Daily Mashriq

شہر میں عید کی تاریخ بدل جائے گی

شہر میں عید کی تاریخ بدل جائے گی

پشاور میں عید ، عیدسے پہلے آجاتی ہے، بازاروں میں عید کی آمد آمد کی رونقیں جشن کا سا سماں پیدا کردیتی ہیں ، تل دھرنے کوجگہ نہیں ہوتی، کھوے سے کھوا چھلتا رہتا ہے او ر لوگ ہر قیمت پر عید کی خوشیاں خریدنے میں مگن رہتے ہیں ، عید سے پہلے آنے والی اس عید کے بعد چاند رات آتی ہے ، لیکن سالہا سال کے تجربات کی بنیاد پرکہا جاتا ہے کہ پہلے رات آتی ہے اور پھر آدھی رات کے وقت عید کا چاند نکل آتا ہے، اور کبھی کبھی تو سحری کے وقت نکل آتا ہے عید کا چاند جو مجھے کیوں نکالا کا راگ الاپنے کی بجائے ، قاسم علی خان کی مسجد سے نکل کر سارے شہر اور مضافات میں عید چاند نکل آیا کی گرما گرم خبر بن کر پھیل جاتا ہے، لوگ چاند نکلنے کی خبر سن کر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور لاکھ پابندیوں کے باوجود آتشیں اسلحہ اٹھا کر تڑا تڑ گولیاں چلانے لگتے ہیں ، جن کے خوف سے عید سے پہلے والی عید دم دبا کر بھاگ جاتی ہے ۔عید کے چاند کو نکالنے میں ان لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے جو دور دور سے بسوں ، لاریوں ، ویگنوں ، سوزوںکیوں اور جانے اس قسم کی کتنی گاڑیوں پر چڑھ کر پشاور پہنچتے ہیں اور قاسم علی خان کی مسجد کے باہر جمع ہو کر چاند کے نکلنے کی شہادتیں پیش کرنے لگتے ہیں ، اور جب شہادتیوں کا تیر نشانے پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ جن گاڑیوں پر پشاور آئے ہوتے ہیں ان ہی گاڑیوں پر الٹے پاؤں اپنے گاؤں بھاگ جاتے ہیں اور یوں الا بلا پہ سر ملا کے مصداق اپنے گاؤں پہنچ کر عید کا چاند نکل آیا کا اتنے زور و شور سے اعلان کرتے ہیں کہ چاند بے چارا اتنا بھی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے کیوں نکا لااہالیان پشاور عیدالفطر کی صبح کا آغاز اپنے بزرگوں کی قبروں پر حاضری دینے یا صدقہ فطرانہ ادا کرنے سے کرتے ہیں ۔ اک بار صبح سویرے منہ اندھیرے کسی نے دروازے پر دستک دی،میں نے دروازہ کھولا ، ایک بھلا مانس کھڑا تھا ۔ السلام علیکم میرے منہ سے نکلا ، بھلے مانس نے میرے سلام کا جواب دینے کی بجائے اپنی بند مٹھی میری طرف بڑھا کر میری مٹھی گرم کرڈالی ، کیا ہے یہ ؟ میں نے سوال کیا ، فطرانہ۔ اس نے مختصر سا جواب دیا، یہ تو غریبوں کو دیا جاتا ہے، میں نے عرض کی ، تم وہی ہو نا جو اخبار میں کالم لکھا کرتے ہو، جی میں وہی ہوں، میںنے جواب دیا ، تو پھر رکھ لو نا، وہ اتنا کہہ کر تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے بزرگوں کے قبرستان کی جانب چل دیا ۔قبرستان پر حاضری یا فطرانہ کی ادائیگی کے بعد لوگ نئے کپڑے پہن کر عید کی نماز پڑھنے نکل جاتے ہیں ، مسجد میں نمازیوں سے عید ملنے کے بعد گلی محلہ کے لوگوں سے عید ملتے ملاتے نئے کپڑوں کی استری کی کریزوں کا ستیہ ناس کرکے گھر لوٹتے ہیں ،اور ہر روز عید نیست کہ سویاں خورد کسے کے منظر نامہ کا حصہ بن جاتے ہیں ، سویاں ، شیر خرمہ، مٹھائیاں ، میٹھی عید کے من بھاتے کھاجے اور پھر اس کے بعد عیدیوں کی تقسیم اور عیدیوں کے وصول کرنے کے دل افروز اور دل شکن منظر عید مبارک کے تبادلوں کا روپ دھار لیتے ہیں ۔بچے عیدیاں وصول کر کے مالدار ہوجاتے ہیں اور بڑے سوچتے رہ جاتے ہیں کہ جانے کس جرم کی سزا پائی ہے ، یاد نہیں پشاور شہر کی سڑکیں گلیاں اور بازار عید کے دن سنسان نظر آنے لگتے ہیں ، کہاں گئی عید جو عید سے پہلے آئی تھی ، میں نے عید کے پہلے روز شہر کے سناٹے میں پٹاخے چھوڑتے بچوں سے پوچھا لیکن وہ میری بات سمجھ ہی نہ سکے بھلا کیا جواب دیتے ۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا تو فوراً جواب مل گیا کہ جہاں سے آئی تھی ، وہا ں چلی گئی ، یعنی لوٹ گئی اپنے دیہاتوں کو شہر میں آئے ہوئے ان دیہاتیوں کے ہمراہ جو عید کا چاند نکالنے کے لئے آئے تھے ،وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے ، ہے خبر گرم ان کے آنے کی، جن کو ہم بی آرٹی کی تعمیرات و تخریبات کے پیش نظر کہتے رہتے ہیں
جو آسکو تو انہی پتھروں پہ چل کے آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
اس بارالیکشن لڑنے سے پہلے ان کا عید ملنے آنے کا قوی امکان ہے ، ہم فرش نگاہ کئے بیٹھے رہیں گے ان کے انتظار میں ۔ وہ اس عید پر نہ آئیں تو سمجھئے پھر کبھی نہیں آئیں گے ۔ نلکے کے اس پانی کی طرح جس کے متعلق کبھی ہم نے کہا تھا
محلے بھر کے لوگوں کی زباں پرہے بجا شکوہ
کہ پانی بھول کر آتا نہیں ہے ان کے نلکے میں
ادائے لیڈرانہ جانے اس نے کس سے سیکھی ہے
نہیں آتا یہ نلکے میں ، نہیں آتا وہ حلقے میں
کسی روزہ نہ رکھنے والے پنجابی سے کسی نے پوچھا کہ بھئی تم رمضان کے روزے کیوں نہیں رکھتے جس کے جواب میں وہ دھڑلے سے کہنے لگا کہ رمضان جانے اور پٹھان جانے ، پوچھا عید مناتے ہو، جس کے جواب میں کہنے لگا عید بھی مناتا ہوں اور سویاں بھی جی بھر کے کھاتا ہوں آخر مسلمان بھی تو کہلوانا ہے نا۔اللہ کی مہربانی سے اس بار رمضان المبارک کا ایک ہی چاند نظر آگیا ، ورنہ جس مہینے ایک کی بجائے دو دو چاند نظر آتے ہیں پشاور کے لوگ ایک دوسرے کو کہتے رہتے ہیں کہ ، ہمارا اتناواں روزہ ہے تمہارا کتناواں ہوگا ، جس طرح سالہا سال بعد ایک ہی شام رمضان کا چاند نکلا، اللہ کرے عید کا چاند بھی ایک ہی شام نظر آئے ۔
ماہ نو دیکھنے تم چھت پہ نہ جانا ہرگز
شہر میں عید کی تاریخ بدل جائے گی

اداریہ