Daily Mashriq


آرمی چیف کا دورہ افغانستان

آرمی چیف کا دورہ افغانستان

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وفد کے ہمراہ گزشتہ روز افغانستان کا جو دورہ کیا اسے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے میں خاصی اہمیت دی جارہی ہے ، اپنے دور ے کے دوران آرمی چیف نے نہ صرف افغانستان کے صدر اشرف غنی سے اہم معاملات پر گفت وشنید کی بلکہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ ، دیگر اہم افغان حکام کے علاوہ افغانستان میں مقیم اتحادی فوجوں کے کمانڈر جنرل نکلسن نے بھی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجودہ کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور ، افغانستان میں دیر پا امن کے قیام ، سرحد پر لگائی جانے والی باڑ ، دہشت گردی کے خاتمے بالخصوص داعش پر کڑی نگاہ رکھنے اور منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ۔ ملاقات کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان انتظامیہ پرواضح کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ عوام کیلئے نہیں بلکہ دہشتگردوں کیلئے بڑی رکاوٹ ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے مطابق مذاکرات میں متعدد حالات بشمول افغانستان میں امن مذاکرات کیلئے کی جانے والی کو ششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ داعش کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو جانچنے کیلئے اقدامات اور دہشت گردوں کی جانب سے مشکل سرحدی علاقے کو دہشتگردی کیلئے استعمال کئے جانے والے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے آرمی چیف کی کابل آمد اور امن واستحکام کیلئے حال ہی میں اٹھائے گئے اقدامات پر ان کا شکریہ ادا کیا ، اور خطے میں ترقی ، عارضی جنگ بندی میں توسیع اور امن مذاکرات کے حوالے سے اپنا وژن بھی آرمی چیف کے ساتھ شیئر کیا ، امریکی جنرل جان نکلسن سے گفتگو میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کی اس خواہش کا اظہار کیا کہ امریکی اور نیٹو فورسز کا میاب ہوں اور پر امن و مستحکم افغانستان چھوڑ کر جائیں ۔ موجودہ حالات کے تناظر میں جبکہ افغانستان کے بیشتر علاقوں میںایک جانب طالبان ایک موثر قوت کے طور پر ابھر رہے ہیں اور دوسری جانب داعش کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے افغانستان میں امن کی ضرورت پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر رہی ہے ، کیونکہ افغانستان میں امن اور استحکام سے ہی خطے میں امن کی خواہش پوری ہو سکتی ہے ، جبکہ پاکستان شروع ہی سے اس نظریئے پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ پاکستان میں امن کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے ، اگر چہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ملحقہ اپنے سرحدی علاقوں میں امن کے قیام کو مسلح افواج کی قربانیوں کے طفیل بڑی حد تک ممکن بنایا ہے جس کے نتیجے میں پاک افواج کے افسروں اور جوانوں کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا ہے ، تاہم افغان سرزمین پر موجود شرپسند وں کی موجودگی نے امن کے مستقل قیام کیلئے کئی چیلنجز پیدا کئے ہیں اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاک افواج دونوں ملکوں کی سرحدات پر باڑلگانے میں مصروف ہیں جو کسی بھی طور شرپسندوں کیلئے قابل قبول نہیں ہے اور وہ اکثراس اقدام کے آگے بند باندھنے کیلئے اب بھی حملے کرتے رہتے ہیں ۔ جبکہ بد قسمتی سے افغان حکام باڑ کی تنصیب کو دونوں ملکوں کے درمیان سفر کرنے والے عوام کے مفادات پر اس اقدام کو منفی انداز میں دیکھ رہے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف نے اپنے گزشتہ روز کے دورہ کابل کے دوران یہ بات صاف کردی ہے اور کہا ہے کہ باڑ لگانے سے پرامن طور پر سرحد پار سفر کرنے والوں پر کوئی قد غن لگانا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد دہشت گردوں اور امن دشمنوں کی معاندانہ سرگرمیوں کو روکنا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جن علاقوں میں باڑ کی تنصیب مکمل ہوچکی ہے وہاں سے دہشت گردوں کی آمد کا سلسلہ بہت حد تک بند ہوچکا ہے ، تاہم یہ دہشت گرد اب بھی افغانستان کے دشوار گزار مقامات پر پناہ لئے ہوئے ہیں اور موقع پا کر حملہ کرنے سے نہیں چوکتے ، اس لئے افغانستان کو ان دہشتگردوں کے خلاف اقدام اٹھانا ہوں گے کیونکہ ان کی بیخ کنی کے بغیر خطے میں مستقل امن کا قیام ممکن نہیں ہے ، اس حوالے سے افغانستان میں مقیم نیٹو افواج کو بھی یہ بات سمجھنا ہوگی کہ جب تک وہ تعاون نہیں کریں گے اور دشوار گزار سرحدی علاقوں میں چھپے ہوئے ان دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کیلئے اقدام نہیں کریں گے تب تک افغانستان میں امن واستحکام کا قیام عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ دوسری اہم بات طالبان کے ساتھ مستقل امن کے لئے مذاکرات بھی اہمیت کے حامل ہیں ، اگرچہ موجودہ وقت میں پہلی بار عید کے موقع پر کابل انتظایہ کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کا طالبان نے مثبت جواب دیا ہے تاہم اس صورتحال کو مستقل امن کیلئے ابتدائی اقدام گرادنتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے بہتری نتائج کے حصول میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ جبکہ پاکستان کی جانب سے امن کی خواہش کو بھی اہمیت دیکر ہی افغان حکام دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں بہترپیدا کر سکتے ہیں ۔ اور دونوں ملکوںکے مابین دوستانہ مراسم سے ہی خطے میں دیر پا امن ممکن ہے ۔

متعلقہ خبریں