملزوم ہیں، معاشی استحکام ہی دراصل سیاسی استحکام کی ضمانت ہے۔ کیا حکومت و اپوزیشن سیاسی استحکام کیلئے کوشاں دکھائی دیتی ہیں؟اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ اپوزیشن نئی صف بندی میں مصروفِ عمل ہے، اور قومی سیاست بھی ارتقائی عمل کے تحت نئے سیاسی منظرنامے میں داخل ہورہی ہے۔ تحریک انصاف کے لیے اصل چیلنج قومی سیاست کا اگلا مرحلہ ہے جس طرح کا بجٹ اور معاشی پالیسی تحریک انصاف نے دی ہے، کوئی معجزہ ہی اسے ایک سیاسی جماعت کے طور پر قائم رکھ سکتا ہے۔جبکہ حکومت اسی بات میں خوش ہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دے دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں ایک ارب ڈالر کی رقم آئی ایم ایف سے مل جائے گی، اور سالانہ 2 ارب ڈالر ہر سال آئی ایم ایف کی جانب سے ملیں گے۔ اس پیکیج کی نئی شرائط بھی سامنے آگئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ڈالر آزاد ہوگا، بجلی، گیس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت نہیں ہوگی۔ ٹیکس آمدن میں اضافہ، گردشی قرضوں کا خاتمہ، واجبات کی وصولی یقینی بنائی جائے گی۔ یہ تمام شرائط ایسی ہیں کہ ان پر عمل درآمد سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور ملک میں مہنگائی بڑھے گی۔ آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈ کو پاکستان کے بجٹ کی منظوری کا انتظار تھا، اسی لیے بورڈ کے اجلاس کی تاریخ ایسی رکھی گئی تھی جب بجٹ منظور ہوچکا ہو۔ اس قرض کی ساری سختیاں بالآخر عوام ہی کو بھگتنی ہیں، جن کا آغاز بجٹ کے ساتھ ہی ہوچکا ہے۔ بجٹ، تقریر سے سمجھ میں نہیں آتا۔ بجٹ کا علم تو ہر صارف کو بازار جاکر ہوتا ہے۔ ڈالر کے ریٹ اوپر نیچے ہونے سے اشیائے ضروریہ تک کے ریٹ روزانہ بدل رہے ہیں۔ اس بجٹ میں بہت کچھ مخفی ہے جس کا ادراک آہستہ آہستہ ہوجائے گا۔ ماہرینِ معیشت کہتے ہیں کہ عوام کو چھ ماہ یا ایک سال نہیں، کم از کم تین سال تک شدید مشکلات بھگتنا ہوں گی۔ بجٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے ذریعے عام آدمی کو ہمیشہ دھوکے ہی ملے ہیں، لیکن عوام کی خیر خواہی کی دعویدار اپوزیشن جماعتوں نے بھی بجٹ کی منظوری کے لیے حکومت اور آئی ایم ایف دونوں کو محفوظ راستہ دیا ہے۔ بجٹ میں بہت سی شرائط آئی ایم ایف کے کہنے پر رکھی گئی ہیں۔ ٹیکس ریونیو کا ہدف بھی ان میں سے ایک ہے، ورنہ پچھلے سال کی نسبت ٹیکس ریونیو40 فیصد بڑھا دینا کوئی حکیمانہ سوچ نہیں، لیکن5555 ارب روپے کا ہدف رکھ دیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ شرائط نہ مانی جاتیں تو قرض کی منظوری مزید دو چار مہینے آگے چلی جاتی،یا سرے سے ہی انکار ہوجاتا۔ بجلی، گیس اور دوسری یوٹیلٹی سروسز کے نرخ بھی آئی ایم ایف کے حکم پر ہی بڑھائے گئے ہیں۔ حکومت کی معاشی ٹیم آئی ایم ایف سے قرض ملنے پر بہت خوش ہے کہ یہ 3 فیصد سے کم شرح سود پر 10سال کے لیے آسان شرائط پر ملا ہے، لیکن اس عالمی ادارے کے ساتھ جو کچھ بھی طے پایا ہے وہ جلد ہی سامنے آجائے گا۔

آئی ایم ایف کے بعد حکومت اب دوسرا بڑا قدم نجکاری کا جامع پروگرام لاکر اٹھائے گی۔ اداروں کی نجکاری سے متعلق پروگرام حکومت کو ہر قیمت پر ستمبر 2019ء تک مرتب کرنا ہے۔ آئی ایم ایف کی نجکاری کے حوالے سے کوئی اضافی شرائط نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف سے اس قرض کے حصول کی کوششیں سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے شروع کی تھیں، انہیں بعض شرائط پر تحفظات تھے جنہیں وہ نرم کرانا چاہتے تھے۔ اس کوشش میں ان کی وزارت ہی چلی گئی، تحریک انصاف کے ساتھ ان کی طویل سیاسی وابستگی بھی ان کے کام نہ آئی، اور وزارت خزانہ حفیظ شیخ کے سپرد کردی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اسدعمر اسٹیل ملز کی نجکاری نہیں چاہتے تھے، لیکن اب اسٹیل ملز کا مستقبل کیا ہے؟ کسی کو علم نہیں۔ یہ رائے دی گئی ہے کہ مسلسل خسارہ حکومت کے لیے ناقابل برداشت ہوچکا ہے، اور اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کیا گیا تو یہ اس ٹیکس ریونیو کا ایک بڑا حصہ کھا جائے گی۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ کہتے ہیں کہ مشکل فیصلے کریں گے۔ معلوم نہیں ان مشکل فیصلوں کی نوعیت کیا ہے؟ لیکن ان فیصلوں سے ملکی معیشت کا بھٹہ نہیں بیٹھنا چاہیے کہ رہے سہے کاروبار بھی بند ہوجائیں۔ ''مشکل فیصلے'' دراصل ایک مبہم اصطلاح ہے جس کے پردے میں بہت کچھ چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس وقت بجٹ کے خلاف صنعت کاروں اور تاجروں نے ہڑتالیں شروع کررکھی ہیں، جس کے ردعمل میں قومی اسمبلی سے پاس شدہ فنانس بل میں اب صدر مملکت کے دستخطوں کے بعد ایف بی آر تبدیلیاں کررہا ہے، جس کا اسے کوئی اختیار نہیں۔ نئی تجاویز یہ ہیں کہ کسی بھی بینک کھاتے میں پڑے ہوئے پانچ لاکھ روپے کے بارے میں اب کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی، برآمد کنندگان کو سہولت دی جائے گی، خام مال کی درآمد کے لیے بھی نیا نظام متعارف کروایا جائے گا، پہلے مرحلے میں انڈسٹریل کنزیومر کی نشاندہی کرکے نوٹس دیا جائے گا،3 لاکھ سے زائد کنزیومر کو نان فائلرز ہونے پر نوٹس دیا جائے گا۔ پراپرٹی سے متعلق سندھ اور پنجاب کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا گیا ہے۔ ایک کنال سے زائد جس کے پاس گھر ہے اسے ٹیکس دینا ہوگا۔ اسی طرح اب انڈسٹریل، ڈومیسٹک، رئیل اسٹیٹ سیکٹرز کو نوٹس بھجوائے جائیں گے۔ یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے ایک سوچی سمجھی معاشی حکمت عملی کے مطابق ہی ہورہا ہے۔(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں