محمود وایاز

محمود وایاز

زندگی رشتے ناتے نبھانے کا نام ہے اور یہی رشتے ناتے نبھاتے نبھاتے ہی تو زندگی تمام ہوجاتی ہے۔رشتہ ناتہ صرف خاندانی رشتوں تک ہی محدود نہیںہوتا بلکہ ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ کہ جن کا ہماری زندگیوں میں کوئی نہ کوئی کردار یا حصہ ہوتا ہے وہ لوگ بھی اس رشتے یا ناتے کی ذیل میں آتے ہیں،اور اسی کو سماج کہتے ہیں۔انسان ایک وقت میں کئی حیثیتوں سے زندگی گزارتا ہے ۔ماں باپ کے لیے ہم اولاد،اپنے بچوں کے لیے ہم ماں یا باپ،ایک استاد کا اپنے شاگردوں کے ساتھ استادی شاگردی کا رشتہ،محلے میں محلے داری کا رشتہ، آپ جو بھی ہوں جب بازار میں داخل ہوتے ہیں تو اسی سمے آپ اس ہجوم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ رکشہ ڈرائیور کے لیے آپ ایک سواری ہی ہوتے ہیںچاہے آپ سماجی رتبے میں کچھ بھی ہوں۔یہاں تک کہ بازاروں میں گاہک اور خریدار کا رشتہ ناتہ بھی اسی سماجی ترتیب کا حصہ ہے۔اب ان رشتوں کے اپنے حقوق اور فرائض بھی موجود ہیں ۔انہی سماجی رشتوں کے حقوق و فرائض کو پوراکرنا ایک بہترین سماج کو جنم دیتاہے۔سماجی لین دین کا یہی ورتاوا کسی سماج کو آسودہ یا ناآسودہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ہم جس سماج میں رہتے ہیں وہاں رشتے ناتے کو خاندان یا کنبہ تک یاپھر اپنے ہم رتبہ لوگوں تک ہی محدودتصور کیا جاتا ہے ،جس سے آگے سوچنے کی ہم میں تب وتاب نہیں رہتی۔یہ مقام ہوتا ہے کہ جب خودغرضی عدم برداشت کے تعصبات جنم لیتے ہیں۔ہمیں اس بات پر بلاشبہ فخر کرناچاہیئے کہ ہم ایک اسلامی سماج میں سانس لیتے ہیں مگر مقام حیرت ہے کہ اسلام جس کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ایک عمدہ سماج جنم لیتا ہے۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محموود وایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
اس کی بڑی اور کیا مثال ہوگی۔صاحب اور ڈرائیوریامالک اورنوکر وضو کرنے کے بعد انسان کے بنائے ہوئے سماجی مراتب سے ماوراء ہوکر اللہ کی بنائی ہوئی مساویانہ سماجی ترتیب میں شامل ہوکر ایک ساتھ قیام ،رکوع اور سجود میں شامل ہوجاتے ہیں۔مگر مسجد سے نکلتے ہی واپس ہم انسان کی بنائی ہوئی ترتیب میں داخل ہوجاتے ہیں۔اب محمود صاحب اور ایاز غلام بن جاتا ہے۔ہم یہ بھی تسلیم کرلیتے ہیں کہ یہ خدا کی تقسیم ہے کہ کون مالک ہے اور کون خادم ۔ لیکن ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ اللہ ہی تو عزتیں اور ذلتیں دینے والاہے۔جومجھے مالک بناسکتا ہے تو کسی وقت بھی مجھے خادم بھی بناسکتا ہے۔خداکومان لینے کے بعد بھی کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم تعصب میں گرفتار ہوکر کسی اللہ کے بندے کوخود سے کمتر سمجھیں۔آفس پہنچنے پر ہم اپنے ہم منصبوں سے تو معانقے یا مصافحے کرلیتے ہیں لیکن اپنے پیون کا سلام بھی بادل نخواستہ برداشت کرتے ہیںحالانکہ وہ سب سے زیادہ ہماری خدمت کرتا ہے۔مگر کیاکیا جائے کہ یہ کام ہماری شان اور ہمارے رتبے کے خلاف ہوتا ہے۔ہمارے ماتھے کے بل اور ہمارا ستاہوا چہرہ ہمارے ماتحتوں کے نصیب میں لکھا ہوتا ہے جبکہ خوشامدسے کھلی ہوئی ہماری باچھیں ہمارے افسران کامقدر ہوتی ہیں۔میرے خیال میں یہ ایک غیر محسوس اور غیر شعوری قسم کی منافقت ہے کہ جو ہم سے روزانہ سرزد ہوجاتی ہے اور ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا۔یہاں تک کہ زیادہ عبادت گزار بھی کم عبادت گزار کو اپنی دانست میں کمتر تصور کرتاہے اب یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے ہاں کون زیادہ معتبر ہے۔رحمان باباکے الفاظ میں کہ ہم قبرستانوں میں سے گزر کر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے ۔مسئلہ یہاں ہے کہ جب انسان کا اپنا پوٹا پُراہوتو وہ خود کو مختارکل تصور کرنے لگتا ہے۔دوسرے کی بھوک اور پیاس اسے دکھائی نہیں دیتی،اور یہیں انسان خسارہ کرلیتا ہے۔ اور زندگی ہے بھی کیا سود اور زیاں کے علاوہ ۔کوئی ’’گٹا ‘‘کرگیا اور کسی کو تاوان ملا۔مگر یہ گٹا تاوان ہمارے اختیار ہی میں تو ہے۔مگر کیاکیاجائے کہ زندگی کے ذائقے اور مزے بندے کو خود سے باہر نکلنے نہیں دیتے ۔
یارب یہ کیا طلسم ہے ادراک وفہم یاں
دوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جاسکے
والی صورتحال ہے۔افسوس کہ جنہیں یہود ونصاراکہتے نہیں تھکتے وہ تو سماج کی بہتری میں ہم سے آگے ہیں مگر ہم اس عظیم ہستی کے امتی ہونے کے دعویدارسماج میں اب بھی اونچ نیچ کوسینے سے لگائے پھرتے ہیں۔وہ عظیم ہستی کہ جن میں تکبرنام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں۔جو سراپا محبت اور شفقت ہیں۔جواس دور کے سب سے پائمال طبقے کے نمائندے حضرت بلال ؓ کی کتنی تعظیم فرماتے تھے کہ وہ اللہ کے برگزیدہ تھے اور کلمہ گوتھے۔تبدیلی کے نعرے لگانے والے ہم تبدیلی کیسے لاسکتے ہیں جب ہم سماج کو تبدیل نہ کرسکیں ۔سماج کوحکومتیں نہیں بلکہ عوام خود تبدیل کرتے ہیں۔ہم جس کسی کونائی ،قصائی ، جولاہا ، کمہار، چمیار اور خداجانے کیسے کیسے کسبوں سے یاد کرکے ان کی تحقیر کرتے رہتے ہیں۔جب یہی کمہار ،چمیاربڑے پیمانے پر کام کرے تو اسے ہم بڑے فخر کے ساتھ انڈسٹریلسٹ کہہ دیتے ہیں۔سب کسب تو اللہ کے بنائے اور سکھائے ہوئے ہیں۔تقسیمیں تو ہم نے کردی ہیں ۔کتنے برگزیدہ پیغمبر مختلف کسب سے منسلک تھے کیاوہ خداکے ہاں برگزیدہ نہیں۔ شاید یہی ہماری قومی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہم انسان کواس کے سٹیٹس اور رتبے کے حوالے سے پرکھتے ہیں نہ کہ انسانی بنیادوں پر۔پھر تبدیلی کیسی کہ جس کی ہم تلاش میں ہے۔

اداریہ