Daily Mashriq


نگران حکومت کا درست موقف اور سیاسی قائدین

نگران حکومت کا درست موقف اور سیاسی قائدین

ملک میں عام انتخابات کے ہنگام اس وقت مد مقابل سیاسی جماعتوں کے بعض قائدین جس طرح ایک دوسرے پر الزامات عائد کرکے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں اور بعض سیاسی قائدین رخصت ہونے والی وفاقی اور صوبوں کی حکومتوں پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے نگران حکومت کو اس کھیل میں ملوث کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ان کا مسکت جواب دیتے ہوئے نگران حکومت کے وزراء نے ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد اور الیکشن کمیشن کی ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرادی ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر اطلاعات اور نگران وفاقی وزیر خزانہ نے بعض اہم معاملات پر لب کشائی کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ ہمارا مینڈیٹ واضح ہے کہ ہم الزام تراشی کاکھیل نہیں کھیلیں گے۔ جو حقائق ہیں وہ سب کے سامنے پیش کریں گے اور آئندہ حکومت کے لئے گائیڈ لائن بھی دیں گے۔ لیکن ملکی سلامتی پرکسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ نگران وفاقی وزیر برائے اطلاعات و پاور ڈویژن بیرسٹر علی ظفر نے واضح کیا کہ ڈیموں میں پانی کی کمی کی وجہ سے ہائیڈرو پاور سے تین ہزار میگا واٹ پیدا ہو رہی ہے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹرانسمیشن لائنز کو اپ گریڈ نہ کرنے کی وجہ سے جتنی بجلی پیدا کی جا رہی ہے اس کی ترسیل ممکن نہیں ہے جبکہ پاکستان میں 28 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس موقع پر نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی پروگرام زیر غور نہیں ہے تاہم معیشت کی بہتری کے حوالے سے ضرورت کے مطابق مقامی یا بین الاقوامی سطح پر تکنیکی مشاورت کے لئے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عالمی مارکیٹ میں اضافے کے باعث کیاگیا۔ ملکی معیشت کے بڑے شعبوں میں گروتھ ہوئی ہے تاہم کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ اور قرضوں میں اضافے جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ نگران وفاقی وزراء نے سابق حکومتوں کے حوالے سے کسی بھی بلیم گیم میں ملو ث ہونے کی جو بات کی ہے وہ ایک مثبت انداز فکر ہے اور بالکل درست طرز عمل ہے کیونکہ انہیں کسی بھی حوالے سے سابق حکومتوں کی کارکردگی پر تبصرہ کرنے یا انہیں ہدف تنقید بنانے کا مینڈیٹ حاصل نہیںہے بلکہ ان کا کردار حالات کے مطابق اہم معاملات کی نگرانی اور صاف شفاف انتخابات کے لئے اقدام اٹھانا ہے جن میں الیکشن کمیشن کی ہر ممکنہ اقدام بھی شامل ہیں۔ ملک میں لوڈشیڈنگ کی حقیقت کے بارے میں جو اعداد وشمار گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں سامنے آئے ہیں اس کے بعد ہمارے خیال میں اب اس پرمزید بحث تفیع اوقات اور کج بحثی کے زمرے ہی میں شمار ہوگی اور اس کے باوجود گر کوئی محض اس معاملے پر پوائنٹ سکورنگ کرنے پر بضد ہے تو اس کی مرضی۔ اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر بھی نگران حکومت کو ہدف تنقید بنانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا جبکہ معیشت کے بڑے شعبوں میں گروتھ کی تصدیق کے بعد سابقہ حکومت کی پالیسیوں پر اظہار اطمینان کرنے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے۔ جہاں تک بجلی پیداوار کے حوالے سے سامنے لائے گئے حقائق کا تعلق ہے اس سے یہ نتیجہ نکالنا بڑی حد تک درست ہوگا کہ موجودہ صورتحال ڈیموں میں پانی کی کمی اور ٹرانسمیشن لائنز پر دبائو میں اضافہ ہے۔ بہر صورت اب یہ سیاسی رہنمائوں پر منحصر ہے کہ وہ نگران حکومت کے دیئے ہوئے ڈیٹا کو قبول کرتے ہیں یا پھر ایک دوسرے پر حسب روایت تابڑ توڑ حملے کرکے اپنا مقصد پورا کرتے ہیں۔ اس سے بڑی بد قسمتی ملکی سیاست کی اور کیا ہوگی کہ یہاں پر کوئی بھی سیاسی جماعت‘ انتخابات کے دنوں میں خصوصاً مخالف سیاسی جماعتوں پر تو جھوٹے سچے الزامات لگانے میں ساری توانائیاں ضائع کردیتی ہے لیکن عوام کو آنے والے دور کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنے میں اپنا واضح پروگرام نہیں بتاتی۔ اگرچہ اس بار بعض جماعتوں نے اپنے منشور عوام کے سامنے ضرور رکھ دئیے ہیں مگر ان میں جو وعدے کئے جا رہے ہیں ان پر آگے چل کر عمل درآمد میں جو دشواریاں ہوسکتی ہیں ان سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ وعدے بھی محض سراب کی حیثیت رکھتے ہیں او وعدوں کی حد تک ہی رہیں گے۔ عوام تو مجبور ہیں کہ وہ انہی سیاسی جماعتوں ہی میں سے اپنی پسند کی جماعتوں کو مینڈیٹ دے کر اقتدار سونپ دیتے ہیں مگر جب اقتدار کا ہما ان میں سے کسی کے سر پر بیٹھ جاتا ہے تو پھر یہ عوام سے کئے ہوئے وعدے بھول کر اپنے مفادات کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے ساتھ ایسے وعدوں سے گریز کی پالیسی اختیار کی جائے جو بعد میں پورے نہ کرسکتے ہوئے سیاسی قائدین کو شرمندگی کا احساس ہو اور پھر اگلے انتخابات میں ایک بار پھر مخالفین پر الزامات کی بوچھاڑ کرکے ملک کے اندر سیاسی اشتعال کو ہوا دینے پر مجبور ہونا پڑے۔

متعلقہ خبریں