Daily Mashriq


امریکہ کے مقابلے میں ایک نئے بلاک کی ضرورت

امریکہ کے مقابلے میں ایک نئے بلاک کی ضرورت

ایک طرف اگرامریکہ اُمت مسلمہ کے خلاف تخریبی سر گرمیوں میں ایک لیڈر کا کر دار ادا کر رہا ہے تو دوسری جانب امریکہ اپنے مفادات کی خا طر لاطینی امریکہ اور ایشیائی ممالک کے خلاف بر سر پیکار ہے۔جنوبی ایشیاء میں امریکہ کا بھارت کو زیادہ اہمیت دینا ، بھارت کو ایٹمی ٹیکنالوجی دینا اور انکے ساتھ کئی معاہدے کر نا ،اس بات کی غمازی کر تاہے کہ گویا امریکہ چین ، روس اور بھارت کی اُس ممکنہ بلاک کو ختم کرنے کی پیشگی کو شش کررہا ہے ، جس کا امریکہ کو پہلے سے ڈر ہے اورجو کسی وقت امریکہ کی ہمسری میں آسکتا ہے ۔امریکہ نے ہر ملک کے معاملات میں مداخلت کرنے اور Might is Right کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے ۔ مسلمان ممالک میں مدا خلت کی طرح امریکہ، لاطینی امریکہ کے ممالک برازیل، بولیویا، ارجنٹینا، چلی، کولمبیا، کوسٹاریکا، کیوبا، ال سلوا ڈور ، گوئٹے مالا، ہٹی، ھنڈورس، میسیکو، نکارا گووا، پانامہ، یو رو گوئے ، وینزویلا کے معاملات میں مدا خلت کر رہا ہے ۔ اور یہی ممالک امریکہ کی منفی پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ سے شدید نفرت کا اظہار کر رہے ہیں ۔ وینز ویلالاطینی امریکہ کے ممالک میںسب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا، پوری دنیا کا تیل بر آمد کر نے والا پانچواںاور امریکہ کو15 فی صدی تیل ایکسپورٹ کرنے والا ملک امریکہ کی آنکھوں میںکانٹے کی طرح کھٹکتا ہے ۔ امریکہ وینزویلا کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ امریکہ کی یہ کو شش ہے کہ کسی طریقے سے وینزیلا پر قابو پاکر اُسکے تیل اور قدرتی وسائل پر خلیجی مما لک کی طرح قبضہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میںوینز ویلا کے شا ویز نے کہا کہ امریکہ کسی طریقے سے میری حکومت ختم کر نے کی کوشش کر رہا ہے۔امریکہ جس نے ساری دنیا کو یر غمال بنایا ہوا ہے اور طاقت کے بل بوتے پر پوری دنیا پر حکمرانی کر رہا ہے کیا کوئی ایسی امید نظر آتی ہے جس کی وجہ سے دنیا امریکہ کی غلامی سے آزاد ہو کر امن اور محبت کا گہوارہ بن جائے۔ اگر عالمی سیا ست پر نظر ڈالی جائے تو اس کی شروعات تو ہو چکی ہیں مگر اب یہ اتنے زور و شور سے نہیں ،جیسے ہو نی چاہئے ،مگر پھر بھی ایشیائی اور لاطینی ممالک امریکہ کے پنجے سے نکلنے کی کو شش کررہے ہیں جسکی وجہ سے امریکہ کے منصوبہ ساز بہت زیادہ پریشان ہیں۔اب دنیا میں جو نیا Tripolar Order وجود میں آرہا ہے وہ یورپ، لاطینی امریکہ اور ایشیاء ہے۔لاطینی امریکہ کی بھی پوری کو شش ہے کہ وہ کسی صورت میں امریکہ کے چنگل سے نکل جائے۔ اور اسی لئے لاطینی امریکہ اور ایشیائی ممالک اپنے تعلقات کو وسیع کر نے کی کو شش کررہے ہیں۔ اگر یہ تین بلاک بن گئے تو امریکہ کا اثر رسوخ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود ہوکر رہ جائے گا۔کیونکہ امریکہ پہلے سے مشرق وسطیٰ میں Misadventurism میں ملوث ہے۔ دنیاکے کئی ممالک نے امریکہ کے منفی ، اوردوغلی پالیسیوں کے خلاف بغاوت کا اعلا ن کیا ہے اور کئی ممالک کی طرح چین نے بھی امریکہ کے خلاف مزاحمتی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ چین اب امریکہ سے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کر تا۔مگر امریکہ کو ڈر ہے کہ کہیں مُستقبل میں چین بڑی طاقت کے طور پر نہ اُبھرے ۔چین اور لاطینی امریکہ کی طرح سعودی عرب بھی اسی کو شش میں ہے کہ امریکہ کے چُنگل سے نکل کر سُکھ کا سانس لے۔ کیونکہ اگر دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کی طرح سعودی عرب تیل پر امریکہ کا قبضہ ہے ۔ ماضی میں سعودی عرب کے حکمرانوں نے چین کے دورے کئے اور اب امید کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری میں اضافہ ،تیل اور قدرتی گیس کی مد میں کئی معاہدے اور مفا ہمت کے یاداشت نامے متوقع ہیں۔دوسرے ممالک کی طرح ایران بھی امریکہ کی گرفت سے بچنے کے لئے اور امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈالنے کی پوری کو ششیں کر رہا ہے۔ایران پہلے سے اپنا زیادہ تیل چین کو سپلائی کر رہا ہے اور اسکے بدلے ایران چین سے اپنی دفاعی ضروریات کے لئے اسلحہ خرید رہا ہے۔جس طرح دنیا کے کئی ممالک امریکہ کی منفی پالیسیوں سے سخت نالاں ہیں بھارت کو بھی چاہئے کہ وہ امریکہ کی گرفت سے نکل کر ایسا لائحہ عمل اختیار کرے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ایسے تعلقات اُستوار کر ے، جس سے ایشیاء اور خاص طور پر جنوبی ایشیاء ترقی کی راہوں پر گا مزن ہو۔روزنامہ ھندو کے ایڈیٹر کہتے ہیں کہ اکیسویں صدی واقعی ایشیاء کی صدی ہے تو ایشیائی ممالک کو چاہئے کہ اپنی توانائی کی ضروریات کو خود پورا کریں تاکہ یہ خطہ علاقے میں کسی کا محتاج نہ رہے۔ بھارت اور چین نے کئی معاہدوں پر دستخط کئے جن میں دونوں ممالک نے نہ صرف ایک دوسرے کو ٹیکنالوجی دینے کی بات کی ہے بلکہ بھارت اور چین تیل کی مد میں ایک دوسرے کے ساتھ حد درجہ تعاون بھی کر تے رہیں گے۔یہ بھی بڑی خوش آئند بات ہے کہ ایشیائی ممالک تیل کی تجارت جو اب تک ڈالر میں ہو رہی تھی اور جسکا زیادہ فائدہ امریکہ کو ہو رہا ہے ، اب یہ ممالک یورو میں کر نے پر سوچ رہے ہیں جسکا زیادہ نُقصان امریکہ کو ہو گا۔اس قسم کی کو شش سے عالمی اقتصادی نظام پر اچھا ا ثر پڑے گا۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عرب ممالک ایشیاء اور لاطینی ممالک کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ امریکہ کے مقابلے میں ایک ایسا بلاک بنانے میں کامیاب ہوں جو دنیا کیلئے خوشیوں، کامیابیوں اور امن کی نویدثابت ہو ۔

متعلقہ خبریں